ایسی تفصیلات کہ آپ عش عش کر اٹھیں گے

لندن(ویب ڈیسک) موٹر وے پر ملنے والا افغان لڑکا ایک مہربان خاندان کی پناہ میں آنے کے بعد آرکیٹکٹ بن گیا۔خبر کے مطابق سلمان خان نامی یہ افغان لڑکا جو اب 25 سال کا ہوچکاہے جب موٹر وے پر ملاتھا تو وہ انگریزی بالکل نہیں بول سکتاتھا ،وہ 6 ماہ تک برف پوش راستوں اور

پہاڑوں پر سفر کرتے ہوئے برطانیہ پہنچاتھا۔ برطانوی موٹر وے پر ملنے کے بعد اسے پولیس اسٹیشن لے جایاگیاجہاں سے اسے لیسسٹر شائر کے ایک مہربان خاندان کے حوالے کردیا گیا ہے،لیسسٹر سٹی کونسل کاکہناہے کہ سلمان خان کی کہانی بہت ہی قابل تقلیدہے ،وہ افغانستان میں اسکول تعمیر کرنا چاہتاہے کیونکہ اس کاکہناہے کہ افغان ایک لڑائی زدہ ملک ہے اور کسی نہ کسی کو اس کی تعمیر کرنی ہے یہی وجہ ہے کہ میں نے آرکیٹیکچر کے شعبے کاانتخاب کیاتھا،اس کا کہناہے کہ میرے ایک دوست نے کہاہے کہ میں اسکول تعمیر کروں اور میں اس کاڈیزائن تیار کروں گا ،افغانستان میں اپنی فیملی کو چھوڑ کر اجنبی لوگوں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے سلمان خان جب برطانیہ پہنچا تو اسے عارضی طورپر چند ہفتوں کیلئے دیکھ بھال کیلئے رکھا گیاتھا جس کے بعد اسے بلیبی کے ایک خاندان کے حوالے کردیاگیا اس نے اپنے دوستوں ،سوشل ورکرزاور اپنے منہ بولے والدین سے انگریزی سیکھی ،ابتدائی تعلیم سائوتھ وگسٹن ہائی اسکول سے حاصل کی جس کے بعد اس نے گوتھلاکسٹن کالج اور لنکن اور کینٹ یورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ،سلمان خان کاکہناہے کہ جب میں پہلی مرتبہ اسکول گیا تو مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس میں حاصل سہولتیں میری سوچ سے بالکل مختلف تھیں ،اس نے کہا کہ جب میں برطانیہ پہنچا تو مجھے احساس ہورہاتھا کہ میں نے کچھ مواقع کھودئے ہیں لیکن یہاں میری جس طرح مدد کی گئی وہ بے مثال ہے، اس نے کہا کہ میں اپنے منہ بولے والدین کی محنت سے بہت متاثر ہوا۔انھوں نے ڈگریاں حاصل کی ہوئی ہیں وہ اکائونٹنٹ اور ڈاکٹر ہیں میرے بیڈ روم کے باہر ان کی گریجویشن کے موقع کی تصاویر لگی ہوئی ہیں جب میں کمرے سے باہر نکلتاتھا تو میرے دل میں خیال آتاتھا کہ میری تصویر بھی ان کے ساتھ ہونی چاہئے ،سلمان خان اب کم سن ریفیوجیز کی سپورٹ کیلئے انھیں گود لینے والوں کو تیار کرنے کی مہم میں لیسسٹر شائر کائونٹی کی مدد کررہاہے ،لیسسٹر شائر کائونٹی کونسل کی ڈیبورا ٹیلر کا کہناہے کہ اس نوجوان نے بہت سختیاں جھیلی ہیں لیکن ایک مہربان اور محبت کرنے والی فیملی کے زیرسایہ اس نے ترقی کی اور اپنی زندگی کا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *