ایک اعلیٰ سرکاری افسر کے بارے میں پورے پاکستان میں یہ جملہ مشہور کیوں تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) سید فدا حسن کا تعلق سول سروس سے تھا۔ انہیں ہر حکومت کی ناک کا بال سمجھا جاتا۔ جبھی تو مشہور ہو گیا تھا۔ ؎وہی ہوتا ہے جو منظورِ فدا ہوتا ہے۔ اس وقت سول سروس کے اقتدار کا سورج نصف انہار پر تھا۔ شہاب صاحب کا تعلق بھی انڈین سول سروس سے تھا۔

نامور سابق بیوروکریٹ شوکت علی شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ وہ درویش منش انسان تھے ، کلبوں اور مخلوط محفلوں سے دور رہتے لیکن انکے ناقدین کو اس درویشی میں بھی ’’عیاری‘‘ کی جھلک دکھائی دیتی۔انہوں نے لکھاریوں کا علیحدہ سے کلب بنا لیا۔ جسے رائٹرز گِلڈ کہتے تھے۔ ایوب خان کو بھی ’’منت ترلا‘‘ کر کے گھسیٹ لائے۔ خیر یہ ایک الگ قصہ ہے بات نوکر شاہی کے اثر و رسوخ کی ہو رہی تھی۔ اسکے بعد کلب چیئرمینوں کی ایک طویل فہرست ہے ، اکثریت کا تعلق سول سروس سے تھا۔ پرویز مسعود، علی کاظم ، سلیمان صدیق ، نورانی ضیاء الرحمن وغیرہ …آخری چیئرمین کامران لاشاری تھے۔ انہیں ڈارلنگ آف سول سروس کہا جاتا ہے۔ یہ اپنے INNOVATIVE IDEAS کی وجہ سے مشہور ہیں۔ لاہور میں فوڈ اسٹریٹ بھی انہوں نے شروع کی۔ C.D.A کے چیئرمین رہے۔ دبنگ انسان تھے۔ اس لیے کئی مقدمات کی صعوبتیں بھی برداشت کر رہے ہیں۔ آجکل پرانے لاہورکی عظمتِ رفتہ بحال کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ میری ان سے پرانی یاداللہ ہے کیونکہ سیکرٹری انفارمیشن کا چارج ان سے مجھے لینا پڑا۔ اس پر سول سروس میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ یہ بھی ایک الگ قصہ ہے۔ لاشاری صاحب تین سال جمخانہ کے چیئرمین رہے۔ چاہتے تھے کہ اگلے تین سال بھی مل جائیں مگر قسمت نے یاوری نہ کی اور اس مرتبہ قرعہ میاں مصباح، ڈاکٹر جواد ساجد گروپ کے نام نکلا۔ ان کی شکست کی کئی تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں مگر حقیقت صرف ایک ہی ہے۔؎ کر گیا سرمست مجھ کو ٹوٹ کر میرا سبو!‘‘ شیکسپیئر نے ویسے تو نہیں کہا تھا ۔

HUBURS IS MORTALS CHIEFEST ENEMY حد سے بڑھتی ہوئی خود اعتمادی آدمی کو لے ڈوبتی ہے۔ اس وقت جمخانہ کلب کے چیئرمین ڈاکٹر جواد ساجد ہیں جو ملک کے نامور ہارٹ سرجن ہیں۔ PIC کے چیئرمین بھی رہے ۔ بعض لوگ ان کاتعارف کراتے ہوئے کہتے ہیں یہ ڈاکٹر حسنات کے ماموں ہیں۔ ڈاکٹر حسنات کی وجہ شہرت سب کو معلوم ہے۔ برطانوی شہزادی ڈیانا ان کو دل دے بیٹھی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ حسنات کو اس بات کا فخر ہونا چاہئے کہ وہ ڈاکٹر جواد کے بھانجے ہیں ۔ انہوں نے لندن میں دنیا کے ممتاز سرجن یعقوب مگدی کے ساتھ کام کیا۔ ہارٹ سرجری میں ان کا کوئی ثانی ملک میں نہیں ہے۔ پنجاب کلب کے چیئرمین رہے اور اب جمخانہ میں بھی سب سے زیادہ ووٹ لئے۔ جب بھی جمخانہ کلب کی تاریخ لکھی جائے گی تو ایک نام پردہ ذہن پر ضرور ابھرے گا اور وہ میاں مصباح الرحمن کا ہو گا! جمخانہ اور یہ لازم ملزوم ہیں ان کی شخصیت کو کلب سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کے ممتاز صنعت کار ہیں۔ جتنا وقت یہ کلب کو دیتے ہیں اس سے آدھا اپنی بزنس کو دیتے تو شاید میاں منشا کو پیچھے چھوڑ جاتے۔ یہ بھی کئی مرتبہ کلب کے چیئرمین رہے ہیں۔ کمیٹی آف مینجمنٹ میں پرویز بھنڈارا، آغا علی امام، سرمد ندیم اور شوکت جاوید کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ بھنڈارا صاحب بہت مقبول انسان ہیں۔ اکثر ممبران کو حیرت ہوتی ہے کہ یہ سارا سال کسی سے ملتے نہیں ہیں پھر بھی بڑی سہولت کے ساتھ الیکشن جیت جاتے ہیں۔ جب بھی یہ راز افشا کرنے کا کہا جاتا ہے تو ایک دلکش مسکراہٹ انکے چہرے پر پھیل جاتی ہے؎

دیر و حرم کی قید کیا جس کو وہ بے نیاز دے۔ آغا علی امام اور سرمد ندیم بینکر ہیں۔ کامیاب بینکنگ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ کم از کم مشتاق یوسفی صاحب کی ’’زرگزشت‘‘ پڑھ کر تو کچھ ایسا ہی تاثر ابھرتا ہے۔ ان کا تعلق بھی اول الذکر گروپ سے ہے جسے عام فہم زبان میں ’’رولنگ پارٹی‘‘ کہا جاتا ہے۔ شوکت جاوید صاحب آئی۔ جی پنجاب رہے۔ پہلے فوج میں تھے۔ ڈھاکہ میں جنگی قیدی رہے راجہ نادر پرویز نے سُرنگ کھود کر جو GREAT ESCAPE کہا تھا اس گروپ میں یہ بھی شامل تھے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نادر پرویز PLANTED تھے۔ سرنگ کھودنے کا محض ڈرامہ رچایا گیا تھا۔ جب میں نے برطانیہ میں ایک ملاقات پر استفسار کیا تو انہوں نے شوکت جاوید کا حوالہ دیا۔ شوکت صاحب نے وقوعہ سچا ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا تعلق لاشاری گروپ سے ہے۔ ویسے تو سول سروس اور پولیس میں اختیارات کے استعمال پر ہمیشہ ان بن رہی ہے لیکن ریٹائر ہونے کے بعد خیالات بدل جاتے ہیں۔ لوگ پنشن یافتہ سرکاری افسر کو چلا ہوا کارتوس کہتے ہیں جس اسلحہ سے بارود نکل جائے اس نے آپس میں کیا ٹکرانا ہے؟پہلے الیکشن ہر سال ہوتے تھے ، پرانے دوست ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ تین سال کا عرصہ طویل ہوتا ہے۔ اس مرتبہ عندیہ دیا گیا ہے کہ الیکشن ہر سال ہونگے۔ اس میں چند قانونی رکاوٹیں ہیں۔ امید ہے کہ سب طبل و علم کے مالک و مختار کچھ نہ کچھ راستہ نکال لیں گے۔ انگریزی زبان کا محاورہ ہے Where There is a will, There is a way الیکشن کے دن عید کا سا سماں ہوتا ہے۔ سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک آن ملتے ہیں۔ اگر احباب کاملنا ملاقات مسیحا و خضر سے بہتر ہے تو پھر ایک دوسرے سے بات چیت کرنا بھی کانوں میں عجب رس گھولا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.