ایک بار ماہرہ خان نے ہمایوں سعید کو کیا وارننگ دی تھی ؟

کراچی (ویب ڈیسک) اداکارہ ماہرہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ جب وہ ایک دہائی قبل ہمایوں سعید کے ساتھ پہلے ڈرامے ’نیت‘ میں کام کر رہی تھیں تو انہوں نے پہلے ہی اداکار پر واضح کیا تھا کہ وہ ان کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کریں گے، جیسا وہ دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں۔

واسع چوہدری کے شو میں محبتوں کے عالمی دن پر ہمایوں سعید اور ماہرہ خان ایک ساتھ شریک ہوئے، جہاں دونوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی سمیت دیگر مسائل پر بھی باتیں کیں۔اداکارہ کے مطابق ایک دن جب وہ ہمایوں سعید کے ساتھ برگر کھانے باہر گئیں تو انہوں نے اداکار کو بولا کہ انہوں نے سن رکھا ہے کہ وہ ’عاشق مزاج‘ ہیں مگر ساتھ ہی ان پر واضح کیا کہ وہ اداکارہ کے ساتھ کچھ نہیں کریں گے۔ماہرہ خان کے مطابق ہمایوں سعید ان کی بات پر ہنس پڑے اور انہوں نے اداکارہ کو بتایا کہ ‘وہ کبھی لڑکیوں کے پیچھے نہیں بھاگتے بلکہ لڑکیاں ان کے پیچھے آتی ہیں‘۔پروگرام میں دونوں نے بتایا کہ ’نیت‘ کی عکسبندی کے دوران ہی جلد ان کی دوستی بھی ہوگئی۔ ہمایوں سعید نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب دونوں رومانوی فلم ’بن روئے‘ میں کام کر رہے تھے تب ماہرہ خان نے کئی مناظر کو درست ہونے کے باوجود دوبارہ عکسبند کروایا تا کہ ’بن روئے‘ کے مناظر اور بھی اچھے لگیں۔ ماہرہ خان نے بتایا کہ انہوں نے ہر طرح کے سینیئر، جونیئر اور لیجنڈز اداکاروں کے ساتھ کام کیا ہے مگر کوئی بھی ہمایوں سعید جیسا نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں دونوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ انہیں کسی رومانوی فلم میں ایک ساتھ کام کرنے کا موقع ملے۔پروگرام میں ماہرہ خان نے سوشل میڈیا پر بولڈ تصاویر و پوسٹس شیئر کیے جانے پر تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے معاملے پر بھی بات کی اور کہا کہ بعض اوقات مداحوں کی تنقید سے انہیں تکلیف پہنچتی ہے۔ انہوں نے حسن شہریار کے شو میں اپنی محبت سے متعلق اس لیے اعتراف کیا تھا کیوں کہ میزبان پہلے سے ہی ان کے بوائے فرینڈ صنعت کار سلیم کریم کا نام لیا تھا۔خیال رہے کہ ماہرہ خان نے جون 2020 میں فیشن ڈیزائنر حسن شہریار کے ساتھ انٹرویو کے دوران اعتراف کیا تھا کہ وہ صنعت کار سلیم کریم سے محبت کرتی ہیں۔اس سے قبل انہوں نے ثمینہ پیرزادہ کے شو میں صرف یہ اعتراف کیا تھا کہ انہیں محبت ہوگئی ہے، تاہم انہوں نے بوائے فرینڈ کا نام نہیں بتایا تھا۔گزشتہ برس کے آغاز میں سلیم کریم سے ان کی ترکی میں شادی کی افواہیں بھی پھیلی تھیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *