ایمان تازہ کردینے والے حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) تیرہ سو برس پہلے طارق بن زیاد کا قافلہ سپین کے ساحل پر اترا تو اس نے کشتیاں جلانے کا حکم دیا تھا۔عزیز بھٹی کی کہانی پڑھتے ہوئے یوں لگتاہے کہ وہ طارق کے قافلے کا بچھڑا ہوا ایک سپاہی تھا، جو تیرہ سو برس بعد طلوع ہوا۔ اپنے ٹی وی پروگرام میں اس

نادرِ روزگار کے بارے میں اظہارِ خیال کا وعدہ پورا نہ کر سکا۔ نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔چیختے چلاتے موضوعات کا دباؤ۔مختصر سا وقت، اظہار کا پیرایہ ہاتھ نہ آیا کہ نازک موضوع انہماک کا مستحق تھا۔ پاکستانی فوج کے بہت shaheed ایسے ہیں، جن کی داستانیں لہو میں قلم ڈبو کر لکھی جانی چاہئیں۔عزیز بھٹی ان میں سے ایک تھے۔shaheed بھی شاید دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ، جن میںshahadat کی آرزو بھی پلتی ہو۔ ایک وہ جو اس کا تہیہ کیے بیٹھے ہوں۔ اپنی سب سے قیمتی متاع قربان کرنے پر تلے ہوئے۔ اسی کو اقبالؔ ذوقِ خدائی کہتاہے۔ 1965ء کی لڑائی چھڑی تو عزیز بھٹی کی کمپنی بی آر بی نہر کے پا رمتعین تھی۔ بھارتی آگے بڑھے تو بھٹی خیر مقدم کرنے کے لیے تیار تھے۔ جب ٹینک اور توپیں آگ اگل رہی تھیں تو وہ سب سے آگے تھے۔ چھ دن اور چھ راتیں تقریباً مکمل طور پر جاگتے ہوئے بتا دیں۔ چھٹے دن کمانڈر کا پیغام پہنچا کہ چند گھنٹے آرام کر لیں۔دوسرا افسر بھیج دیا ہے۔ان کا جواب یہ تھا ’’مجھے واپسی کا حکم نہ دیجیے۔ اپنے لہو کا آخری قطرہ میں بہادینا چاہتا ہوں۔‘‘ یہ ستمبر کا دسواں دن تھا، جب وہ دشمن پہ نگاہ جمائے کھڑا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ٹرکوں کا ایک کارواں درختوں کی آڑ لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ نادرِ روزگار سپاہی کو اندازہ ہوا کہ وہ ہتھیار جمع کر رہے ہیں۔آگے برھتی جنگی گاڑیاں تیرہ عدد تھیں۔ انہوں نے فائر کھولنے کا حکم دیا۔ پورے کا پورا بھارتی کاررواں خاک ہو گیا۔ اس بارود کی وہ

نذر ہوئے، جو اپنے ساتھ لائے تھے۔ بھارتی طیاروں کی ایک ٹکڑی فضا میں نمودار ہوئی اور لوٹ گئی۔ معرکے کا ایک دائرہ یہاں تمام ہوا۔ اب وہ سوگئے لیکن صرف پندرہ منٹ ہی۔پھر چونک کر اٹھے اور پوچھا: جو آواز میں سن رہا ہوں، کیا وہ ٹینکوں کی نہیں؟ کیپٹن انور بولے ’’یقینی طور پر یہ ٹینک ہیں۔ میں ان کے مقام کا تعین کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ عزیز بھٹی نے دوربین اٹھائی اور دو ٹینکوں کو پا لیا۔ دونوں تباہ کر دیے گئے۔ تھوڑی ہی دیر میں توپوں کی گولہ باری شروع ہو گئی۔ بھارت کی 16پنجاب اور چوتھی سکھ رجمنٹ، بھارتی توپیں اور ٹینک ان کے ہمراہ۔ صبح کے دس بجے گولہ باری بند ہو گئی۔ میجر بھٹی ایک بلند مقام پہ جا چڑھے۔ وائرلیس پر اپنے رفقا سے رابطہ کیا اور آگ کا ایک گولہ پرلی طرف پھینکاکہ منظر واضح ہو سکے کہ اب شام اتر رہی تھی۔ آگ بھڑکی اور وہ دشمن کو دیکھ سکے۔ اب ان کی تعداد نسبتاً زیادہ تھی اور وہ جے ہند کے نعرے لگا رہے تھے۔ وہ برکی پولیس سٹیشن کے قریب آپہنچے تھے۔نہر کنارے ساتھیوں کو انہوں نے پوزیشن سنبھالنے کا حکم دیا مگر خود بلندی پر رہے۔ تاریکی اب گہری تھی۔رجمنٹ کے ایجوٹینٹ انور منیر الدین ان کے پاس آئے اور دشمن کے بارے میں کچھ اہم معلومات بیان کیں۔ انور نے حیرت سے انہیں دیکھا، جب انہوں نے سونے کی ایک انگوٹھی ان کے حوالے کی اور یہ کہا: میں اللہ کی راہ میں وطن پر قربان ہو جاؤں تو میرے گھر پہنچا دینا۔ پھر ہمیشہ کی دھیمی مسکراہٹ سے کہا: انور اسے اپنی انگلی میں پہن لو۔

میجر صاحب ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے تھے۔ انہی دنوں سے یہ انگوٹھی ہمیشہ ان کے ہاتھ میں رہی ’’تم ایک جوان آدمی ہو‘‘ انور سے انہوں نے کہا۔ شایدایک دن تم اس رجمنٹ کی کہانی لکھو۔ اس دن شاید میں اس دنیا میں موجود نہ ہوں گا۔‘‘ میجر عزیز بھٹی کی زندگی کاآخری سورج کچھ دیر میں ڈوبنے والا تھا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور گرد و نواح کا جائزہ لینے لگے۔ اتنے میں حوالدار فیض علی نے چیخ کر کہا:سر دوسری طرف سے فائر آتاہے۔ براہِ کرم نیچے اتر آئیے۔ ان کا جواب یہ تھا:ڈھلوان سے میں دشمن کی پوزیشن کا جائزہ نہیں لے سکوں گا۔ بے شک اس میں خطرہ ہے مگر ہر واقعہ پروردگار کی طرف سے ہوتاہے۔ اگر میرا وقت آپہنچا ہے تو میں اس کا استقبال کروں گا۔ کچھ ٹینک نہر کی طرف بڑھتے دکھائی دیے۔ ان کے ساتھ پیدل فوج بھی۔ میجر صاحب نے فائرکا حکم صادر کیا لیکن گولے وہاں نہیں گرے، جہاں وہ چاہتے تھے۔ اپنے ساتھیوں کو یہ بات انہوں نے جتلائی۔ اب کی بار گولوں نے ہدف کو جا لیا۔ میجر صاحب کا چہرہ گلنار نظر آیا۔ آرٹلری کے نگران کیپٹن انور کو انہوں نے بلند آواز سے داد دی۔ ’’خوب، بہت خوب انور‘‘۔ ٹھیک اسی وقت ایک گولہ میجر بھٹی سے چند فٹ کے فاصلے پر گرا۔ گرد کا ایک طوفان اٹھا۔ رفقا کو اندیشہ ہوا کہ میجر صاحب نشانہ بن گئے۔ وہ ان کی طرف دوڑے لیکن اپنے سردار کو انہوں نے بلند آواز سے کہتے سنا ’’فوراً اپنی جگہوں پر واپس جاؤ۔ یہ گولہ میرے لیے نہیں تھا‘‘

دوربین اٹھائی کہ دشمن پر نگاہ رکھیں ۔ ٹھیک اس وقت ان کی قربانی کے لیے ڈھالا گیا گولہ ان سے آٹکرایا۔ سیدھا ان کے سینے میں۔ دائیں حصے کو چیرتا ہوا وہ گزر گیا۔ نہر کنارے گرے۔ حوالدار فیض علی اور سپاہی امان خان ان کی طرف بھاگے لیکن اب وہ وہاں نہیں تھے۔ وہ یکسو، بہادر، وہ بے چین روح اپنے خالق کے پاس پہنچ چکی تھی۔ 1928ء میں دور دراز کی ایک سرزمین میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے ان کا خاندان گجرات کے گاؤں لاڈیاں میں لوٹ آیا تھا۔ اس وقت انہیں عزیز احمد کہاجاتا تھا۔ سونے کی اس انگوٹھی پر بھی “AA”لکھا تھا۔ وہ پاک فضائیہ کا حصہ بنے اور کچھ دن وہاں گزارے۔ پھر انہیں آرمی بھاگئی۔ وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے اوّلین طلبہ میں سے ایک تھے۔یہ جنوری 1948ء تھا۔ وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کے ہاتھ سے انہوں نے شمشیرِ اعزاز حاصل کی اور ایک گولڈ میڈل بھی۔ کمیشن پانے کے بعد وہ پنجاب رجمنٹ کا حصہ بنے۔ صرف گیارہ ماہ کے بعد وہ بٹالین کے ایجوٹینٹ بنا دیے گئے۔ پھرSchool of infantry and tactics Quetta بھیج دیے گئے اور وہاں سے سٹاف کالج۔ یہاں بھی وہ نمایاں ترین جاں بازوں میں سے ایک تھے۔ اب انہیں کنگسٹن سٹاف کالج کینیڈا میں تربیت کے لیے بھیجا گیا۔ یہ ان کی شاندار خدمات کا اعتراف تھا۔ وہ اپنے کالج کے سب سے کم عمر افسر تھے۔کینیڈا سے بریگیڈئیر نیازی کے نام ایک خط میں انہوں نے لکھا ’’یہاں لوگ یہ کہتے ہیں: تمہاری انگریزی تو انگریزوں سے بھی اچھی ہے۔ تمہارے پرچوں پر کہیں کوئی سرخ نشان نہیں ہوتا۔ تیرہ سو برس پہلے طارق بن زیاد کا قافلہ سپین کے ساحل پر اترا تو اس نے کشتیاں جلانے کا حکم دیا تھا۔عزیز بھٹی کی کہانی پڑھتے ہوئے یوں لگتاہے کہ وہ طارق کے قافلے کا بچھڑا ہوا ایک سپاہی تھا، جو تیرہ سو برس بعد طلوع ہوا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.