ایسی تحریر جو آپ کا موڈ ہرا بھرا کر دے گی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کراچی کی، یہاں کی لڑکیوں کی بھی اپنی ادائیں اور اپنی وفائیں ہیں۔۔ہر علاقے کی لڑکی کا اپنا الگ لائف سٹائل ہے، کورنگی، لانڈھی، ملیر، شاہ فیصل کالونی، بلدیہ، نیوکراچی کی لڑکیوں کے بولنے کے انداز سے پتہ لگ جاتا ہے

کہ ان کا تعلق کسی مضافاتی علاقے سے ہے، ڈیفنس، کلفٹن، گلشن اقبال وغیرہ کی لڑکیوں کے ہرجملے میں انگریزی کا اتنی کثرت سے استعمال ہوتا ہے کہ اگر اتنی کثرت سے وہ عربی کا استعمال کرلیں تو یقینی طور پر جنت ان پر واجب ہو جائے۔ مضافاتی علاقے کی لڑکی ہو یا کسی پوش علاقے کی۔۔محبت تو سب ہی کرتی ہیں۔۔ مضافاتی لڑکیوں کی اپنے بوائے فرینڈز سے فرمائشیں بھی بالکل منفرد ہوتی ہیں۔۔ ایک لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ سے کہا۔۔ جانو میکڈونلڈز پر لنچ کرادو ناں۔۔ لڑکے نے کہا،تم میکڈونلڈز کی اسپیلنگ بتادو تو لنچ پکا بلکہ گھروالوں کیلئے پارسل بھی کرادوں گا۔۔لڑکی تھوڑی سے گھبرائی پھر کہنے لگی، چلو کے ایف سی پر ہی کچھ کھلادو۔۔لڑکے نے کہا، اگر تم یہ بتادو کہ کے ایف سی کس کا مخفف ہے تو جو بولوگی وہ کھلاؤں گا۔۔ لڑکی تھوڑی مزید پریشان ہوئی، کہنے لگی۔۔چلو پھر سٹوڈنٹ کی بریانی ہی کھلادو۔۔لڑکے نے کہا، سٹوڈنٹ کا مطلب بتادو تو جتنی مرضی بریانی کھانا گھر والوں کیلئے بھی لے آنا۔۔لڑکی کے چہرے سے ہوائیاں اڑنے لگیں۔۔ بولی۔۔ مزیدار حلیم ہی کھلادو برنس روڈ سے۔۔ تو لڑکا بولا۔۔اگر برنس روڈ بالکل ٹھیک ٹھیک لکھوگی تو حلیم لازمی کھلاؤں گا۔۔لڑکی تنگ آکر بولی۔۔چل رہنے دے،پھر گٹکا ہی کھلادے جیب سے نکال کر۔۔لڑکا خوش ہوکر بولا۔۔جانو ایک ہی ہے آدھا آدھا کھالیتے ہیں۔ پوش علاقے کی لڑکیوں مضافاتی لڑکیوں سے کچھ زیادہ ہی تیزطرار ہوتی ہیں، جس کی وجہ تعلیم کا نظام ہے، پوش علاقوں میں چونکہ مہنگے انگریزی تعلیمی ادارے ہوتے ہیں جہاں پڑھائی زیادہ اچھے انداز میں ہوتی ہے اسی لئے وہ کچھ زیادہ ذہین ہوتی ہیں، جب کہ مضافاتی علاقوں میں نام نہاد انگریزی سکولوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ کوئی لڑکی اگر وہاں سے میٹرک کرلے تو پھر اگلے ہی سال وہ اسی سکول میں میٹرک کے طلبا کی ٹیچر ہوتی ہے۔ پوش علاقوں کے انگریزی سکولوں کی ٹیچرز کی کم سے تنخواہ دس ہزار ہوتی ہے جب کہ مضافاتی سکولوں کی ٹیچرزکی کم سے کم تنخواہ ایک ہزار روپے ہوتی ہے، اس سے نظام تعلیم کے بنیادی ”فرق“ کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔بددیانت لوگوں سے کبھی وفا کی اُمید مت رک

Comments are closed.