ایک حکایت جو آپ کوزندگی کا بڑا سبق دے جائے گی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار فضل حسین اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام آباد پنڈی سے نذیر احمد فاروق کبھی دور کی کوڑی لاتے ہیں۔ وہ ایک حکایت بتا رہے تھے۔’’ بادشاہ نے وزیر کوتین سوالوں کا جواب دینے کی شرط پر آدھی سلطنت دینے کاوعدہ کیا۔ وزیر نے لالچ میں آکر

شرائط پوچھیں۔ بادشاہ نے شرائط 3 سوالوں کی صورت میں بتائیں۔ دنیا کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟ دنیا کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟ دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟ بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ ان تین سوالوں کے جواب ایک ہفتہ کے اندر اندر بتائےبصورت دیگر موت۔وزیر نے سب سے پہلے دنیا کی بڑی سچائی جاننے کیلئے دانشوروں کو جمع کیا۔انہوں نے اپنی اپنی نیکیاں شمار کرائیں لیکن سب سے بڑی سچائی کا پتہ نہ چل سکا۔اسکے بعد وزیر نے دنیا کا سب سے بڑا دھوکا جاننے کیلئے کہا تو تمام دانشور اپنے دیئے ہوئے فریب کا تذکرہ کرتے ہوئے سوچنے لگے لیکن وزیر اس سے بھی مطمئن نہ ہوا تو سزاکے خوف سے علاقہ چھوڑ گیا۔ اسے کہیں ایک کسان نظر آیا۔ وزیر نے اس کو اپنی بپتا سنائی۔ کسان نے سوالوں کی جواب کچھ یوں دیئے۔ دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے۔دنیا کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے۔ تیسرے سوال کا جواب بتانے سے پہلے کسان نے کہا کہ میں اگر تمہارے سارے سوالوں کے جواب بتادوں تو مجھے کیا ملے گا۔ یہ سن کر وزیر نے اسے بیس گھوڑوں کی پیشکش کی ۔کسان نے یہ سن کر جواب دینے سے انکار کر دیا۔وزیر جانے لگا تو کسان بولا اگر بھاگ جائوگے تو ساری زندگی بھاگتے رہو گے ۔ پلٹو گے تو جان سے گزر جاؤ گے۔یہ سن کر وزیر رک گیا اور کسان کو آدھی سلطنت کی پیشکش کی لیکن کسان نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔اتنے میں ایک کتا آیا اور پیالے میں رکھے ہوئے دودھ سے آدھا پی کر چلا گیا۔کسان نے وزیر سے کہا مجھے آدھی سلطنت نہیں چاہیے بس تم اس بچے ہوئے دودھ کو پی لوتو میں تمہارے تیسرے سوال کا جواب بتادوں گا۔یہ سن کر وزیر تلملا کر رہ گیا مگرآدھی سلطنت کے لالچ میں اس نے دودھ پی لیا۔وزیر نے دودھ پی کر کسان کی طرف جواب طلب نظروں سے دیکھا۔ کسان نے کہا دنیا کی سب سے میٹھی چیز انسان کی غرض اور لالچ ہے جس کی خاطر وہ ذلیل ترین کام بھی کرجاتا ہے۔

Comments are closed.