“ایمپائر غیر جانبدار ہو چکا “

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری خادم حسین اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف نے نعرہ دیا ”ووٹ کو عزت دو“ اور یہ ان کی جماعت نے قبول بھی کیا، مجھے اس وقت مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے ہونے والی باتوں اور تبدیلیوں

کا ذکر نہیں کرنا میں تو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پیپلزپارٹی کے نوجوان کارکنوں نے ایک تحریک شروع کر دی، اوکاڑہ کے ایک نوجوان نے اس کا نام پیپلزپارٹی بچاؤ تحریک رکھا اور نعرہ لگایا ”کارکنوں کو عزت دو“ ہے نہ دلچسپ، چلو مسلم لیگ (ن) کا عوامی سطح پر تو شاید پنجاب میں مقابلہ نہ کیا جا سکے، لیکن اس نعرے میں جان ہے کہ مجھے اس کے اثرات کا اندازہ سوشل میڈیا سے ہوا کہ اسے پذیرائی ملی ہے اور حامیوں میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، جس کا مطلب یہی ہے کہ جس نوجوان نسل پر محترمہ بے نظیر بھٹو نے مستقبل کے لئے انحصار کا عمل شروع کیا، وہ بھی اب پارٹی قائدین سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں اور پیپلزپارٹی کے مظاہرے سے اس کی حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے، یوں بھی محترم راجہ پرویز اشرف کو چار ماہ سے زیادہ ہو گئے،وہ چیف آرگنائزر سے صدر بھی بن گئے اور ان کے پاس صرف یہ الفاظ ہیں کہ کارکن انتخابات کی تیاری کریں، بھائی! محترم کارکن ہوں گے تو تیاری کریں گے یہاں تو وہی چہرے ہیں جو مختلف عہدوں سے چپکے شکر کر رہے ہیں کہ راجہ پرویز اشرف نے اپنا تنظیمی کام کرنے کی بجائے، سابقہ تنظیموں کو ہی بحال رکھا کہ وقت نہیں ہے، اس لئے میں معذرت کے ساتھ عرض گزار ہوں کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں اپنی رہتی سہتی ساکھ بھی ختم کرنے کے درپے ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا ایک سے زیادہ بار پروگرام بنا کہ وہ لاہور میں

بیٹھ کر وسطی پنجاب کے دورے کریں گے۔ اس پر اب تک عمل نہیں ہوا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ حالیہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کا نام و نشان نہیں ملتا، حتیٰ کہ جس جنوبی پنجاب کا تفصیلی دورہ کرکے بلاول بھٹو زرداری نے بھٹو اور بے نظیر کے چاہنے والوں کو گھروں سے نکالا۔ اس کے مطابق کنٹونمنٹ انتخابات میں کوئی اثر دکھائی نہیں دیا، اس لئے میں دیانت داری سے عرض کرتا ہوں کہ موجودہ تنظیمی صورت حال میں انتخابی عمل کے دوران وسطی پنجاب تو کجا جنوبی پنجاب سے بھی پارٹی کوئی معرکہ سرانجام نہ دے سکے گی اور اس کا نتیجہ صفر بٹا صفر ہو گا۔میرے لئے اور معتدل مزاج حضرات کے لئے یہ صدمے کی بات ہے کہ ایک ایسی جماعت جس کے بانی قائد نے عوام کو بولنے اور ظالموں کا سامنا کرنے کی طاقت دی۔ آج اس کا یہ حال ہے کہ اسے احتجاج کے لئے لاہور پریس کلب کے باہر آنا پڑتا ہے۔ میری گزارش یہ ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ توجہ دیں اور پارٹی کو منظم کریں کہ برسراقتدار حکومت کی طرف سے مہنگائی اور بے روزگاری کے سونامی نے موقع پیدا کر دیا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر خلا تو پُر ہونا ہے۔ مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان ہوگا اور یہ بھی عرض کر دوں کہ سازشی تھیوریوں کا بھی وقت پورا ہو چکا۔اب ان کی بھی گنجائش نہیں کہ آثار کے مطابق ایمپائر واقعی ”غیر جانبدار“ ہو چکا۔

Comments are closed.