ایران نے سپین سے سابق سفیر کا پلے بوائے بیٹا واپس مانگ لیا ،

تہران (ویب ڈیسک) ایران نے سپین سے کہا ہے کہ وہ ایک ریٹائرڈ ایرانی سفارت کار کے بیٹے کو ملک بدر کر کے ایرانی تحویل میں دیں۔ ساشا صبحانی نامی 33 سالہ یہ شخص سوشل میڈئا پر اپنا پرتعیش رہن سہن دیکھانے کے لیے مشہور ہے۔ایران نے ساشا صبحانی پر جوئے کی غیر قانونی ویب سائٹیں

چلانے اور منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے تھے اور اسی سلسلے میں وہ حال ہی میں میڈرڈ کی ایک عدالت میں پیش ہوئے۔ساشا صبحانی نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور عدالت سے کہا ہے کہ اگر انھیں واپس ایران بھیجا گیا تو اس بات کا امکان ہے کہ ان کے ساتھ غلط سلوک کیا جائے گا ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایرانی حکومت ان سے اس لیے نالاں ہے کیونکہ انھوں نے اپنے 26 لاکھ فالورز والے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے حکومت پر تنقید کی تھی۔ساشا صبحانی نے اپنا بیشتر بچپن ایران سے باہر گزارا کیونکہ ان کے والد بطور ایرانی سفارتکار مخلتف ممالک میں تعینات رہے جن میں آرمینیا، گیبون، اور وینزویلا شامل تھے۔انھوں نے ہسپانوی اخبار ایل منڈو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب ان کے والد نے 2006 میں وینزویلا میں اپنا عہدہ چھوڑا اور اس وقت اریان کے قدامت پسند صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت میں بطور نائب وزیرِ خارجہ بننے کے لیے ایران لوٹے جبکہ ساشا خود وینزویلا میں ہی رک گئے۔بعد میں ساشا ایران لوٹے اور انھوں نے وہاں پر ’ایران کے امیر بچے‘ کے نام سے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ بنایا جس میں وہ دارالحکومت میں امرا کے طرزِ زندگی کو عکس بند کرتے تھے۔انھوں نے وہاں ریوو پارٹیز کا اہتمام جس کی وجہ سے ان کے اور حکام کے درمیان مسائل پیدا ہوئے۔ انھیں گرفتار کیا گیا، اور قید میں بھیجا گیا تاہم بعد میں وہ ترکی جانے میں کامیاب ہوگئے۔دو سال قبل وہ سپین منتقل ہوئے جہاں انھوں نے کم کپڑوں میں خواتین، مے نوشی ، تیز کاروں، اور پرائیویٹ

جیٹ طیاروں سے لیس اپنے پرتعیش طرزِ زندگی کی تصاویر شیئر کرنا شروع کر دیں۔انھوں نے اپنے فارسی بولنے والے ان فالورز کی ویڈیوز بھی شیئر کیں جو کہ تہران میں حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔ساشا کا کہنا ہے کہ ’میں اس حکومت پر تنقید کرتا ہوں۔ ان کے پاس جو آزادی نہیں اس پر تنقید کرتا ہوں۔ میں انھیں بتاتا ہوں کہ کیسے رہنا چاہیے اور کہتا ہوں کہ آپ بھی ایسے رہ سکتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ایران ایک سینیئر اہلکار کے بیٹے کو ایسی باتیں نہیں کرنے دے سکتا۔‘گذشتہ ہفتے ہسپانوی حکام نے ایرانی درخواست پر عمل شروع کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ساشا صبحانی جوئے کی ویب سائٹیں چلاتے ہیں جو کہ ایران سے باہر قائم ہیں مگر ایرانی قانون کے مطابق غیر قانونی ہیں ساشا صبحانی نے عدالتی پیشی میں کہا کہ وہ ایسے کسی کام میں ملوث نہیں ہیں تاہم ان کے ایسی ویب سائٹوں کی تشہیر کرنے کے معاہدے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ ایران کی جانب سے انھیں تحویل میں دیے جانے کی درخواست کا بھی قانونی مقابلہ کریں گے۔دسمبر میں ایرانی پولیس نے کہا تھا کہ انھوں 30 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جو کہ ’جوئے کے فلیڈ میں کام کر رہے تھے۔‘ اطلاعات کے مطابق ان میں کچھ انسٹاگرام فالورز بھی شامل تھے۔ایران کے سنٹرل بینک نے بھی خبردار کیا ہے کہ 70000 ایسے افراد کی فہرست حکام کو دی گئی ہے جو کہ جوا کھیلتے ہیں۔ بینک کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے اس حوالے سے تنبیہ کو رد کیا اور کے خلاف کارروائی ہوگی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *