ایک ایسے خاندان کا تذکرہ جس نے بانی پاکستان محمد علی جان کو واقعی سونے میں تول دیا تھا ۔۔۔

’’لاہور (ویب ڈیسک) جب پاکستان قائم ہوچکا تو قائداعظمؒ نے مجھے کراچی بلایا، میں 22دنوں تک ان کا مہمان رہا۔ اس قیام کے دوران میں قائداعظمؒ نے فرمایا کہمیں اس ملک کا چلانے والا نہیں ہوں۔ وہ کہتے تھے دیکھو خان! میرے عزیز نوجوان! میں اب بوڑھا ہوچکا ہوں، تم آئو اور میری مدد کرو،

نامور کالم نگار سید سردار احمد پیرزادہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اس ملک کو چلانے کے لیے قابل آدمیوں کی ضرورت ہے۔ اس کے جواب میں خان آف قلات نے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر میری کچھ شرائط ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ الیکشن کرا دیں، انتخابات آپ کی زندگی میں ہوسکتے ہیں بعد میں مشکلات ہوں گی۔ پاکستان کا آئین بنوا دیں اور پاکستانکو اسلامی ریاست قرار دے دیں۔ یہ سن کر قائداعظمؒ نے فرمایا کہ میں یہ کیسے کرسکتا ہوں؟ اس پر خان آف قلات احمد یار خاں بولے کہ جس طرح میں نے اپنی ریاست قلات میں کیا ہے، میری ریاست میں اسلام ہے، میں دس سال سے اسے چلا رہا ہوں، آپ بھی اسی طرح کریں۔ یہ سن کر قائداعظمؒ بولے کہ وہ آپ کی ریاست ہے۔ یہ پاکستان میری ریاست نہیں ہے، پاکستان میں مختلف الخیال لوگ ہیں، ان کی اپنی ایک آئین ساز اسمبلی ہے۔ اسمبلی کو آئین سازی کا پورا اختیار ہے، مجھے اختیار نہیں ہے۔ البتہ اسمبلی جو قانون چاہے بنائے یہ اس کا دائرہ اختیار ہے۔ میں کوئی بادشاہ ہوں، نہ کوئی فوجی آمر کہ میں لوگوں پر حکم چلاتا پھروں‘‘۔ خان آف قلات احمد یار خاں اور قائداعظمؒ کی اس گفتگو کا ذکر ممتاز محقق پروفیسر سید ذوالقرنین زیدی نے اپنی کتاب ’’قائداعظم کے رفقاء سے ملاقاتیں‘‘ میں کیا ہے۔ وہ خان آف قلات کی مزید باتیں لکھتے ہیں کہ ’’قیام پاکستان سے قبل قائداعظمؒ ریاست قلات کے سرکاری وکیل تھے ۔ وہ بلوچستان آکر بہت خوش ہوتے اور مطمئن ہوتے۔ایک دفعہ قائداعظمؒ چھ ہفتوں کے لیے خان آف قلات کے مہمان بنے تو قائداعظمؒ کی آمد پر اُن کا وزن کیا گیا اور رخصت کے وقت دوبارہ وزن کیا گیا تو وزن میں اضافہ ہوچکا تھا۔ خان آف قلات کہتے ہیں کہ قائداعظمؒ میرے ساتھ چھ چھ گھنٹے باتیں کرتے رہتے۔ ان آف قلات نے مسرور کن لہجے میں ایک واقعہ کا ذکر کیا کہ مسلم لیگ تحریک کو تقویت پہنچانے کے لیے ایک مرتبہ قائداعظمؒ نے اپیل کی کہ مجھے پستول اور بندوق کی گولیاں نہیں چاہئیں، مجھے چاندی کی گولیاں چاہئیں۔ اس کے جواب میں ، میں نے قائداعظمؒ سے اُن کے وزن کے حوالے سے دریافت کیا۔ مجھے یاد ہے کہ ان کا وزن 140 پونڈ تھا۔ میں نے اُن کے وزن سے زیادہ 180 پونڈ سونا اُس وقت تحریک کو دیا۔ یہ واقعہ میرے گھر کا ہے اس لیے میں اس کی تشہیر نہیں چاہتا تھا۔

Comments are closed.