ایسی تاریخ قائم ہونے والی ہے جسکی دنیا مثال دے گی ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے سابق افسر اورمشہور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔افغانستان آزاد ہو چکا ہے…… اس سے پہلے وہ کہنے کو تو ایک آزاد ملک تھا لیکن اصل میں گرفتار تھا۔ اس آزادی اور گرفتاری کی ایک طویل داستان ہے جو صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے۔

دنیا کی تینوں جدید سپرپاورز (برطانیہ، سوویت یونین، امریکہ) نے باری باری افغانستان کو زیرِ نگیں لانے کی کوشش کی لیکن ہر بار منہ کی کھائی۔ تینوں سپرپاورز کی افغان وارز کا دورانیہ مختلف رہا لیکن نتیجہ ہر ایک کی شکست، ناکامی، رسوائی اور تذلیل کی صورت میں نکلا۔ کہا جا سکتا ہے کہ جتنا طویل قبضے کا دورانیہ تھا اتنی ہی زیادہ ذلت قابض کے ’نصیب‘ میں آئی۔ امریکہ اب یہاں سے انخلا کے بعد بھی اپنی سی کوشش کر رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس آزاد مملکت کو اپنے حلقہ ء اثر میں رکھا جائے۔ وہ آئندہ بھی ایسا کرتا رہے گا۔ اس کا اصل مقابلہ تو چین کے ساتھ ہے کہ اس 20سالہ لڑائی کے بعد امریکی پسپائی کا فائدہ گیر (Beneficiary)چین ہے۔ لیکن چین کے فائدے کے ساتھ افغانستان کا اندرونی امن و استحکام وابستہ ہے۔ اس موضوع پر قارئین میڈیا کو سن سن کر اور پڑھ پڑھ کر بور ہو چکے ہیں اس لئے میں صرف اتنا اور عرض کروں گا کہ چین سے زیادہ فائدہ گیر پاکستان ہے۔پاکستان کی مغربی سرحد محفوظ ہو چکی ہے۔ ”را“ اور ”CIA“ وغیرہ کے سپائلرز (Spoilers)رفتہ رفتہ ختم ہوتے چلے جائیں گے۔ پاکستان کی انتظامیہ (سول اور ملٹری) جس کورس پر گامزن ہے اس کے نتائج بڑے مثبت نکل رہے ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی نکلتے رہیں گے۔ مغربی سرحد پر ہمارے جانی اور مالی نقصانات بتدریج پہلے کم اور پھر ختم ہو جائیں گے اور یہ خطہ ایک الگ حیثیت کا حامل بن جائے گا۔ خطے سے میری مراد افغانستان کے ہمسائے (پاکستان، ایران، ترکمانستان، تاجکستان، ازبکستان اور چین) نہیں بلکہ صرف پاکستان اور افغانستان دو ممالک ہیں۔ آنے والے ایام میں دنیا ”پاک افغان“ خطے کے ان دونوں ملکوں کو جڑواں بھائی سمجھنے پر مجبور ہو گی۔ افغانستان میں چین کی آمد، CPEC میں افغانستان کی شمولیت، وسط ایشیائی ریاستوں سے رسل و رسائل کی آسانیاں، ان ریاستوں میں مدفون اور موجود معدنی اور غیر معدنی خزانے اور افغانستان کی داخلی تعمیر و ترقی میں پاکستان اور چین کا حصہ اس ”پاک افغانستان خطے“ کو ایک نئی انقلابی تبدیلی سے ہمکنار کر دے گا۔

Comments are closed.