ایاز امیر کے انکشافات نے (ن) لیگیوں کو شرمندہ کردیا

لاہور (ویب ڈیسک)سینئرتجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بے شک احتجاج پاکستانی سیاست کا حصہ ہے ، لیکن کیامیڈیا کے پاس سیاسی موضوع کے علاوہ کوئی ایشو نہیں ، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو دوبارہ زندہ کرنا عمران خان کا کارنامہ ہے ۔ پروگرام ‘‘تھنک ٹینک ’’کی میزبان سیدہ عائشہ ناز سے گفتگو کرتے ہوئے

سینئر تجزیہ کا ر ایاز امیر نے کہا ہے کہ اس بات پر رونا آتا ہے کہ ان موضوعات کے علاوہ ہمارے پاس کوئی ایشو نہیں،ایک رٹا روزانہ دوہرایا نہیں جاسکتا،پاکستان کا مسئلہ مہنگائی ہے ، پاکستان میں بے شمار ایشوزاور بھی ایشوز ہیں جن کو میڈیا دیکھتا ہی نہیں ہے ،یہاں تعلیم کے مسائل ہیں،صحت اور انصاف کا مسئلہ ہے ،نواز شریف بارے حکومت کی باتیں سن سن کر کان پک گئے ہیں۔کیپٹن صفدر کو بنی گالہ کی جانب منہ کرکے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرنا چاہئے ،رائیونڈ میں ان کو اتنی اہمیت نہیں دی جتنی حکومت دے رہی ہے ۔عمران خان میں فیصلہ کرنے کی سوچ ہی نہیں ،جو پلیٹ لٹس گرنے پر ڈر گئے وہ لندن سے کیا لائیں گے ۔ نجی ٹی وی چینل کے ایگزیکٹو گروپ ایڈیٹر سلمان غنی نے کہا ہے کہ جو بیانات عمران خان اپوزیشن میں دیتے تھے اب وہی بیانات اپوزیشن دے رہی ہے ،پاکستان کے مسائل بہت ہیں، گورننس بہتر ہوجائے تو مہنگائی پر قابو پایا جاسکتا ہے ،حکومت نے کوئی پیش رفت نہیں کی ،پہلے سیاسی قوتوں میں کوئی نا کوئی ثالثی کرتا تھا اب کوئی تیار نہیں،وزیر اعظم کے انٹرویوز سے تو لگتا ہے کہ وہ ڈراوا دینےپر اتر آئے ہیں۔مسئلے پارلیمنٹ میں حل ہوتے ہیں۔نواز شریف واپس آگئے تو حکومت کیلئے نیا بحران شروع ہوجائے گا۔ ماہر سیاسیات ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا کہ حکومت مہنگائی کو قابو کرنے اور نواز شریف کو لانے میں کامیاب نہیں ہوگی ، بیانات دینے والوں کا مسئلہ مہنگائی نہیں،میڈیا سیاستدانوں کے سخت بیانات کو پروجیکشن دینا بند کردے تو یہ ٹھنڈے پڑ جائیں گے ۔ سیاسی جماعتوں کے اختلافات کا حل پارلیمنٹ میں ہوتا ہے ،اگر پارلیمنٹ میں یہ معاملات حل نہیں ہوں گے تو تیسری قوت آگے بڑھے گی۔ ترکی اور انڈونیشیا میں سیاست آگے بڑھی تو آمریت کا راستہ رک گیا۔پاکستان میں چہرے نہیں بدلتے سیاسی لیبل بدلتے ہیں۔نواز شریف کی واپسی کیلئے برطانوی وزیر اعظم ذاتی فیصلہ نہیں کرسکتے ،ان کو قانون سے رابطہ کرنا پڑے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.