ایک بار مشہور بھارتی مصنف خوشونت سنگھ نے کیا کہا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جب ہمیں اپنے ہی ”پالتو“جنونی جتھوں کے سامنے لیٹ جانے یا سرنڈر کرجانے کی عادت پڑجائے پھر یہی افراتفری، یہی طوفان بدتمیزی وبداخلاقی، یہی لاقانونیت، یہی عدم برداشت اورظلم و بربریت کے ایسے ہی سانحات ہوتے ہیں جو پچھلے ہفتے سیالکوٹ میں ہوا،

ایسے سانحات پر اب زمین کانپتی ہے نہ آسمان گرتا ہے، ہم پر عذاب اب اورطرح کے آتے ہیں، ہم پر ایسے حکمران مسلط کردیئے جاتے ہیں جن کی ساری توجہ و جدوجہد اقتدار بچانے کے لیے ہوتی ہے، یا پھر مال بنانے کے لیے ہوتی ہے، ہم نے ان عذابوں کے ساتھ خود کو ”ایڈجسٹ“ کرلیاہوا ہے،…… پاکستان اِس وقت مختلف اقسام کی بدنامیوں کی زد میں ہے، جس قسم کی غلاظتوں کے مظاہرے ہم کرتے ہیں مہذب دنیا ہم پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتی کہ کہیں اُس کی تھوک ضائع نہ ہو جائے، یہاں کسی کوکسی کی فکر نہیں، ہر کوئی اپنے مفادات کا دیوانہ ہے، اِس دیوانگی اِس جنونی پن میں دِن بدن اضافہ ہوتاجارہا ہے، ہم آپ اپنے دشمن ہیں، ہمیں باہرسے کسی دشمن کی ضرورت ہی نہیں ہے، ہمارے اکثر حکمران فرماتے ہیں ”ہم کسی کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھنے دیں گے“…… ہماری اپنی آنکھیں اس قدر میلی ہیں کسی غیر کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی، پاکستان کو اتنا خطرہ باہر سے نہیں جتنا اندر سے ہے، …… اب نہیں کوئی بات خطرے کی …… اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے“…… ہمارے حکمران صرف اُن خطروں سے خوفزدہ رہتے ہیں جو اُن کے اقتدار کو لاحق ہوتے ہیں، جو خطرات اس ملک اور اِس کے کروڑوں عوام کو لاحق ہیں اُس کی فکر مستقل طورپر حکمرانوں نے آج سے نہیں گزشتہ کئی برسوں سے چھوڑ دی ہوئی ہے……ایسے ہی تو نہیں بھارتی دانشورخشونت سنگھ نے فرمایا تھا

”1947ء میں برصغیر کے مسلمان ایک قوم کی طرح متحد تھے، تب اِس قوم کو ایک ملک کی ضرورت تھی، پھر قائداعظم ؒ نے پاکستان کے نام سے ایک ملک بنایا، آج اس ملک کو ایک ”قوم“ کی ضرورت ہے“…… مدت ہوئی میں نے ”قوم“ لکھنا چھوڑ دیا، یہ ایک ”ہجوم“ ہے، جو دِن بدن بپھرتا جارہا ہے، بگڑتا جارہا ہے، کھانے کو جب اِس ہجوم کے پاس کچھ نہیں رہا یہ ایک دوسرے کو کھانے کو دوڑتا ہے۔ سب بھاگے جارہے ہیں، کسی کو راستہ معلوم ہے نہ منزل، شہر کے کسی اُونچے مقام پر کھڑے ہوکر نیچے ٹریفک دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ہم کس فطرت کے مالک ہیں، دوسروں کے راستے روک کر اپنے راستے بنانے والے کمینے لوگ ……کبھی کبھی انہیں سڑکوں پر ٹریفک کی بدنظمی دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے شہر پر کوئی قیامت ٹوٹ پڑی ہے اور لوگ کسی نامعلوم مقام کی طرف بھاگتے جارہے ہیں، ایک دوسرے کو کچلتے جارہے ہیں،یوں محسوس ہوتا ہے پاکستان کے تمام پاگل خانوں کے دروازے کھول کر تمام پاگلوں کو آزاد کردیا گیا ہے، وہ سڑکوں پر آگئے ہیں، اُن سب کے ہاتھوں میں اینٹیں ہیں اورملک اُن کے نشانے پر ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں، معمولی معمولی واقعات پر لوگ ایک دوسرے کو زندگی سے محروم کرنے تک لینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، ……”جرائم“ ہماری آبادی کی طرح بڑھتے جارہے ہیں …… کب سے وزیراعظم عمران خان سے میں ہاتھ جوڑ کر میں یہ بھیک مانگ رہا ہوں خدا کے واسطے اِس ملک کے اصل مسئلے جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی ہوئی آبادی کے آگے کوئی بند باندھیں۔

اُس کے لیے کوئی قانون بنائیں لوگوں کو بڑھتی ہوئی آبادی کے شدید ترین نقصانات سے آگاہ کرنے یا اس حوالے سے اُنہیں شعوردینے کے لیے ادارے قائم کریں، افسوس اِس طرف نہ سابقہ حکمرانوں نے کوئی توجہ دی نہ تبدیلی کے دعوے دار موجودہ حکمرانوں نے دی، ہرشعبے میں ”تبدیلی“ یہ آئی ہے ”تباہی“ بڑھ گئی ہے، بکاؤ مال ہرشعبے پر غالب آگیا ہے، یہاں بے شمار لوگوں کا ”دین ایمان“ صرف پیسہ ہے، پاکستان کا مطلب ہی بدبختوں نے بدل کر رکھ دیا، ”پاکستان کا مطلب کیا، پیسے ساہڈے ہتھ پھڑا……جیڑا مرضی کام کرا“……بدعنوانی کی گنگا سے پہلے لوگ صرف ہاتھ دھوتے تھے اب باقاعدہ غسل کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، ملک کی ترقی یا معاشرے کو مہذب بنانے کا کوئی پلان سابقہ حکمرانوں کے پاس تھا نہ موجودہ حکمرانوں کے پاس ہے، سب اپنی اپنی ترقی کے پلان پر عملدرآمد میں مصروف ہیں، یہ جو ہمارے بیوروکریٹس ہیں، یہ جو ہمارے سیاسی و اصلی حکمران ہیں، اور کچھ عدالتی حکمران بھی ہیں، ان سب کا ”بڑا ایکشن “ اگر کیا جائے ان کے پاپی پیٹوں سے اتنا مال برآمد ہوگا پاکستان کے اگلے پچھلے سارے قرضے اُتر سکتے ہیں، مگر ظاہر ہے چور، چوروں کے ہاتھ تو نہیں کاٹتے، وہ اُن کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں، باتیں سابقہ حکمران بھی بڑی کرتے تھے، موجودہ حکمران تو کرتے ہی صرف باتیں ہیں، اکثر میں سوچتا ہوں کاش اس ملک میں دو وزیراعظم ہوتے، ایک کام کرنے والا، دوسرا باتیں کرنے والا …… تین برسوں سے زائد بیت گئے، کام دوٹکے کا اب تک نہیں کرسکے، باتیں اربوں کھربوں کی کرتے جارہے ہیں،

اور اب تو بات بھی اُنہیں بنانی نہیں آتی…… ”یہ درست ہے کام چلایا باتوں سے ہم نے …… اگرچہ بات بھی آئی ہمیں بنانی کہاں …… بولنے اور بھونکنے میں کیا فرق ہے؟ ہمارا کوئی حکمران آج تک یہ نہیں جان سکا، نہ یہ اُس کی ترجیحات میں ہے، بونگیاں لگانے کے البتہ سب بڑے ماہر ہیں، یا دوسری اُن کی اہلیت لوگوں کو اُلو بنانے کی ہے، اُلو کے پٹھوں نے اِس جنت (پاکستان) کو ایک دوزخ میں تبدیل کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی، یہ کام اُنہوں نے خود بھی کیا اور عوام یعنی ”ہجوم“ سے بھی بہت لیا، …… تبدیلی کے پُرکشش نعرے کا فائدہ اُٹھاتے اُٹھاتے اِن حکمرانوں نے ملک کو ایسے نقصانات سے دوچار کردیا جن کا ازالہ شاید ہی اب ہوسکے، ہمارا خیال تھا ”تبدیلی“ کے پُرکشش نعرے کا بھرپور فائدہ اُٹھانے کے بعد یہ جب اقتدار میں آئیں گے صرف مالی طورپر ہی نہیں اخلاقی طورپر بھی ملک کو ایک نئی منزل کی طرف لے جائیں گے، یہاں تو بیڑا ہی غرق ہوکر رہ گیا، صرف وزیراعظم بدلا۔ اِس کے علاوہ کچھ نہیں بدلا۔ اور وزیراعظم بھی کہاں بدلا؟،وہ صرف ذاتی بدلے لینے کے لیے بدلا۔ انتقامی سیاست اور انتقامی طرز حکومت نے معاشرے کی ایک گہری کھائی میں پھینک دیا ہے، جبکہ ہم توقع یہ کررہے تھے وہ ایک مختلف وزیراعظم ثابت ہوگا جس کی سب سے زیادہ توجہ معاشرے کے بگڑے ہوئے اخلاقیات کو درست کرنے کی طرف ہوگی، جو سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گا، جس کے رویے سے معاشرے میں روز بروز بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے رحجان میں کچھ کمی واقع ہوگی …… کچھ بھی نہیں ہوا، جی ہاں کچھ بھی نہیں ہوا، ہم اب سرپکڑ کے بیٹھے ہیں جائیں تو کہاں جائیں؟، سوچئے، ذرا سوچئے، سیالکوٹ میں سری لنکا کے ایک شہری کے ساتھ جو کچھ بپھرے ہوئے ایک ہجوم نے کیا، جسے لکھتے ہوئے روح کانپتی ہے، کیا اس سانحے کا قصور وار صرف ایک بپھرا ہوا ”پالتوجتھا“ ہے۔ یا کوئی اور بھی ہے؟؟؟