ایک خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) دورِ حاضر کے مایہ ناز ڈائریکٹرحسن عسکری اپنے دوست سلطان راہی مرحوم کے بارے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ سلطان راہی کا جب کبھی موڈ آف ہوتا تھا تو وہ تمباکو والا پان چبانے سے نارمل ہو جاتا تھا۔ ایک دفعہ میں کسی اور فلم کے سیٹ پر گیا تو اس نے مجھے سے بہت روکھے سے

انداز میں سلام دعا کی۔ اس کا موڈ آف تھا۔ مجھے کہتا ہے کہ پان منگوائو۔ میں نے پان منگوایا، جب تھوڑا نارمل ہوا تو میرے سر کے ساتھ سر جوڑ کر ہنسنے لگا اور کہا کہ یار توں مینوں کتھے پھنسا دیتا ای۔ وحشی جٹ بنا کے توں مینوں مار دیتا اے۔ اس فلم کی آدھی فائٹ لڑ چکا ہوں لیکن کسی کو پتہ نہیں چلا کہ میں نے وگ اُلٹی پہنی ہوئی ہے۔ ان لوگوں نے وحشی جٹ کے اچھے پیغام کو چھوڑ دیا ہے اور باقی کام پکڑ لئے ہیں۔ میں بھی ہنسنے لگا۔ حسن عسکری کہتے ہیں کہ سلطان راہی نے مجھے ایسے لاڈ سے رکھا ہوا تھا جیسے وہ میرا باپ ہو۔ سیٹ پر میں اس کا باپ ہوتا تھا اور سیٹ کے باہر وہ میرا باپ ہوتا تھا کیونکہ ہماری عمر میں بارہ سال کا فرق تو تھا۔ انہوں نے مجھے ہمیشہ اپنے بچوں کی طرح ہی سمجھا۔ سلطان راہی نے ساری زندگی بہت محنت کی اور اپنا نام بنایا۔ وہ جو کماتے تھے، اس کو پاکستانی روپوں سے ڈالر میں تبدیل کر کے امریکہ اپنے بچوں کو بھجواتے تھے تاکہ وہ وہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں لیکن سلطان راہی کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر شاید نہ ہو رہا تھا۔ ان کے بچے بیس سال تک امریکہ میں ہی رہے۔ انہوں نے امریکہ کی ریاست شکاگو میں اپنا گھر لیا تھا اور اپنے بچوں کی تمام ضروریات پاکستان سے ہی پوری کرتے تھے۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ سلطان راہی نے مجھے خود بتایا تھا کہ سمن آباد لاہور میں

جب انہوں نے اپنا پہلا گھر لیا تو اس گھر کے کمرے کی چھت کو سجانے کے لئے دیے (چراغ) کی لو سے چھت پر ڈیزائن بنایا تھا۔ اسی طرح جب گاف روڈ کی کوٹھی کو بنایا تو اس کی سجاوٹ میں انہوں نے ملتان سے شیشے کی نقاشی کے لئے کاریگروں کو بلایا اور دروازوں پر بھی شیشے سے نقاشی کرائی۔ وہ اپنے پیسے کو خرچ کرنا چاہتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ ایسا گھر بنائیں جو ان کے خوابوں کی تکمیل ہو۔ جتنے پیسے انہوں نے گاف روڈ کی کوٹھی پر لگائے، اس طرح کی دو کوٹھیاں بن سکتی تھیں لیکن ان کے بچوں کو یہاں رہنا نصیب نہ ہوا کیونکہ تمام بچے امریکہ منتقل ہو چکے تھے اور سلطان راہی چاہتے تھے کہ ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں اور اچھی زندگی گزاریں۔ سلطان راہی کا ایک خواب یہ بھی تھا کہ امریکہ کے بڑے فلمی ادارے یونیورسل اسٹوڈیو کے بینر تلے بننے والی فلموں میں وہ کام کر سکیں اور اس مقصد کے لئے انہوں نے بھرپور لابنگ کی اور ہولی وڈ اور پاکستان کے کچھ لوگوں کو انہوں نے لاکھوں روپے کھلائے تاکہ وہ وہاں پر کام کر سکیں لیکن ان کا یہ خواب بھی پورا نہ ہو سکا۔ ہولی وڈ میں کام کرنے کے لئے انہوں نے وہاں کے ڈائریکٹر سے بھی رابطے کئے اور انہوں نے کام کی یقین دہانی بھی کروائی لیکن بدقسمتی سے ان کا یہ رخت سفر اور امریکہ میں مستقل رہائش اختیار کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *