ایسا واقعہ جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

حضور ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی فاطمہؓ کو نہایت سادگی کے ساتھ رخصت کیا تھا اور اس مبارک جوڑے کی نئی زندگی کیلئے تمام لوازمات کا اہتمام بھی نہایت سادگی اور وقار کے ساتھ ہوا تھا. روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ جب حضور ﷺ نے حضرت فاطمہؓ کیلئے حضرت علیؓ کا رشتہ قبول فرمایا

تو ان سے پوچھا کہ تمہارے پاس اپنی اہلیہ کے جہیز کیلئے کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کیا ”میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میرے اسباب میں صرف میری تلوار، زرہ اور ایک اونٹ ہے.“ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری تلوار کی ضرورت دشمنان اسلام کے خلاف ہوگی اور تم اپنے اونٹ کو کھجور کے باغات کو پانی دینے اور سفر کیلئے استعمال کرو گے، لہٰذا تم صرف اپنی زرہ کو وقف کرسکتے ہو اور میں اسی کے بدلے اپنی بیٹی فاطمہؓ کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دیتا ہوں. آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کی زرہ کی فروخت کا حکم دیا اور اس کے بدلے تقریباً 500 درہم حاصل ہوئے . اس رقم کو تین حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ بلالؓ کے حوالے کیا گیا تاکہ وہ اچھی خوشبو خرید کر لائیں جبکہ باقی دو حصے ملبوسات اور گھریلو اشیاءکی خریداری کیلئے استعمال ہوئے.

Sharing is caring!

Comments are closed.