ایک بات یاد رکھیے گا مارشل صاحب : بھٹو جس حال میں بھی ہو بھٹو ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ذوالفقار علی بھٹو نے پی آئی اے کے ایک سربراہ کو یہ بات کیوں کہی تھی ؟ ہارون الرشید نے انوکھا واقعہ بیان کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔معاشرے کی اخلاقی تباہی میں بہت سے دوسرے عوامل کا دخل بھی ہے لیکن شریف برادران کی اس روش نے بھی زوال کو تیز تر کیا۔ اتنا تیز کہ معاملہ اب قابو سے باہر ہو چکا۔سول حکومت کیا،

اسٹیبلشمنٹ بھی اب دیواروں سے سر ٹکراتی پھرتی ہے۔ 22ماہ کے عرصے میں پنجاب میں تین آئی جی آئے اور چلے گئے۔ سوچ سمجھ کر تین بہترین چیف سیکرٹری چنے گئے اور رخصت ہوئے۔ بڑھتے بڑھتے بگاڑ وہاں آپہنچا ہے کہ ایک بڑی سرجری کے سوا کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔۔۔ اور اس درجے کا سرجن کوئی نظر نہیں آتا۔ بے بسی سی بے بسی ہے اور مجبوری سی مجبوری ہے۔ بائیس کروڑ کی ایک قوم تاریخ کے چوراہے پہ لاچار کھڑی ہے اور نہیں جانتی کہ آنے والا کل اس کے لیے کیا لائے گا۔ شاعر نے کہا تھا: یہ جامہ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا مہلت ہی نہ دی فیض کبھی بخیہ گری نے اور پچھلی صدی کے ایک قادر الکلام کا کہنا یہ ہے مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا کچھ چھوٹے چھوٹے پیوند افسر شاہی میں ہم نے لگائے مگر پیوند ہی۔کچھ اصلاح ہوئی تو کچھ خرابی بھی۔دس فیصد افسر اب فوج سے لیے جاتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے تاخیر سے شمولیت (Lateral Entry)کے ذریعے بہت سے نئے افسر شامل کیے تھے۔ لائق فائق بھی ان میں تھے لیکن ایسے بھی کہ سبحان اللہ۔ ایک واقعہ ان کے اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار بیان کیا کرتے: بھٹو نے اپنے ایک بھانجے کو پی آئی اے میں بھرتی کرایا۔ وہ کہا کرتے: یہ بھی معلوم نہیں کہ اس نے میٹرک کا امتحان بھی پاس کیا تھا یا نہیں۔ ان کے بقول تھا بہت کائیاں اور چرب زبان چنانچہ سیلز پروموشن افسر بنا دیا گیا۔

ایک کارعنایت کر دی گئی، تواضع کے لیے ہر ماہ معقول رقم اور مرکزی دفتر میں نشست۔ اسی نوجوان جسے پیار سے ’’ٹکو‘‘ کہا جاتا، کا ایک اور رشتے دار سندھ کا وزیرِ اعلیٰ تھا، قہر مان ممتاز بھٹو، جو ایک بادشاہ کی طرح حکمرانی کرتے۔ دوسرو ں کا تو ذکر ہی کیا، جنہوں نے شائستہ اطوار اور وضع دار غلام مصطفی جتوئی کے گھر چھاپہ مارا او رانہیں رسوا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس لڑکے کا اصل نام محفوظ مصطفی تھا۔ اس کے بقول یہ اس کی زندگی کا بہترین وقت تھا۔ بار بار افسروں کی طرف سے ٹوکنے اور سمجھانے کے باوجود،اس کان سے سن کر اس کان سے نکال دیتا۔ زچ ہو کر ان افسروں نے پی آئی اے کے اساطیری چئیرمین نور خان سے بات کی۔ اپنی دیانت، خلوص اور ریاضت کیشی کی وجہ سے جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ’’ٹکو‘‘ کو انہوں نے بلایا اور کہا کہ آج سے اپنا کام احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دو ورنہ گھر جاؤ۔ اسی اثنا میں جنابِ بھٹو لاڑکانہ کے دورے پر گئے۔ نور خان کو انہوں نے طلب کیا۔ پیغام میں کہا گیا تھا کہ پی آئی اے کے بارے میں وہ ایک بریفنگ چاہتے ہیں۔ بریفنگ مکمل ہو چکی تو وزیرِ اعظم نے کہا ’’یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے گا ائیر مارشل صاحب!بھٹو بہرحال بھٹو ہوتاہے۔ نور خاں نے فخرِ ایشیا، قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کو تعجب سے دیکھا اور واپس چلے گئے۔ کراچی پہنچتے ہی اپنا استعفیٰ انہوں نے وزیرِ اعظم کو بھجوا دیا۔پی آئی اے سمیت ملک بھر کے تمام ادارے کس طرح تباہ ہوئے، یہ کوئی راز نہیں۔ راز کی بات یہ ہے کہ اپنی حماقتوں پہ غور کرنے اور خود کو بدلنے کاارادہ ہم ہرگز نہیں رکھتے۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.