ایک بڑھیا کا چنچل شوخ حسینہ کو کرارا جواب

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عالمی یوم خواتین پرجب ایک لڑکی ایک نوجوان کے مسلسل گھورنے سے پریشان ہوئی تو ساتھ سیٹ پہ بیٹھی بزرگ عورت سے بولی۔۔یہ بے حیا مرد پچھلے آدھے گھنٹے سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھے دیکھ رہا ہے۔

بوڑھی اماں نے سر سے پائوں تک لڑکی کو دیکھا اور اطمینان سے بولی۔۔ یہ وہی دیکھ رہا ہے جو تم نے دکھانے کے لیے اتنے چُست کپڑے پہن رکھے ہیں۔۔ موصوفہ گرج دار آواز میں بولی۔۔میرا جسم، میری مرضی۔۔بُزرگ عورت حماقت پر مبنی اس جملے کو سُن کر کہنے لگیں۔۔اگر تُمہارا جسم تُمہاری مرضی ہے تو اُس نے کونسی آنکھیں بینک سے قرضے میں لے رکھی ہیں! اُس کی آنکھیں اُسکی مرضی۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ تیرے جانے کے بعد وقت تھم سا گیا۔بعد میں پتا چلا کہ گھڑی کا سیل ختم ہو گیا تھا۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Comments are closed.