این اے 133: ویڈیوز کس نے اور کس سازش کے تحت بنائیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) اس وقت مہنگائی ایک بڑا اور سنگین مسئلہ ہے لیکن نہ معلوم کیوں دیگر معاملات کو زیادہ پبلسٹی اور اہمیت دی جا رہی ہے، کبھی کسی کی وڈیو یا آڈیو ٹیپس سامنے آ رہی ہیں یا ان کو منظر پر لایا جا رہا ہے۔ این اے 133 کی خالی ہونے والی نشست

پر 5 دسمبر کو ضمنی انتخاب ہو رہا ہے تحریک انصاف بوجوہ اس سے باہر ہے۔ تحریک انصاف نے اپنے امیدوار کے نااہل ہونے کے بعد کسی آزاد امیدوار کو بھی اپنایا نہیں اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ کسی امتحان سے گزرنے سے محفوظ ہی رہی۔ جو ان دنوں مہنگائی کا حال ہے، گیس کی قلت ہے، بیماریوں کا عروج ہے، پنجاب کے مختلف شہر آلودگی کا شکار ہیں غرض کہ مصائب و مسائل کی بھرمار ہے ان حالات میں تحریک انصاف کی جانب سے دانستہ یا دانستہ طور پر انتخابی امتحان سے دور رہنا ہی دانشمندی کا ثبوت ہے ورنہ تحریک انصاف مکمل ایکسپوز ہو جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں پیپلز پارٹی نہ معلوم کیوں میدان میں اتر آئی ۔ گزشتہ انتخابات 2018 میں مسلم لیگ (ن) کے پرویز ملک نے 90 ہزار کے قریب ووٹ لئے تھے تحریک انصاف نے 80 ہزار کے لگ بھگ ووٹ لئے جبکہ پیپلز پارٹی کا امیدوار 5500ووٹ لینے میں کامیاب رہاتھا یہ بہت بڑا فاصلہ ہے ایسے ماحول میں شائستہ پرویز ملک کو ہرانا ناممکن ہے۔ اب دونوں جانب سے ووٹ خریدنے کی وڈیو سامنے آئی ہے۔ دونوں جماعتوں کو کسی سازش یا خفیہ وار سے ہوشیار رہنا ہوگا کہیں اس بہانے دونوں کا کام ہی خراب نہ ہو جائے، تحریک انصاف دونوں کو زچ یا پریشان کر سکتی ہے۔ جمہوریت کے حق میں ہے کہ یہ انتخابات بخیر و خوبی کسی سازش کے بغیر تکمیل تک پہنچ جائیں۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی ڈسکہ رپورٹ کے ہو بہو اپنے امیدوار کے نااہل ہونے سے پہلے تیاری کر لی تھی،

اسی طرح محکمہ تعلیم کے افسران نے سٹاف کو تیار کرلیا تھا لیکن پھر یہ معاملہ نااہلی کے بعد ٹل گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بعض حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کوئی ایسی چال نہ چل جائے کہ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے ،ہم نہیں تو کوئی بھی نہیں۔ دوسری جانب صورتحال یہ بنی ہوئی ہےکہ مہنگائی اور دیگر مسائل میں گھرے ہوئے عوام کو ان مصائب سے کون نجات دلائے کوئی صورت نظر نہیں آتی، تحریک انصاف جس قدر غیر مقبول ہو رہی ہے اس قدر ان کے فیصلے زیادہ شدید اوربے باک نظر آ رہے ہیں عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اپوزیشن بے بس اور معذور نظر آ رہی ہے کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ دراصل ملکی اقتصادی و معاشی صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ کوئی بھی حکومت سنبھالنے کو تیار نہیں، اندر خانے اپوزیشن کی حکمت عملی یہ دکھائی دیتی ہے کہ تحریک انصاف سے اس کے حامی قطعی طور پر مایوس ہو جائیں اور مقتدر قوتیںان کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو جائیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اپوزیشن کا بڑا حصہ ابھی بھی سمجھتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد کے بغیر ریاستی معاملات چل نہیں سکتے۔یہ ابہام اور سوچ اپوزیشن کو کسی نتیجے پر پہنچنے سے روکتی ہے۔ مقتدر قوتوں کا بھی یہ مسئلہ ہے کہ دونوںبڑی جماعتوں کے بارے میں غلط یا صحیح پراپیگنڈہ اتنا ہو چکا ہے کہ ان جماعتوں کی حمایت ایک یوٹرن کہلائے گا ، تیسری کوئی جماعت یا شخصیت راتوں رات اتنی مقبول ہونے سے رہی کہ وہ عوام کو قابل قبول ہو جائے اسی کشمکش میں وقت گزرتا جا رہا ہے۔

خدشہ ہے کہ عوام کی مایوسی اوربے بسی کوئی طوفان کھڑا نہ کر دے اور حالات قابو سے باہر ہو جائیں ایسے ماحول میں شہباز شریف بہترین امیدوار ہیں لیکن پارٹی کے اندر اور کچھ باہر کے عناصر اس طرف یکسو نہیں، معاملہ یہ بھی ہے کہ ووٹ نواز شریف کا ہے ایسے میں اس گتھی کو کون اور کس طرح سلجھائے۔ تحریک انصاف آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کئے جا رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ معاملہ صرف ایک دو ارب ڈالر کا ہے جبکہ دوسری جانب اوورسیز پاکستانی ہر ماہ دو ارب ڈالر سے زیادہ رقم پاکستان منتقل کر رہے ہیں اس رقم کو بہتر حکمت عملی سے ملک کی معیشت بہتر اور مستحکم کرنے پراستعمال کیا جا سکتا ہے آخر سال کے 30ارب ڈالر کہاں جاتے ہیں کیا یہ بیرون ملک واپس تو نہیں چلے جاتے۔اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق مل گیا ہے ایک حلقے کا کہنا ہے کہ اس کو زیادہ سنجیدگی اور گہرائی سے سوچ کر یہ حق دینا چاہیے تھا پاکستان میں موجود ووٹر اگر مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے ،سڑکیں خراب، سیوریج کا سسٹم ابتر، امن و امان کی صورتحال اتنی خراب ہو تو وہ کسی جماعت کو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مسترد یا منظور کرتا ہے، بیرون ملک پاکستانیوں کو ان مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب انتخابات کی سیاست کا ایک نیا پہلو سامنے آگیا ہے ۔ بیرون ملک مقیم ووٹر غریب عوام کی امنگوں، آرزئوں کا حریف بن کر سامنے آئے گا وہ ڈالر اور پائونڈز کے مہنگے ہونے سے آرام اور سکون محسوس کرے گا، وہ پراپیگنڈے اور بظاہر چیزوں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اکثریت پاکستان کے حوالے سے بے حد پاکستانی اور حساس ہے لیکن متذکرہ بالا حقائق بھی اپنی جگہ ہیں ان پاکستانیوں کو نادیدہ اور دیدہ قوتوں کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات بھی نہیں ہوںگی یہاں پاکستان میں ان کے گھرانے خوشحال اور آسودہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح الیکٹرونک مشین سے ووٹنگ کا معاملہ ہے۔ اپوزیشن کھل کر اپنے خدشات کا اظہار نہیں کرسکی وہ تحریک انصاف کوبھی یہ باور کرانے میں ناکام رہی ہے کہ یہ مشین کسی بھی دوسری مشین کی طرح ان کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے ۔ آر ٹی ایس کی ناکامی کے بعد ساری سیاسی جماعتوں کو زیادہ دور اندیشی اور بالغ نظری سے کام لینا چاہیے تھا۔

Comments are closed.