ایک خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) کووڈ 19نے مجھے کیا ڈرانا ہے، اللہ کے فضل سے میں نے تو کینسر ایسے موذی مرض کو بھی شکست فاش دی تھی مگر ان دنوں یہ جو ہر کوئی چہرے کو ماسک سے چھپائے پھرتا ہے، مجھے اس سے بہت خوف آتا ہے۔ خصوصاً وہ ماسک جس میں

ناک اُبھر کر مور کی تھوتھنی جیسی لگنے لگتی ہے۔ نامور کالم نگار عطاالحق قاسمی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔وہ تو میں ٹی وی پر بھی کسی کو پہنے دیکھتا ہوں تو اپنی آنکھیں ادھر ادھر کر لیتا ہوں۔ ایک صوفی کے متعلق سنا ہے کہ انہیں انسانوں کی باطنی شکلیں بھی نظر آ جاتی تھیں۔ کوئی بھیڑیا لگتا تھا، کوئی خنزیر، کوئی سانپ، کوئی لگڑ بگا اور کوئی کچھ اور۔ چنانچہ وہ بازار سے گزرتے ہوئے اکثر اپنی آنکھیں جھکا لیتے تھے۔ یہ شاید اُسی صوفی کا روحانی فیضان تھا کہ تھوڑا بہت مجھے بھی پتا چل جاتا تھا کہ جو شخص میرے ساتھ بیٹھا میری تعریف میں زمین آسمان کے کے قلابے ملا رہا ہے وہ دراصل سانپ ہے اور اِس تاک میں ہے کہ کب میں اُس سے غافل ہوں اور وہ مجھے ڈس لے لیکن اب تو سب نے اپنے چہرے چھپا لیے ہیں، کچھ پتا نہیں چلتا کہ جو آپ سے مخاطب ہے وہ سانپ کی کون سی نسل سے ہے۔میں ایک پرانی سوچ کا آدمی ہوں چنانچہ میرا ذہن اُلٹی سیدھی باتیں سوچتا رہتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *