ایک بار دلدار پرویز بھٹی مرحوم نے ڈاکٹر اجمل نیازی مرحوم کو کیا جگت لگائی تھی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔مرحوم کالم نویس وشاعر ڈاکٹر اجمل نیازی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اپنے گزشتہ کالم ’’سوئی دھاگہ‘‘ میں عرض کیا تھا ’’اجمل نیازی کا یہ مؤقف ہوتا تھا جب کوئی انسان کسی کی کسی بات یا جملے سے چڑتا ہے وہی بات یا جملہ

اُس کے گلے پڑ جاتا ہے جو اُس کی چھیڑ بن جاتی ہے‘‘… ایک بار اجمل نیازی خود اِس کا شکار ہوگئے، وہ لفظ ’’سوئی دھاگے‘‘ سے چڑ گئے، بعد میں ’’سوئی دھاگہ‘‘ اُن کی چھیڑ پڑ گئی،…حسن رضوی کے ساتھ اُن کی بڑی بے تکلفی تھی، ہماری نوجوان نسل شاید حسن رضوی کے نام اور اُن کی ادبی خدمات سے واقف نہ ہو، حسن رضوی معروف شاعر اور روزنامہ جنگ کے ادبی ایڈیشن کے انچارج ہونے کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ ایف سی کالج لاہور میں اردو ادب کے اُستاد بھی تھے، وہ جوانی میں ہی انتقال فرماگئے تھے، وہ اجمل نیازی کو ’’مولوی‘‘ کہہ کر پکارتے تھے، دلدار بھٹی بھی اجمل نیازی کو زیادہ تر مولوی کہہ کر پکارتے، ادبی کارناموں کے ساتھ ساتھ داڑھی اور پگڑی بھی اجمل نیازی کی شناخت تھیں، بلکہ یہ شناخت اُن کے ادبی کارناموں سے آگے نکل گئیں، اکثر لوگوں سے جب ہم اجمل نیازی کی ادبی خدمات کا ذکرکرتے ، لوگ کہتے اچھا وہ داڑھی اور پگڑی والے اجمل نیازی ؟… داڑھی اور پگڑی اُن پر جچتی بھی بہت تھیں، اُن کی داڑھی اُن کے تقریباً پورے چہرے پر پھیلی ہوئی تھی، ایک بار دلدارپرویز بھٹی نے ازرہ مذاق اُن سے کہا ’’یار اجمل تمہاری بیگم نے اگر تمہارا بوسہ لینا ہو تو پہلے اُنہیں پُھونک کر بال پرے کرنا پڑتے ہوں گے‘‘…وہ دلدار بھٹی کے اِس جُملے کو تو پتہ نہیں کیسے برداشت کرگئے مگر اُس وقت وہ غصے سے پاگل ہوگئے جب دلدار بھٹی نے اُن سے کہا ’’یار اجمل تم اگر داڑھی منڈوالو تو

اجمل نیازی کم ناہید نیازی زیادہ لگو… کیا زمانہ تھا دوستوں کی بڑی بڑی محبتیں ہوتی تھیں اُن میں چھوٹی چھوٹی ناراضگیاں ان محبتوں میں مزید اضافہ کردیاکرتی تھیں، دو ناراض دوستوں کی جب صلح ہوتی اُن میں محبت پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی تھی، اب چھوٹی چھوٹی باتوں پر نفرتیں دشمنیوں میں بدل جاتی ہیں، اور اکثر یہ ہوتا ہے اُس کے نتیجے میں کئی لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، ناراض دوستوں کو منانے کا جذبہ مکمل طورپر ختم ہوچکا ہے، اِس جذبے کو ہماری جھوٹی انائیں نگل گئیں، ایک بار اجمل نیازی اپنے بارے میں میرے کالم کے ایک جُملے سے مجھ سے ایسے ناراض ہوئے مشترکہ دوستوں کی لاکھ کوششوں کے باوجود وہ مان نہیں رہے تھے، میں نے اِن مشترکہ دوستوں کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا اور جولائی کی ایک آگ برساتی ہوئی دوپہر کو میں خود اُن کے گھر گیا، بیل دی، اُن کا ملازم باہر آیا، وہ اندر گیا اور دوبارہ باہر آکر مجھ سے کہنے لگا ’’نیازی صاحب فرما رہے ہیں اُنہوں نے آپ سے نہیں مِلنا‘‘…میں نے اُن کے ملازم سے کہا ، ’’چاچاوہ جب تک مجھ سے نہیں ملتے میں گاڑی میں بیٹھا ہوں، گرمی بہت ہے بس آپ مہربانی یہ کیجئے کا تھوڑی تھوڑی دیر بعد مجھے ٹھنڈا پانی پلا دیجئے گا ، اور اگر ہوسکے تو شام کو چائے کی ایک پیالی دے دیجئے گا‘‘…ظاہر ہے اُن کے ملازم نے یہ بات اندر جاکر اُنہیں بتائی ہوگی، کچھ ہی دیربعد وہ باہر نکلے اور مجھے سینے سے لگاکر اندر لے گئے، روٹھے دوستوں کو منانا بہت مشکل کام ہے، میں یہ کام آسانی سے کرلیتا ہوں،

مجھے دوستوں کو اتنا ناراض کرنا نہیں آتا جتنا منانا آتا ہے، بس یہ دعا کرتا ہوں اللہ مجھے بڑے ظرف والے دوست عطا فرمائے کہ میں جب اُنہیں منانے جائوں اُن سے معذرت کروں، وہ مجھے معاف کردیں، حالت اب یہ ہے اتنے گناہ گار ہونے کے باوجود آپ یہ اُمید تو کرسکتے ہیں اللہ معافی مانگنے پر آپ کو معاف کردے گا، یہ اُمید نہیں کرسکتے کچھ لوگ دل سے آپ کو معاف کردیں،… بہرحال یہ ایک الگ داستان ہے جس پر کئی بار میں بہت کچھ لکھ کر ضائع کرچکا ہوں، ہماری باتوں کا اب لوگوں پر شاید اِس لیے اثر نہیں ہوتا ہماری باتوں کا خود ہم پر اثر نہیں ہوتا، ہمارے کہنے اور کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے، منافقت ہماری نس نس میں رچ بس گئی ہے … میں اجمل نیازی کے ساتھ دوستوں کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں کا ذکر کررہا تھا، بہت عرصے بعد ’’سوئی دھاگے‘‘ کی چھیڑ سے اُن کی جان چھوٹی تو حسن رضوی نے اُن کے چھوٹے سے اُبھرے ہوئے سینے کے اعتبار سے اُنہیں ’’چرغا‘‘ کہنا شروع کردیا، یہ نئی چھیڑ اُن کے لیے پرانی چھیڑ’’سوئی دھاگے‘‘ سے زیادہ جان لیوا تھی، حتیٰ کہ اُنہیں کسی ڈنر پر مدعوکیا جاتا وہاں میز پر چرغا پڑا ہوتا وہ میزبان کے گلے پڑ جاتے کہ یہ کیوں یہاں رکھا ہے؟… کامران لاشاری لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ ایک بار اُنہوں نے مجھے اور اجمل نیازی کو جی او آرتھری شادمان میں واقع اپنے سرکاری گھر میں کھانے پر مدعوکیا، ہم کھانے کی ٹیبل پر بیٹھ گئے، کامران لاشاری اِس دوران ہاتھ دھونے شاید واش روم گئے، اجمل نیازی اُن کے ملازم سے پوچھنے لگے ساری ڈشیں میز پر لگ گئی ہیں ناں؟،

ملازم بولا ’’جی لگ گئی ہیں‘‘، …اجمل نیازی کے چہرے پر اس وقت عجیب سی اِک سرشاری میں نے محسوس کی، اُس کی وجہ جو میری سمجھ میں اُس وقت آئی وہ یہ تھی کہ ان ڈشوں میں ’’چرغا‘‘ نہیں تھا، کھانے کے بعد ہم جب چائے کے لیے دوبارہ ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھے وہ کامران لاشاری سے کہنے لگے ’’آپ ڈپٹی کمشنر ہیں آپ کو چاہیے لاہور کے تمام ’’چرغاہائوسز، فوری طورپر بند کروادیں‘‘…کامران لاشاری نے حیرت سے اُن کی طرف دیکھتے ہوئے اُس کی وجہ پوچھی وہ فرمانے لگے’’اصل میں اُن چرغوں پر جو مصالحہ ڈالتے ہیں وہ انتہائی مضرصحت ہوتا ہے‘‘… میں نے بڑی مشکل سے اُس وقت اپنی ہنسی کو قابو کیا کیونکہ میں اگر اُس وقت ہنس پڑتا خدشہ تھا وہ وہیں میری ’’بتیسی ‘‘ نکال دیتے، وہ اپنی اِس چھیڑ کے حوالے سے اتنے حساس اتنے محتاط تھے اُنہیں جب کچھ لوگ کسی ڈنر یا لنچ وغیرہ پر مدعو کرتے وہ احتیاطاً کھانے کا مینیوپوچھ لیا کرتے تھے، ایک بار میں نے اپنے گھر کچھ دوستوں کو ڈنر پر مدعو کیا، مہمانوں میں اجمل نیازی بھی شامل تھے، والدہ محترمہ نے بڑے مزے مزے کی کشمیری ڈشیں تیار کی تھیں، ہریسہ اور پائے وغیرہ بھی اُن میں شامل تھے، والد صاحب دکان سے واپس آتے ہوئے تین چرغے بھی لکشمی چوک طباق سے لیتے آئے، اُس وقت سب میز پر بیٹھے کھانا کھارہے تھے، میری اچانک نظرپڑی ہمارے خدمت گزار شاہ جی ایک ٹرے میں تینوں چرغے لے کر کھانے کی میز کی جانب بڑھ رہے ہیں، میں ’’نقص امن کے خدشے‘‘ کے تحت فوری طورپر اُن کی طرف بھاگا۔ چرغے اُن کے ہاتھ سے چھین کرواپس امی کو دیئے اور اُن سے کہا ’’ان کی ضرورت نہیں ہے ‘‘ …