ایماندار مگر نالائق شخص کے حکمران بننے کا نقصان :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔س وقت ساری دنیا کا گروتھ ریٹ گزشتہ دس سالوں کی کم ترین سطح پر ہے، کینیڈا سے امریکا تک اور بھارت سے برطانیہ تک‘ پوری دنیا پٹرول کے بڑھتے نرخوں سے پریشان ہے، ایک طرف

قوتِ خرید میں مسلسل کمی آتی جا رہی ہے تو دوسری طرف عالمی وبا کے سبب لگنے والے معاشی جھٹکوں کے آفٹر شاکس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ بھارت‘ جہاں کی مستحکم کرنسی، ‘آئیڈیل جمہوریت‘ اور جی ڈی پی کو ہمارے ہاں ایک مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے، اس کا حال یہ ہے کہ اس کے قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) کی ایک رپورٹ کے مطابق 2020-21ء میں بھارت کے جی ڈی پی میں 7.3 فیصد کمی آئی ہے جو 1947ء کے بعد سب سے بدترین شرح ہے۔ امریکا کے سر پر دیوالیہ ہونے کا خطرہ مسلسل منڈلا رہا ہے، عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق‘ دنیا 1930کے بعد سب سے خطرناک معاشی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ مہنگائی اس وقت صرف پاکستان کا یا موجودہ حکومت کا مسئلہ نہیں ہے، پوری دنیا شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ان حالات میں بھی‘ کل بھی شکوہ تھا اور آج بھی ہے کہ کاش تحریک انصاف حکومتی رٹ ہی بحال کر دیتی۔ پنجاب میں تو یہ حالت ہو چکی ہے کہ رشوت کی رقم اب سائل کی جیب سے زبردستی نکالی جا رہی ہے، ہسپتالوں میں ہر کوئی اپنی من مانیاں کر رہا ہے، لاہور کے کسی بھی سرکاری محکمے میں چلے جائیں‘ چند منٹ کے کام کیلئے اتنے رگڑے دیے جاتے ہیں کہ ہمارے جیسے لوگ اپنی جیبیں خالی کر کے بددعائیں دیتے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ سنتے ہیں کہ 1958ء میں جنرل ایوب خان نے جب مارشل لا لگایا تو قانون کا اس قدر خوف تھا

کہ پاکستان بننے کے بعد قبضے میں لی گئی جائیدادیں تک واپس کی جانے لگی تھیں۔ لاہور کے ایک رکشہ ڈرائیور نے بتایا تھا کہ 1999ء میں جب پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت معزول کر کے اقتدار سنبھالا تو ٹریفک پولیس کے اہلکاروں میں اس قدر ڈر پایا جاتا تھا کہ وہ دس‘ بیس روپے لیتے ہوئے بھی ڈرتے تھے جبکہ آج سرعام چوکوں‘ چوراہوں میں ہماری جیبوں سے پیسہ اپنا حق سمجھ کر نکالا جا رہا ہے۔ اُس وقت سرکاری دفاتر میں حاضری پوری ہو گئی تھی، دفتری اوقات میں کوئی ایک شخص بھی اپنی سیٹ سے غائب نہیں پایا جاتا تھا، مہینوں سے رکی ہوئی فائلیں باہر آنے لگی تھیں‘ سائلوں کو عزت و احترام سے بلایا جاتا اور ان کے رکے ہوئے کام مکمل کیے جاتے تھے لیکن 2002ء کے انتخابات کے بعد جب جمہوریت نے اپنے پَر پھیلانا شروع کیے تو ان پروں کے سائے میں بدعنوانی بھی جنم لینے لگی اور نوبت اب یہاں تک پہنچ گئی کہ آج کوئی بھی جائز کام ”پہیے‘‘ لگائے بغیر نہیں ہو سکتا۔ ہر دفتر میں‘ ہر تھانے میں‘ ہر سڑک پر اور ہر چوک میں آپ کو بدعنوانی اپنے جبڑے کھولے خونخوار نظروں سے بے کس عوام کو گھورتی نظر آئے گی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ لوگوں کو احتساب کا خوف نہیں رہا، وہ اس قدر نڈر اور بے خوف ہو گئے ہیں؟ مانا کہ عالمی سطح پر بڑھتی قیمتوں کو حکومت کنٹرول نہیں کر سکتی مگر حکومتی رٹ کو بحال کرنے میں کیا امر مانع ہے؟

Comments are closed.