ایاز امیر کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) پی ڈی ایم والوں سے پوچھا جائے کہ اب ایسا کون سا مسئلہ ہے جس کی بناء پہ عوام 1968ء اور 1977ء کی یادیں تازہ کر دیں گے؟ پی ڈی ایم تو ایک یرغمالی ٹولہ ہے جسے ایک طرف سے مریم نواز اور دوسری طرف سے مولانا فضل الرحمن نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔

نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دونوں کا مسئلہ سمجھ میں آتا ہے۔ نواز شریف اور اُن کی دختر اپنی تکلیفوں کا موجب عمران خان کو سمجھتے ہیں۔ مولانا صاحب بھی دل جلے بیٹھے ہیں کیونکہ کے پی میں اِن کی جو سیاسی اجارہ داری ہوا کرتی تھی اُسے عمران خان نے آکے ختم کیا ہے۔ نواز شریف اور مولانا صاحب کا لہجہ ایسا ہو چکا ہے کہ گمان گزرتا ہے‘ عمران خان سے اُن کی دشمنی اب سیاسی سے زیادہ ذاتی نوعیت کی ہو گئی ہے۔ اِن کا بس چلے تو ہر وہ چیز کرنے کو تیار ہیں‘ جس سے عمران خان کا اقتدار ختم ہو‘ لیکن پوچھنے کی بات یہ بنتی ہے کہ اگر لڑائی آپ کی ذاتی نوعیت کی بن چکی ہے تو عوام آپ کا ساتھ کیوں دیں؟ دولت نواز شریف اور اُن کی فیملی نے بنائی۔ نیب کے مقدمات آپ کے خلاف ہیں۔ یہ کوئی ایشو بنتا ہے کہ ایسی بنیادوں پہ ایک زمین ہلا دینے والی عوامی تحریک بھڑک اُٹھے؟اب اِن کی زبان پہ اسٹیبلشمنٹ کا لفظ آیا ہوا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے یہ کیا اور وہ کیا اور ہم پہ ایک ‘سلیکٹڈ‘ کو ٹھونس دیا۔ پچھلے سال کے آخر میں توسیع کا بل آیا جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا مفاد اُس سے جکڑا ہوا تھا۔ بل پیش ہوا تو آج جمہوریت کے نعرے لگانے والوں نے اس کمال کی تابعداری دکھائی کہ خود اسٹیبلشمنٹ والے حیران ہو کے رہ گئے ہوں گے۔ جمہوریت کے سرفروشوں نے سلیوٹ نہیں کیا باقی سب کچھ کیا۔ آج قوم کو بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہم انقلابی اور مزاحمتی بن چکے ہیں۔ بیوقوف سے بیوقوف آدمی بھی دیکھ سکتا ہے کہ اُس تابعداری کا صلہ‘ جو جمہوریت کے سرفروش سمجھتے تھے اُن کا حق بنتا ہے‘ نہیں ملا۔ نیب مقدمات ختم نہیں ہوئے۔ اِس سے ہٹ کے اور لڑائی کیا ہے؟ لیکن قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش مسلسل کی جا رہی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.