ایاز امیر کا خصوصی سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کسی حکومت کی کارگزاری پہ لاکھ تنقید ہوسکتی ہے۔ اگلے روز مجھے اتفاق ہوا ذوالفقار علی بھٹو کی ایک 1973ء کی تقریر سننے کا‘ جب انہیں اقتدار میں آئے بمشکل ایک سال ہواتھا۔ تقریر میں وہ استدلال دئیے

جارہے تھے کہ مہنگائی کی ساری کی ساری ذمہ داری اُن کے کندھوں پہ نہیں ڈالی جاسکتی۔ کہنے کا مطلب یہ کہ ہر حکومت کو مسائل کا سامنا ہوتاہے، خاص طورپہ ہمارے جیسے ممالک میں جہاں حکومتیں چیلنجز میں گھری رہتی ہیں۔ قیمتوں کے مسئلے میں موجودہ حکومت سے حماقتیں بھی سرزد ہوئی ہیں‘ لیکن ایک بات ماننا پڑے گی کہ بنیادی مسئلوں پہ جہاں حکومت ڈٹی ہوئی ہے‘ وہیں کھڑی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایک مثال ہیں۔ ہمارے لئے یہ نہایت ہی حساس معاملہ تھا‘ لیکن یہ اچھی بات نہیں ہوئی کہ عمران خان نے کوئی معذرت خواہانہ انداز نہیں اپنایا؟ پسینے حکومت کے نہیں چھوٹے۔ وَقتی دِقت ضرورہوئی لیکن اُسے عبور کرلیا گیااور اب تعلقات میں بہتری کے اشارے مل رہے ہیں۔ کسی کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بنیادی طور پہ وزیراعظم اکڑ خان قسم کا آدمی ہے۔ مزاج آمرانہ ہے۔ ساری زندگی کسی کے پریشر میں نہیں آیا، کرکٹ کی کپتانی اپنے انداز میں کی، کیا اُس نے اِن پی ڈیم والوں کے پریشر میں آناہے؟ ایک لحاظ سے یہ پی ڈی ایم کی تھکی ہوئی تحریک حکومت کیلئے اچھی ثابت ہوئی ہے۔ حکومت کی چال میں زیادہ پھرتی اورتیزی آگئی ہے۔ تھکی ہوئی اپوزیشن جماعتیں لگتی ہیں۔ ابھی توسال کاآغاز ہوا ہے۔ سال کے ڈھلتے ڈھلتے اپوزیشن کی تھکاوٹ پتا نہیں کن انتہاؤں کو چھونے لگے۔ سیاست میں بنیادی نکتہ کسی ایشو کا ہونا ہے۔ پی ڈی ایم والوں کے پاس کوئی ایشو نہیں۔ عوام نے ان کی بات پہ کیا دھیان دینا ہے۔

Comments are closed.