ایک حیران کن تبصرہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نامور صحافی طارق بٹ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ خواجہ آصف کی گرفتاری، ایک اور قومی مذاکرات کا حامی قید میں ڈال دیا گیا ہے۔ نیب نے خواجہ آصف کو دوسری مرتبہ گرفتار کیا ہے، اس سے قبل 1999 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ن لیگ کے سینئر رہنما اور

قومی اسمبلی میں ان کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کو جو کہ قومی سطح پر مذاکرات کی بات کررہے تھے انہیں قید میں ڈال دیا گیا ہے۔تین ماہ قبل ن لیگ کے صدر شہباز شریف کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا تھا حالاں کہ وہ بھی محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کا راستہ چاہتے تھے۔ دونوں گرفتاریاں نیب نے کی ہیں۔ قومی مذاکرات کی بات کرنے پر خود ن لیگ کے لوگ ان پر شک کرتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ استقامت کے ساتھ اپنے موقف پر قائم رہے کہ موجودہ صورت حال کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے۔ گزشتہ برس نوازشریف کے کہنے پر وہ ہی پارٹی کے بنیادی رہنما تھے جنہوں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع/دوبارہ تقرری سے متعلق قانون میں ترمیم کے لیے اپنی پارٹی کے رہنمائوں کو حمایت کے لیے آمادہ کیا تھا۔ جس پر شاہد خاقان عباسی ان سے ناراض بھی ہوئے تھے۔ لیکن وہ کہتے رہے کہ انہوں نے وہ ہی کیا جو نوازشریف نے انہیں ہدایت کی تھی۔ نیب نے خواجہ آصف کو دوسری مرتبہ گرفتار کیا ہے، اس سے قبل انہیں پرویز مشرف کے دور میں 1999 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم، انہیں عدالتوں نے رہا کردیا تھا۔ وہ اسحاق ڈار کے ہمراہ نیب کی حراست میں رہے تھے۔ مشکل وقت اور طویل عرصے تک قید میں رہنے کے باوجود ان کی استقامت میں کمی نہیں آئی اور وہ ن لیگ کے وفادار رہے۔ نیب نے انہیں آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمے میں گرفتار کیا ہے۔ یہ کیس 2018 کے عام انتخابات سے اب تک چل رہا ہے۔ جب کہ وہ متعدد بار نیب کے پاس تحقیقات کے لیے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ ادارہ انسداد بدعنوانی پنجاب نے بھی ان کی اہلیہ اور دیگر گھروالوں کے خلاف سیالکوٹ کے ہائوسنگ ٹائون کے حوالے سے کیس درج کیا ہے۔ ان کی گرفتاری پر سیالکوٹ حلقے میں ان کی حریف وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار خوش ہیں۔ ان دونوں کو خواجہ آصف ہر الیکشن میں شکست دیتے آئے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *