ایاز امیر نے بڑی خبر دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میرا خیال پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ افغانستان کے بارے میں ہمارے بیشتر مفروضے اور اندازے غلط بنیادوں پہ مبنی ہیں۔ سب سے غلط خیال تو یہ ہے کہ افغانستان میں پھر بدامنی چھڑ سکتی ہے۔ آپسی لڑائی یا اِس قسم کی صورتحال کیلئے

دو برابر کے فریقوں کا ہونا ضروری ہے۔ برابر کا فریق وہاں کوئی ہے نہیں۔ جو امریکہ سے نہیں ہارے اُنہیں ہرانے والا افغانستان میں کوئی اور نہیں رہا۔تالبان بھی دیکھیں کیا کرر ہے ہیں۔ افغانستان کا بہت سا علاقہ اُن کے کنٹرول میں آچکا ہے لیکن پھر بھی پہلے وہ اِس بات کا یقین کررہے ہیں کہ اُن کاقبضہ اُن علاقوں پہ ہو جائے جہاں گزرے دور میں اُن کا کنٹرول نسبتاً کمزور تھا۔ پرانی تالبان حکومت کے خلاف مزاحمت احمد شاہ مسعود کے شمالی اتحاد نے کی تھی۔ اب کی بار تالبان کی کوشش لگتی ہے کہ شمالی علاقے اُن کے کنٹرول میں آئیں۔ اِس کے برعکس بڑے شہروں کی طرف پیش قدمی آہستہ آہستہ ہورہی ہے۔ دکھائی یوں دے رہا ہے کہ تالبان کو کوئی جلدی نہیں کہ وہ کابل پہ قبضہ کریں۔ یہ حکمت عملی تو ایسے لگتی ہے جیسے چیئرین ماؤ کی قیادت میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی چین کی قومی تحریک میں تھی کہ پہلے دیہی علاقوں پہ قبضہ کرو اور پھر شہروں کی طرف آؤ۔ ابھی تو جولائی کا مہینہ ہے اور امریکی انخلا نے اگست کے آخر تک مکمل ہونا ہے۔ اِس ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ امریکی انخلا پہ امریکہ میں کوئی شور نہیں مچ رہا۔ وہاں کوئی آوازیں نہیں اُٹھ رہیں کہ افغانستان کو اپنے حال پہ چھوڑا جا رہا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے تمام چیزیں ایک طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت ہو رہی ہیں۔ (ہمارے دوست خالد مسعودکا کل کا کالم اِنہی لائنوں پہ تھااور شاید میں اُن کے تجزیے سے متاثر بھی ہوا ہوں)۔

صورتحال تو ایسی بن گئی ہے کہ یہ محض مہینوں کی بات ہوکہ تالبان کا کنٹرول پورے افغانستان پہ ہو جائے۔ ایک اور بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ جنگی حکمت عملی تو اپنائی جا رہی ہے لیکن بدامنی کے واقعات میں واضح کمی آ گئی ہے۔ شہروں کا محاصرہ ہورہا ہے، علاقے تالبان کے کنٹرول میں آرہے ہیں لیکن پہلے جیسے واقعات نہیں ہورہے‘ یعنی ایک لحاظ سے افغانستان افراتفری کے بجائے استحکام کی طرف جا رہا ہے۔ بدامنی کے واقعات رونما نہیں ہورہے۔ جنہیں ہم وارلارڈ (warlord) کہتے ہیں ایسے کوئی سامنے نہیں آرہے۔ بس آہستہ آہستہ تالبان اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ چیلنج توتالبان کو درپیش ہوگا کہ وہ صرف پختونوں کی تحریک نظر نہ آئے اور افغانستان کی مختلف قومیتیں بھی اس میں شامل ہوں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ صرف پختونوں کی حکومت کابل میں قائم ہواور ایسی حکومت میں تاجک، ہزارہ اور اُزبک کی کوئی نمائندگی نہ ہو۔ تالبان کے سامنے سب سے بڑا امتحان ہی یہ ہے کہ اِن قومیتوں کو اپنے ساتھ ملائیں۔موجودہ تالبان کا قبضہ جب افغانستان پہ ہو جائے گاتو اُن کی ترجیح قومی تعمیر ہوگی کہ کیسے افغانستان میں انارکی ختم ہو اور استحکام آئے۔ آج کے تالبان نے پرانے نعرے نہیں لگانے۔ یہ لوگ آئسز کو افغانستان میں بالکل برداشت نہیں کریں گے۔ ایسے عناصر کا سختی سے قلع قمع کیا جائے گا‘ اور تالبان حکومت کی یہ ترجیح بھی ہوگی کہ تمام ممالک کے ساتھ اچھے نہیں تو نارمل تعلقات استوار کئے جائیں۔ روس، چین، ایران اور پاکستان سے نارمل تعلقات رکھے جائیں گے

حتیٰ کہ ہندوستان سے بھی تعلقات بہتر ہوں گے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اِتنی سخت لڑائی نہیں لڑی جتنی کہ اُس کی ویتنام سے لڑائی تھی۔ افغانستان میں اس بربریت کا عشرِعشیر بھی نہیں ہوا جو امریکیوں نے ویتنام میں روا رکھا‘ لیکن آج امریکہ اور ویتنام کے تعلقات بہترین ہیں۔ دونوں کی مخاصمت ایک دوسرے سے نہیں بلکہ چین سے ہے۔ اِس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے میرا اندازہ ہے کہ امریکیوں اور تالبان میں تعلقات نئی بنیادوں پہ استوار ہو جائیں گے۔ہمارا یہ خدشہ شاید مبالغے پہ مبنی ہو کہ ایک بار پھر مہاجرین کا ریلا اِس طرف آئے گا۔ ایسا تب ہو اگر افغانستان میں اندرونی لڑائی کے حالات پیدا ہوں اور بدامنی شروع ہو جائے۔ جس طریقے سے تالبان کا کنٹرول افغانستان پہ بڑھ رہا ہے ایسی صورتحال کا خطرہ کم ہوتا نظر آتا ہے۔ہمیں ایک چیز سے پرہیز کرنی چاہئے اور وہ ہے فضول کی بیان بازی۔ نیک تمناؤں کا اظہار کرنا کوئی جرم نہیں‘ لیکن اِس سے زیادہ کا کہنا ہمیں جچتا نہیں۔ تالبان حکومت جب قائم ہوگی ہمیں اُس کے ساتھ رہنا ہوگا۔ ہمارا ماضی میں جو بھی کردار رہا ہوکسی تالبان حکومت نے ہماری ضرورت سے زیادہ نہیں سننی۔ وہ برابر کے تعلقا ت کے خواہاں ہوں گے اور ہماری بھی یہی کوشش ہونی چاہئے کہ برابری کے تعلقات ہوں۔ دو مسائل البتہ ہمارے تالبان سے ہوں گے۔ ایک تحریک تالبان پاکستان کے حوالے سے۔ کیا اِس تحریک کو وہاں جگہ اور حفاظت ملتی رہے گی اور کہیں وہ ہمارے خلاف تو استعمال نہ ہو گی؟ ہمیں اِس پہلو پہ دھیان دینا ہوگا۔ دوسرا مسئلہ افغانستان کے ساتھ دیرینہ مسئلہ ہے‘ ڈیورنڈ لائن کا۔ افغانستان میں کوئی مکتب فکر ایسا نہیں ہے جو ڈیورنڈ لائن کی حیثیت کو تسلیم کرے۔ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ تالبان یہ مطالبہ کریں گے کہ ہندوستان کے ساتھ تجارت کے لیے پاکستان راہداری کی سہولت فراہم کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *