ایمان تازہ کر دینے والی حقیقت

لاہور (ویب ڈیسک) ہر سال جب بھی ستمبر کا مہینہ آتا ہے دفاع وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے عظیم مجاہدوں کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔نامور صحافی امجد حسین امجد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔ اس لڑائی میں فوج کے ساتھ ساتھ سول اداروں اور افراد کا تعاون بھی مثالی رہا ہے۔

ایسا ہی ایک مجاہد لیفٹیننٹ فراز ملک 1984 کو ایک فوجی گھرانے میں پیدا ہوا۔وہ بچپن سے ہی انتہائی فرمانبردار تھا۔ وہ عام بچوں سے مختلف تھا،اسے بندوق سے کھیلنے اور خاکی وردی پہننے کا جنون تھا۔ لیفٹیننٹ فراز ملک نے ابتدائی تعلیم ملٹری کالج جہلم سے حاصل کی۔ ایف ایس سی کرنے کے بعد ملٹری اکیڈمی کاکول میں زیر تربیت رہا اور 117 پی ایم اے لانگ کورس میں کمیشن حاصل کیا، جس کے بعد 2008 میں ان کی پوسٹنگ 18 فیلڈ(اب ایس پی میڈیم) رجمنٹ آرٹلری میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ ہوئی۔یہ یونٹ سابقہ لڑائیوں میں اعلی کارکردگی دکھا چکی ہے۔یہ وہی یونٹ تھی جس کے کمانڈنگ افسر خود ملک فراز کے والد(1988 سے 1990) رہ چکے تھے۔ان کے والد لیفٹیننٹ کرنل(ریٹائرڈ) ظفر سلطان ملک نے 2 نومبر 1969 کو 18 فیلڈ رجمنٹ جوائن کی اور 1971 میں برکی سیکٹر میں یونٹ کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیا۔ سکول آف آرٹلری میں لیفٹیننٹ فراز نے اپنا بیسک کورس پوری لگن اور پروفیشنل دلچسپی سے مکمل کیا۔ ان کے ایک کورس میٹ میجر اعزا ز نواز کے مطابق وہ زندگی میں ایک عظیم مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے بہت انکسار پسند تھے اور دوسروں کی مدد کرنیکا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہواتھا۔ان کے یونٹ آفیسر کیپٹن بلال کے مطابق وہ ایک زندہ دل آفیسر تھا اور دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہتا تھا۔وہ اپنی ڈائری میں مختلف واقعات درج کرتا رہتا تھا۔ایک سال بعد فراز ملک کو جنوبی وزیرستان میں آپریشن کا حکم ملا، لیفٹیننٹ فراز یہ حکم پا کر انتہائی خوش تھے کہ انہیں وطن کے لیے کچھ عملی اقدام کرنے کا موقع ملے گا۔فراز ملک ایک ماہ پہلے ہی اپنے دوستوں کو بتا چکے تھے کہ میں جلدوطن پر نثار ہو جاؤں گا۔ملک کی خاطر جان تک قربان کرنے کا عہد اس نے وفا کر دیا۔وہ اپنے دوستوں کا بہت خیال رکھتا تھا۔

اور اپنی بات کا پکا تھا۔ اپنے چھوٹے بھائی سلمان ظفر سے آخری ملاقات کے وقت لیفٹیننٹ فراز ملک نے کہا کہ میں چونکہ محاذ پر جا رہاہوں آپ نے گھر والوں کا خیال رکھنا ہے اور ذمہ داری کا ثبوت دینا ہے۔اس سے پہلے انہوں نے اپنے والد کو ایک میسج بھیجا تھا جس میں کہا کہ:”صرف ایک مقصد کے لیے میں نے آرمی جوائن کی اور وہ ہے اسلام اور پاکستان کی سربلندی،اس مقصد کے لیے لوگ اللہ کی طرف سے چنے جاتے ہیں۔میں آپکو سلام پیش کرتا ہوں کہ آپ اس فوج کا حصہ ہیں۔پاک فوج زندہ باد،پاکستان پائندہ باد”۔جب لیفٹیننٹ فراز آپریشنل ایریا میں گئے تو ان دنوں بدامنی عروج پر تھی۔لیفٹیننٹ فراز چونکہ آرٹلری یونٹ سے تعلق رکھتے تھے لہذا میدان میں دوبدو لڑنا انکا کام نہ تھا۔لیکن اسکے باوجودفراز ملک نے علاقے میں آپریشن کرنے والی یونٹ(20سندھ) کے ساتھ تین کامیاب مشن مکمل کیے۔22 اکتوبر کے آپریشن میں لیفٹیننٹ فراز نے تور گھنڈائی فیچر کے قبضے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح 30 اکتوبر کو متائی گڑھ کے قبضے میں بھی لیفٹیننٹ فراز کا کلیدی کردار تھا۔اس کا جواں خون اس کے جذبہ جہاد کا بھرپور ساتھ دے رہا تھا۔آپریشن راہ نجات کے دوران 4نومبر2009 کو انہیں جنوبی وزیرستان کے علاقے ساراروگا میں قائم خوارج کے خفیہ کمپاونڈز کی اطلاع ملی۔موسم کی شدت کے باوجود ان کے پایہ استقلال نہ ڈگمگائے۔اگرچہ علاقہ پہلے سے کلئیر ہو چکا تھا لیکن دشمن کے گوریلہ گروہ ابھی بھی کاروائیاں کر رہے تھے۔جونہی لیفٹیننٹ فراز ملک نے کمپاؤنڈ کا دروازہ کھولا، دروازے کے ساتھ فٹ مواد پھٹ گیا اور لیفٹیننٹ فراز ملک پاکستان پر اپنی جان نچھاور کرنے کی سعادت پا گئے ۔ انہیں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا اور وہ مراکیوال ضلع سیالکوٹ میں آسودہ خاک ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں ان کی بہادری کی وجہ سے تمغہ بسالت سے نوازا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.