این اے 133 کا ضمنی الیکشن جیتنے کے لیے پیپلز پارٹی حلقے میں کیا کیا چالیں چل رہی ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) حلقہ این اے 133 میں ضمنی انتخابات پانچ دسمبر کو ہونے والا ہے جس میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں زور دار مقابلہ متوقع ہے اور دونوں جماعتیں حسب روایت این اے 133 میں کا میابی کے لئے زور بھی لگا رہی ہیں اور جیت کے لئے تمام تر سیاسی جربے بھی استعمال کر رہی ہیں

نامور صحافی فیصل شامی اپنے ایک تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی طرف سے ایک دوسرے پہ ووٹ خریدنے کے الزامات بھی لگا ئے جا رہے ہیں اور نہ صرف الزامات بلکہ متعدد ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئیں جن میں ووٹرز کو پیسے دئیے جا رہے ہیں اور متعدد وہڈیوز سوشل میڈیا پہ وائرل ہونے والی ویڈیوز پہ بھی الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا اور ووٹ خریدنے والوں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے جبکہ حکومتی جماعت کا یہ کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن سارے عمل کو کالعدم دے کے ضمنی انتخابات کا سارا عمل نئے سرے سے کیا جائے اور شاید حکومتی جماعت اس لئے یہ کہہ رہی ہے کہ وہ این اے 133 میں ہونے والی ضمنی انتخابی معرکہ سے باہر ہو گئے جی دوستوں واقعی حیران کن بات ہے کہ حکومتی جماعت کے امیدوار کے کاغذات ہی منظور نہ ہو سکے تکنیکی بنیادوں کی وجہ سے حکومتی امیدوار کے کاغز مسترد ہو گئے بہر حال اگر بات کی جائے الیکشن میں ووٹوں کی خرید و فروخت کی تو یقینا یہ کوئی نئی روایت نہیں الیکشن قومی اسمبلی۔ صوبائی اسمبلی کا ہو یا چئیرمین کونسلر کا ووٹ بکتا ہی ہے اور جس کا جہاں بس چلتا ہے داو لگا لیتا ہے جی دوستوں میں بھی ایم پی اے اور کونسلر کا الیکشن بھی لڑ چکے ہیں اور پانچ پانچ ہزار فی ووٹ ہمارے سامنے بولی لگی اور یہاں تو این اے 133 میں دو دو ہزار دینے کی باتیں کی جا رہی ہیں

اور یقینا یہ بات درست ہے غلط نہیں یہ بھی بتلا دیں کہ این اے 133 میں ہماری بھی رہائش ہے اور ہمارا ووٹ بھی حلقہ این اے 133 میں درج ہے اور یقینا یہ حقہ تاریخی حلقہ ہے کسی دور میں یہ پیپلز پارٹی کا حلقہ قرار دیا جاتا تھا لیکن اب اہلیان 133 کے دلوں پہ شیر کا راج ہے ہے اور مسلسل کئی سالوں سے اس حلقے سے شیر کامیاب ہو رہا ہے اور موجودہ ضمنی الیکشنن میں بھی شیر کا زور ہی لگ رہا ہے اور شیر کی کامیابی کے امکانات بھی روشن ہیں اسی لئے شاید پیپلز پارٹی کی طرف سے دو دو ہزار میں ووٹ خریدا جا رہا ہے اور باقاعدہ ووٹ ڈالنے کے حلف بھی لیا جا رہا ہے اور نہ صرف دو ہزار بلکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے گھر گھر راشن بھی تقسیم کیا جا ریا ہے اور حسب روایت پیپلز پارٹی تمام سیاسی پینترے استعمال کر رہی ہے بہرحا ل یقینا رہٹرننگ افسر کی طرف سے معاملے کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور آئی جی پنجاب سمیت دیگر افسران کو ویڈیو کا فرانزک کروانے کا حکم دیا گیا ہے اور مزکورہ افراد کی گرفتاری کا بھی حکم دے دیا گیا اور یقینا اس معاملے کی چھان بین ضروری ہے کہ الیکشن کے تقدس کو پامال کرنے والوں کے خلاف کاروائی ضروری ہے تو بہرحال تو دیکھتے ہیں کہ مزکورہ وائرل ویڈیو معاملے میں ملوٹ افراد کو قانون اپنی گرفت میں لے سکے گا کہ نہیں اور پانچ دسمبر کو حلقہ این اے 133 کے عوام کس کو ووٹ دینگے کس کے سر پہ سہرا سجائینگے یہ بات بھی وقت ہی بتا ئے گا تو فی الحال ہمیں دیں اجازت دوستوں ملتے ہیں جلد بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

Comments are closed.