ایک خصوصی تحریر

لاہور (شیر سلطان ملک ) لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ایک شریف خاتون پر اسکے بچوں کے سامنے ہونے والے ظلم کے بعد ایک بار پھر یہ بحث جاری ہے کہ اس واقعہ کے مجرمان کو سرعام تختہ دار پر چڑھا کر سزا دی جائے یا نہیں ؟سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ فی الحال موجود دفعات

اور سزاؤں کی موجودگی میں اس خاص واقعہ کے مجرمان کو تختہ دار پر لٹکانے کی سزا دیے جانے کا امکان کم ہی ہے ،کیونکہ انہوں نے لوٹ مار اور خاتون کے ساتھ غلط کاری کی ، البتہ کسی کی جان لینے کا جرم اس واقعہ میں نہیں ہوا ۔ البتہ اگر حکومت اور اپوزیشن مل جل کر کوئی ایسا قانون منظور کروا لیں تو ان مجرموں کا تختہ دار پر پہنچنا یقینی ہے ۔لیکن پے در پے ایسے واقعات کے بعد اور کچھ کیسز میں مجرمان کو سخت سزائیں ملنے کے باوجود چونکہ اس شرمناک فعل کا خاتمہ یا اس میں کمی نہیں ہو سکی اس لیے شاید اب سر عام عبرتناک سزا دیا جانا ضروری ہو گیا ہے ۔ صورتحال اب یہ ہے کہ حکومت میں موجود کچھ عناصر اور بیرونی طاقتوں کی امداد پر چلنے والی این جی اوز تختہ دار پر چڑھانے اور سر عام سزا دینے کی شدت سے مخالفت کررہی ہیں ۔ ان لوگوں کو شاید علم نہیں کہ ہم برائے نام ہی سہی مگر ایک اسلامی معاشرہ کے باسی ہیں اور قران مجید میں اللہ کا واضح حکم ہے ، ”ولاتأخذکم بہما رأفة فی دین الله“(ترجمہ ) اللہ تعالیٰ کی حدود کے جاری کرنے میں ہرگز ترس نہ کھانا چاہئے۔۔۔۔ اس واضح حکم کے بعد بھی اگر مقتدر طبقہ اور عدالتیں اگر اس حساس معاملہ سے چشم پوشی کرتی ہیں تو پھر وہ بھی اس رجحان میں اضافہ کی برابر ذمہ دار ہیں ۔ اب آتے ہیں سر عام سزا دیے جانے کے فوائد کی طرف ۔۔۔

قارئین ، لاہور میں ایسے ہی ایک واقعہ (بچے سےغلط کاری ) کے جرم میں جنرل ضیاء کے دور میں ایک مجرم کو سر عام تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا ، اوریا مقبول جان اس واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ ہ یہ ہماری ہوش کی بات ہے کہ ضیاء الحق شہید کے زمانے میں ایک ’’پپو‘‘ نامی بچہ لاپتہ ہوا تھا، جس کو غلط کاری کے بعد زندگی سے محروم کر دیاگیا تھا۔ اس کے مجرموں کو اس جگہ پر سرعام تختہ دار پر چڑھایا گیا تھا جہاں آج کل فیروز پر روڈ پر ’’ٹولنٹن مارکیٹ‘‘ واقع ہے۔ میں خود یونیورسٹی ہاسٹل سے یہ منظر دیکھنے کے لئے آیا تھا۔ لاکھوں کا ہجوم تھا اور ان میں کوئی ایک بھی تماش بین نظر نہیں آتا تھا، ہر کسی کے ہونٹوں پر توبہ استغفار جاری تھی اور اکثر ہاتھ جوڑ کر آسمانوں کی جانب بلند کررہے تھے۔ اس کے بعد سے پنجاب نہیں بلکہ پورے پاکستان کے کرائم چارٹ کو نکال کر دیکھ لیں، آپ کو کم از کم بچوں سے ایسے ظلم کا واقعہ برسوں تک نظر نہیں آئے گا۔ ۔۔۔ سخت ترین اور عبرتناک سزائیں دینے کا ایک اور فائدہ : جن اسلامی ممالک میں جرائم پر حدود نافذ ہیں ان کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہاں نہ بہت سے افراد ہاتھ کٹے نظر آتے ہیں نہ برسہا برس تک سنگساری کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے‘ اسلامی سزاؤں کا مسلمانوں کے قلوب پر اس قدر

رعب اور دبدبہ ہے کہ وہاں چوری ‘ ڈاکہ اور بے حیائی کا نام نظر نہیں آتا‘ اس کی مثال میں سعودی عرب کاذکر کیا جاسکتا ہے کہ وہاں دن میں کم ازکم 3 چار مرتبہ ہر شخص دیکھتا ہے کہ دکانیں کھلی ہوئی ہیں‘ لاکھوں کا سامان ان میں پڑا ہوا ہے اور دکان کا مالک بغیر دکان بند کئے ہوئے نماز کے لئے مسجد میں پہنچ جاتا ہے‘ اس کو یہ وسوسہ بھی نہیں ہوتا کہ اس کا مال دکان سے غائب ہوجائے گا‘ اس کی مثال دنیا کے کسی متمدن اور مہذب ملک میں پیش نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح ایران میں خواتین اور بچوں سے غلط کاری اور کسی کی جان لینے والے مجرموں کو سر عام سزا دی جاتی ہے یا کرین سے لٹکا دیا جاتا ہے ، حیران کن بات ہے کہ ایران میں عورتوں کے خلاف ایسے جرائم کی شرح کم سے کم اور بچوں کے خلاف تو بہت ہی کم ہے۔آخر میں اگر حکومت یا کچھ اور طبقات دنیا کی تنقید کے پیش نظر سر عام سزا کے مخالف ہیں تو وہ جان لیں کہ اگر آپ کے پلے کچھ ہو تو آپ اپنے گھر میں کچھ بھی کریں باہر سے آپ کو کوئی آکر روک نہیں سکتا ، سعودی عرب کی مثال لے لیں ، امریکہ و برطانیہ سمیت کئی ترقی یافتہ ممالک کا لاڈلا ہے مگر اپنے ملک میں سنگین مجرموں کے وہ سر عام سڑک پر سر اتار دیتا ہے ۔اس پر تو کوئی خاطر خواہ تنقید ہوتی ہے نہ سعودی حکمران بیرونی طاقتوں کے کہنے پر اپنا قانون بدلتے نظر آتے ہیں ۔ تو پھر جان لیں اور مان لیں کہ سر عام عبرتناک سزا دینے سے نہ صرف معاشرہ میں ایسے جرائم کی شرح میں خاطر خواہ کمی آئے گی بلکہ ہمارے معاشرہ میں فرد کا دوسرے فرد اور حکومت و اداروں پر اعتماد بھی بحال ہو گا ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.