ایک حیران کن رپورٹ

نئی دہلی (ویب ڈیسک) انڈیا اور چین کے درمیان سرحد پر کشیدگی عروج پر ہے۔ اسی درمیان بدھ کے روز انڈیا کی پارلیمان میں ایک تحریری بیان کے بعد وفاق کی مودی حکومت پر حزب اختلاف نے شدید تنقید شروع کر دی ہے۔کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ ایک جانب لداخ میں سرحد پر

چین کے ساتھ جھڑپ میں انڈین فوجیوں کا جانی نقصان ہو رہا تھا ، تو دوسری جانب وفاقی حکومت ‘چینی بینک’ سے قرض لے رہی تھے۔نامور صحافی محمد شاہد بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اس بحث کا آغاز انڈیا کی ریاست ہماچل پردیش کے وزیر خزانہ انوراگ ٹھاکُر کے ایک تحریری بیان کے بعد ہوا۔بی جے پی کے دو اراکین پارلیمان نے سوال کیا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لیے وفاق نے فنڈز کا استعمال کیسے کیا اور اسے ریاستوں تک کیسے بھیجا۔اس سوال پر انوراگ ٹھاکر کی جانب سے پارلیمان کو دی جانے والی معلومات میں یہ بات سامنے آئی کہ وفاقی حکومت نے چین میں واقع ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک یعنی ’اے آئی آئی بی‘ سے کورونا وائرس کے آغاز سے اب تک دو بار قرض لیا ہے۔انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ ‘کووڈ 19 کے بحران سے نمٹنے کے لیے انڈین حکومت نے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سے قرض کے دو معاہدے کیے۔ پہلا قرض 8 مئی 2020 کو 50 کروڑ ڈالر کا لیا گیا۔ یہ قرض انڈیا میں کووڈ 19 سے نمٹنے کے ایمرجینسی حل اور صحت کے منصوبے کے لیے لیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد وبا کے سبب پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنا اور کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر صحت کے شعبے کو مضبوط کرنا تھا۔’اس کے بعد انڈیا نے قرض کا دوسرا معاہدہ 19 جون کو کیا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ لداخ کی وادی گلوان میں 15 جون کو انڈین اور چینی افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں 20 فوجی جان سے چلے گئے تھے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.