این اے 133 کے ضمنی الیکشن کے لیے (ن) لیگ کے ٹکٹ کے امیدوار عطااللہ تارڑ بھی تھے ، لیکن ان کی مخالفت کس نے کی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اشرف شریف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاہور کے حلقہ این اے 133 میں ضمنی انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ مقررہ تاریخ تک کاغذات نامزدگی داخل کرادیئے گئے۔ عطاء اللہ تارڑ کے انتخابی اخراجات اٹھانے سے صاحب ثروت ارکان نے معذرت کرلی جس پر ٹکٹ شائستہ پرویز ملک کو دے دیا گیا۔

شائستہ پرویز ملک متعدد بار مخصوص نشستوں پر رکن اسمبلی منتخب ہوتی آئی ہیں۔ اس بار انہیں اپنے مرحوم شوہر کی نشست کا دفاع کرنا ہے۔ شائستہ پرویز ملک چونکہ انتخابی اخراجات برداشت کرسکتی ہیں اس لیے پارٹی کے اندر بعض حلقوں کی مخالفت کے باوجود انہیں ٹکٹ دیا گیا ہے۔ حلقے میں بینر لگ رہے ہیں‘ مسلم لیگی تنظیم کارکنوں کو جمع کر کے ذمہ داریاں بانٹ رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کو ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بلدیاتی ادارے پوری طرح بحال کر دیئے گئے ہیں۔ لاہور میں لارڈ میئر اور ڈپٹی میئر مسلم لیگی ہیں۔ این اے 133 میں جو یونین کونسلز آتی ہیں وہاں کے چیئرمین مسلم لیگ ن سے تعلق رکھتے ہیں۔ تحریک انصاف مرکز اور پنجاب میں برسراقتدار ہے۔ وعدوں کا ایک بوجھ ہے۔ ایک کروڑ نوکریاں‘ پچاس لاکھ گھر‘ زراعت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں‘ کھیلوں کے میدان آباد اور پررونق‘ اربوں کی تعداد میں شجر‘ عدالتی اصلاحات‘ پولیس اصلاحات‘ کہیں بھی کامیابی نظر نہیں آئی۔ ایک ہی وجہ ہے کہ ٹیم اچھی نہیں۔ کیا کسی نے دیکھا کہ عدالتوں میں مقدمات کی تاریخ جج نہیں دیتا‘ جج کے معاون نے دیہاڑی پر آگے معاون بٹھا رکھے ہیں‘ کئی جگہ اہلمد کی جگہ پرائیویٹ افراد کام کر رہے ہیں۔ پٹواریوں نے پرائیویٹ افراد کو اپنا معاون رکھا ہوا ہے۔ تھانوں میں قانون کی بجائے ٹائوٹ کا اختیار چلتا ہے۔ ان حالات میں تحریک انصاف این اے 133 کے لوگوں سے ووٹ لینے کے لیے کیا وعدے کرسکتی ہے جبکہ یہاں سے منتخب ایم پی اے

نذیر چوہان پہلے ہی ووٹروں کو مایوس کر چکے ہیں ۔ مسئلہ صرف یہی نہیں سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جمشید اقبال چیمہ اور مسرت چیمہ کے کاغذات نامزدگی درست طور پر نہ بھرے جا سکے۔دونوں پر اعتراض لگ گیا۔ دونوں کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کا ووٹ این اے 133 میں نہیں۔ اڑتی ہوئی خبر ہے زبانی طور کی‘ سنٹرل پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری اس حلقے میں سرگرم رہے ہیں۔ 2018ء کے انتخابات میں وہ پانچ ہزار ووٹوں سے ہارے تھے۔ کہا جارہا ہے کہ سینٹر بننے کے بعد اعجاز چوہدری اس حلقے میں اپنے بیٹے کولانا چاہتے تھے۔ کاغذات مسترد ہونے کا دوسرا ذمہ دار تحریک انصاف کے بانی رکن اور سابق صدر لاہور شبیر سیال کو ٹھہرایا جارہا ہے۔ شبیر سیال سے میں نے معاملے کا پوچھا‘ انہوں نے بتایا کہ انہیں دو شناختی کارڈ فراہم کرنے کا کہا گیا جو انہوں نے حلقے میں رہائش پذیر افراد کے بھیج دیئے تاہم وہ یہ پڑتال نہ کرسکے کہ ان لوگوں کے ووٹ اسی حلقے میں ہیں یا نہیں۔سنتے ہیں عمران برہم ہیں۔ کالعدم تحریک لبیک کے لانگ مارچ اور دھرنوں پر لکھنا سماج میں پھیلی عدم برداشت کو آزمانے کے مترادف ہے۔ یہ معاملہ سول ملٹری تعلقات یعنی ایک پیج تک پہنچتا ہے۔ سردست اس کے اس پہلو پر بات کی جا سکتی ہے جو ہمیں حکومت پر تنقید کا سنہری موقع دیتا ہے۔ اس موقع سے سب فائدہ اٹھا رہے ہیں ہم کیوں پیچھے رہیں۔ حکومت نے کالعدم تنظیم سے کیا گیا

وعدہ پورا نہیں کیا۔ یہ وعدہ کس نے کیا تھا؟ کس نے فرانس کے سفیر کی ملک بدری والا مطالبہ تسلیم کر کے حکومت کو آزمائش میں ڈالا؟ کالعدم تنظیم نے اس بار مارچ کی وجہ معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونا بتائی۔ حکومت نے ریاست کے معاملات چلانا ہوتے ہیں، خارجہ تعلقات پسماندہ ریاستوں کی معیشت چلاتے ہیں۔ ہم اگر افغانوں کیطرح رہنا چاہتے ہیں تو بسم اللہ جو چاہیں کریں لیکن زندگی کی آسانیاں ہاتھ میں رکھ کر سفیر بدری جیسے مطالبات کسی طور درست نہیں۔ اوہ‘ حکومت پر تنقید کرنا تھی۔ آئیے آپ بھی اس معاملے میں ہم آواز ہو جائیں اور حکومت سے پوچھیں کہ اس نے کالعدم تنظیم کو مارچ شروع کرنے سے پہلے ہی کیوں راضی نہ کرلیا۔ حکومت سے پوچھیں کہ اس نے بارہ کے قریب پولیس اہلکاروں کی جانیں لینے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی‘ حکومت سے پوچھیں کہ اس کے وزرا ہم آواز کیوں نہ تھے‘ حکومت سے پوچھیں کہ اس سے کیا غلطی ہو گئی جو اتحادی موقع ملتے ہی مخالفت پر اتر آتے ہیں‘ حکومت سے پوچھیں کہ حالیہ دنوں شہبازشریف نے جو خفیہ ملاقاتیں کی ہیں وہ کیوں ہوئیں۔ حکومت سے پوچھیں کہ ریاست مدینہ میں جب مریض ایمبولینسوں میں پڑے جان سے چلے جاتے ہیں تو اس کا کفارہ کون بھرتا ہے‘ اور اگر پوچھ سکتے ہوں تو عمران خان سے دو سوال ضرور پوچھ لیں کہ کپتان! آپ کی ٹیم کس نے بنائی اور کالعدم تنظیم نے اپنا احتجاج ختم کرنے کا کریڈٹ حکومت کو کیوں نہیں دیا؟