ایماندار عمران خان اور مہا ایماندار عثمان بزدار ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستانی معیشت اگرچہ تمام دوسرے ممالک کی طرح کرونا کا شکار ہوئی۔مزید یہ کہ پچھلی حکومتیں قرضوں کے انبار چھوڑ گئیں۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی حکومت کی حماقتوں کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔دعوے بڑے بڑے تھے، تیاری برائے نام بھی نہ تھی۔ کابینہ اور سرکاری افسروں کا انتخاب سطحی پن

کا کھلا مظہر ہے۔ نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔وزیرِ اعظم سیاست کو سمجھتے ہیں اور نہ معیشت کو، مردم شناس ہیں، نہ معاملہ فہم۔چینی اور آٹے کے بحران سمیت اشیائے خورونوش کی بے کراں گرانی اسی کے شاہکار ہیں۔ گندم اور شکر کی گرانی کا کوئی تعلق کرونا سے نہیں، بدانتظامی سے ہے۔ اگرچہ سول سروس کا عدم تعاون بھی۔ ذمہ دارصرف افسر شاہی نہیں، سرکار بھی ہے۔ اوّل دبانے اور ڈرانے کی کوشش کی۔ پھر رجھانے کی۔ دونوں کوششیں ناکام ہو ئیں۔ یہ ایک ناکام حکومت ہے۔ اس کی پالیسیاں ناقص ہیں۔ یہ سندھ کے جزائر پر قبضہ کرنے کے لیے آرڈی ننس جاری کرتی ہے۔ اس کے لیڈر مضحکہ خیز بیانات دیتے ہیں۔ میڈیا سیل تو الگ رہے، وزیرِ اعظم کابینہ کے ان ارکان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ ہمہ وقت وہ اپوزیشن کی تذلیل کرتے رہیں۔ اعلان فرماتے ہیں کہ گرفتار شدہ ارکانِ اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جائیں گے۔ منہ پہ ہاتھ پھیر کر کہتے ہیں، میں تم سے نمٹ لوں گا۔ ہر روز ارشاد کرتے ہیں ’’چھوڑوں گا نہیں‘‘ کوئی بتانے اور سمجھانے والا نہیں کہ حضور یہ آپ کا نہیں، نیب اور ایف آئی اے کا کام ہے، بالخصوص نیب کا، چٹے دن کی روشنی میں جسے خسرو بختیار کی شوگر ملیں دکھائی نہیں دیتیں۔ مرکز سے پنجاب کو کنٹرول کرنے کی حکمتِ عملی پہ بات کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ ایک ناقص باورچی اور ایک نا سمجھ ڈرائیور کے ہم متحمل نہیں ہوتے لیکن بارہ کروڑ کے صوبے کو ایک ایسے وزیرِ اعلیٰ کے حوالے کر رکھا ہے،

جو تجربے سے محروم اور فہم و فراست سے پاک ہے۔الزام ہے کہ ٹرائبل تحصیل ناظم تھے تو گھوسٹ ملازم رکھ چھوڑے تھے، جن کی تنخواہیں اپنی جیب میں ڈال لیا کرتے۔ تقرر کے پہلے دن ہی ناچیز نے اس الزام کاذکر کیا تھا لیکن نہ کوئی تحقیق ہوئی، نہ جواب دینے کی زحمت۔ ان گنت کہانیاں وزیرِ اعلیٰ کے بارے میں گردش میں ہیں۔ مےکا پرمٹ ابھی کل کا قصہ ہے۔ سبکدوشی کے بعد وزیرِ اعلیٰ کے لیے غیر معمولی مراعات کا بل ابھی پچھلے برس کی بات ہے، عوامی دباؤ پر جسے روکنا پڑا۔تونسہ اور تحصیل کوہِ سلیمان کے بارے میں ایسے ایسے واقعات سننے میں آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایسی حکومت پہ تنقید روا ہے۔ اپنے موقف کے اظہار کا اپوزیشن کو حق ہے لیکن کوئی آداب، کوئی حدود؟ قومی امنگوں اور ملکی مفادات کا کوئی احساس؟ عجیب اپوزیشن ہے، عجیب حکومت۔ فاروقِ اعظمؓ سے پڑوسی نے کہا: میں تو آپ سے تنگ آگیاامیر المومنین! رات گھر والوں کو آپ ڈانٹتے رہے، حتیٰ کہ کسی کو کوڑا بھی رسید کیا۔ جلیل القدر منتظم نے، زمین جس کے قدموں تلے کانپ اٹھتی تھی، عاجزی سے سر جھکا لیا۔پھر یہ کہا: کسی اور کو نہیں، میں خود کو کوس رہا تھا کہ ایک غلطی سرزد ہو گئی تھی۔ کوڑا بھی خودہی کو رسید کیا تھا۔ ریاستِ مدینہ کی وزیر اعظم محترم بات کرتے ہیں، کیا انہیں ادراک ہے کہ ریاستِ مدینہ تھی کیا؟ اس کے مکینوں کا کردار اوراندازِ فکر کیا تھا؟

Sharing is caring!

Comments are closed.