ایسے ہوتے ہیں قانون پسند اور جمہوری معاشرے ۔۔۔!!!

لاس اینجلس (ویب ڈیسک)امریکی پولیس نے ہولی وڈ اداکارہ 56 سالہ لوری لافلن کو رشوت کے عوض بیٹیوں کو کالج میں داخلہ دلانے کے کیس میں 2 ماہ کی سزا مکمل ہونے پر رہا کردیا۔لوری لافلن نے رواں برس اکتوبر میں خود کو پولیس کے حوالے کیا تھا، ان پر اور ان کے شوہر فیشن ڈیزائنر

موسمو گیانولی پر الزام تھا کہ انہوں نے دو جوان بیٹیوں کو یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا کے کالج میں داخلہ دلوانے کے لیے 5 لاکھ امریکی ڈالر کی رشوت دی تھی۔دونوں نے عدالت میں کیس چلنے کے بعد ابتدائی طور پر الزامات کو مسترد کیا تھا تاہم بعد ازاں دونوں نے جرائم کا اعتراف کیا تھا۔ جس کے بعد لوری لافلن اور ان کے شوہر فیشن ڈیزائنر موسمو گیانولی کو رواں برس اگست میں امریکی ریاست میساچوٹس کے شہر بوسٹن کی ضلعی عدالت نے مجرم قرار دیتے ہوئے قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد لوری لافلن نے اکتوبر میں خود کو پولیس کے حوالے کیا تھا اور اب دو ماہ کی قید مکمل ہونے پر انہیں رہا کردیا گیا۔خبر رساں ادارے رائٹرزکے مطابق لوری لافلن کو ریاست کیلی فورنیا کے شہر ڈبلن کے قید سے رہا کردیا گیا، تاہم ان کے شوہر کی سزا مکمل ہونا ابھی باقی ہے۔لوری لافلن کے شوہر قید میں ہیں اور ان کی سزا آئندہ سال اپریل تک ختم ہوگی۔خیال رہے کہ رشوت کے عوض بچوں کو کالج میں داخلہ دلوانے کا اسکینڈل 2018 کے آخر میں سامنے آیا تھا اور مارچ 2019 میں امریکی محکمہ انصاف نے اسکینڈل میں ملوث 50 اہم شخصیات پر رشوت کے عوض اپنے بچوں کو کالج میں داخلہ دلوانے کی فرد جرم عائد کی تھی۔اسی کیس میں اداکارہ فیلیسٹی ہفمین سمیت دیگر 50 شوبز، اسپورٹس، فیشن، ٹی وی، کاروبار اور صحافت سے وابستہ شخصیات پر بھی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔مذکورہ اسکینڈل شخصیات کی جانب سے رشوت کے عوض اپنے بچوں کویونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا کے کالج میں داخلہ دلوانے کا اسکینڈل تھا، جس نے امریکا میں تہلکہ مچا دیا تھا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *