این اے 133 :کالم نگار نصرت جاوید نے اندر کی کہانی بتا دی

لاہور (ویب ڈیسک) شوکت ترین صاحب اور ان کی حکومت کو جو خوش حالی نظر آرہی ہے شاید اس کے سرور میں مسحورہوکر تحریک انصاف نے لاہورسے پرویز ملک صاحب کی رحلت کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست کے لئے ضمنی انتخاب لڑنے میں خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔

نامور صحافی نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میدان کو کمال فیاضی سے مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کے لئے کھلاچھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کا منہ کالا کرنے کے لئے ووٹ خریدنے والی ویڈیوز پھیلارہی ہیں۔الیکشن کمیشن نے مذکورہ ویڈیوز کا نوٹس لے لیا ہے۔میں یہ طے کرنے میں لہٰذا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا کہ مارکیٹ میں پھیلی ویڈیوز کی حقیقت کیا ہے۔دونوں جانب سے پھیلائی ویڈیوز بنیادی پیغام مگر یہ دے رہی ہیں کہ پاکستان کے جاہل عوام ایک سے دو ہزار روپے لے کر کلام پاک پر حلف اٹھاتے ہوئے اپنا ووٹ بیچنے کو ہمہ وقت تیار ہیں۔وہ سیاسی سوچ سے قطعاََ محروم ہیں۔جمہوری نظام کے ازلی دشمنوں کا بنیادی بیانیہ بھی ’’قیمے والے نان‘‘ کا ورد کرتا ہے۔ہمیں بتایا جاتا ہے کہ قومی اسمبلی میں بیٹھے افراد کو سنجیدگی سے نہ لو۔یہ ووٹرں کو قیمے والے نان کھلاکر منتخب اداروں میں گھس آتے ہیں۔ مسلم لیگ (نون)مگر حالیہ کئی برسوں سے اصرار کررہی ہے کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ ۔پیپلز پارٹی نے نومبر1967ء میں اپنے قیام کے وقت ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں‘‘ کو اپنا بنیادی پیغام بنایا تھا۔یہ دونوں جماعتیں مگر اب اندھی نفرت وعقیدت کے جنون میں مبتلا ہوئی ایک دوسرے پر مبینہ طورپر کیمرے پر ریکارڈ ہوئی ویڈیوز کے ذریعے ووٹ خریدنے کے الزامات لگارہی ہیں۔موجودہ حکومت کی اس سے بڑی ’’سہولت کاری‘‘ کیا ہوسکتی ہے۔ان سوالات پر ریگولر اور سوشل میڈیا پر حاوی ذہن ساز مگر توجہ ہی نہیں دیں گے۔چسکہ فروشی سے ٹی وی سکرینوں کے لئے ریٹنگز اور سوشل میڈیا پر لائیکس اور شیئرز حاصل کرنے کی تگ ودو میں مصروف رہیں گے۔ واضح طورپر ’’میسنا پن ‘‘ دِکھتے اس عالم میں صحافت نام کی شے کو زندہ رکھنا ناممکن ہوچکا ہے۔ضیاء صاحب عرصہ ہوا اس لئے گوشہ نشین ہوچکے تھے۔ اب اس دنیا سے بھی رخصت ہوگئے۔مجھ جیسے افراد جو باقی رہ گئے ہیں وہ بھی دل وجاں سے تیار بیٹھے ہیں۔

Comments are closed.