ایک بار میاں نواز شریف نے آصف زرداری کو کیا مشورہ دیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) 2007ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حادثاتی موت کے بعد میاں نواز شریف نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا‘ چند ہفتے قبل وہ قاضی حسین احمد‘ عمران خان‘ محمود خان اچکزئی اور دیگر اتحادیوں کو بائیکاٹ کے معاملے پر دھوکہ دے چکے تھے مگر لاڑکانہ کی ایک ہی ملاقات میں

آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کو بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کر دیا‘ ثابت یہ ہوا کہ میاں صاحب اہم نوعیت کے فیصلے بھی سوچ سمجھ کر سیاسی بصیرت اور عملیت پسندی کے تقاضوں کے تحت نہیں محض جوش جذبات میں کرتے اور پھر مُکر جاتے ہیں ۔نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ آصف علی زرداری 2008ء میں پہلی بار جاتی اُمرا آئے اور دونوں لیڈروں نے باہمی تعلق کو اگلی نسلوں‘ مریم نواز و بلاول بھٹو تک بڑھانے کا عہد و پیمان کیا تو مداحوں نے خوشی کے شادیانے بجائے مگر چند دنوں کے اندر کاٹھ کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ گئی‘ جاتی امرا کی ملاقات میں میاں نواز شریف نے آصف علی زرداری کو مشورہ دیا کہ موقع مناسب ہے دونوں جماعتیں مل کر پارلیمنٹ کے ذریعے صدر پرویز مشرف کا مواخذہ کریں اور فوجی آمر کو عبرت کا نشان بنا دیں‘ بقول شخصے زرداری صاحب مسکرائے اور میاں صاحب سے پوچھنے لگے میرے بوڑھے باپ کا کیا قصور ہے ‘آپ مجھے ایسا مشورہ دے رہے ہیں ۔میاں صاحب حیران کہ بھلا اس میں قصور والی کون سی بات ہے‘ پوچھنے پر زرداری صاحب نے کہا کہ میں حاکم علی زرداری کا اکلوتا بیٹا ہوں‘ اس عمر میں اپنے باپ کو دکھ دینا نہیں چاہتا‘ ذوالفقار علی بھٹو ہم دونوں سے زیادہ تجربہ کار‘ ذہین اور مقبول سیاستدان تھے مگر ایک فوجی سربراہ ضیاء الحق سے چھیڑ چھاڑ انہیں تختہ دار پر لے گئی‘میں تو کمزور آدمی ہوں نہ بھٹو کی طرح مقبول اور نہ آپ کی طرح مضبوط کہ اس حرکت سے بوڑھے باپ کو صدمے سے دوچار کروں

‘آپ مضبوط اور مقبول سیاستدان ہیں ہمارے بعد آپ کی باری ہے اس وقت آپ یہ بیڑا اٹھا لیجیے گا‘ہم آپ کے لئے دعاگو ہوں گے۔ پرویز مشرف سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ 1999ء میں میاں صاحب بھگت چکے تھے مگر دیرینہ عادت سے باز آئے نہ زرداری کا مشورہ یاد رکھا۔2014ء میں ایک بار پھر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو نشانہ عبرت بنانا چاہا اور پہلے ایوان اقتدار اور پھر ملک کو خیر باد کہنے پر مجبور ہوئے ۔ پہلے ایسی حرکت کا نتیجہ بھگت چکے مگر عادت سے مجبور میاں صاحب اب پھر اپنے درپے ہیں اللہ خیر کرے۔ آٹھ اور نو دسمبر کے اجلاس نشتند‘ گفتند‘ برخاستند ثابت ہوئے لاہور کا جلسہ پہلے سے طے تھا‘ استعفوں کی ڈیڈ لائن دینے کے لئے بلائے جانے والے اجلاس میں اتفاق رائے نہ ہو سکا ‘پیپلز پارٹی نے یہ بات منوا لی کہ وہ سندھ حکومت سے دستبردار ہو گی نہ سندھ میں اس کے ارکان صوبائی اسمبلی استعفیٰ دیں گے‘ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی قوت کیا ہے ؟گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا ؟جوش جذبات میں بعض مسلم لیگی ارکان اسمبلی نے مریم نواز کو خوش کرنے کے لئے اپنے استعفے لکھ کر قیادت اور میڈیا کے حوالے کئے ہیں مگر اکتیس دسمبر کی ڈیڈ لائن آنے پر آشکار ہو گا کہ پنجاب کے کتنے لیگی ارکان بھی قیادت کے فیصلے سے متفق نہیں‘ بیرسٹر اعتزاز احسن نے قانونی پوزیشن بتا کر ارکان اسمبلی اور اپنی پارٹی کو آئینہ دکھایا ہے کہ استعفیٰ کارڈ کھیل کر اپوزیشن اپنے پائوں پر کلہاڑی مارے گی‘ ایسی صورت میں اول تو ضمنی انتخابات کی آپشن موجود ہے لیکن بالفرض اگر نئے انتخابات کی نوبت آئی تو یہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی نگرانی میں ہوں گے ‘کسی نگران حکومت کی گنجائش آئین میں نہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.