ایک خوبصورت تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) بزرگ کالم نگار امیر حمزہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ایک اور سائنسی حقیقت کا انکشاف ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ تمام انسان جو حضرت آدم علیہ السلام تک گزر چکے اور قیامت تک پیدا ہوں گے‘ سب بنیادی اور اساسی طور پر 99.9 فیصد پاک ہیں۔

اختلاف صرف اعشاریہ ایک کا ہے۔ دوسرے الفاظ میں تمام انسان ایک ہزار میں نو سو ننانوے آپس میں ایک ہیں۔ فرق ہزار میں سے ایک کا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ انتہائی معمولی فرق سے انسانوں کی اس قدر ورائٹیز یعنی اقسام بن گئی ہیں کہ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے۔ انگلیوں اور ہاتھوں کے نشانات الگ ہیں۔ ایک جسم میں اگر دوسرے جسم کے اعضا پیوند کیے جائیں تو وہ جسم قبول نہیں کرتا‘ امیون سسٹم کو قدرے سلانا پڑتا ہے۔ اینٹی بائیوٹک دوائیاں دی جاتی ہیں‘ جس سے کچھ فائدہ ہوتا ہے‘ مگر نقصان بھی بہت ہوتا ہے۔ غور کیجیے! اگر یہ فرق ہزار کی سطح سے نیچے گر کر سو کی سطح پر ایک فیصد ہوتا تو خون کا انتقال اور اعضا کی تبدیلی نا ممکن ہو جاتی۔ صدقے قربان جائوں مہربان رب کریم پر کہ اس نے فرق معمولی رکھا۔ انسانوں کو بتلایا کہ رنگ نسل پر اکڑتے نہ پھرو‘ یہ کچھ بھی نہیں ہے‘ تم آپس میں ایک ہو۔ اللہ کریم گویا انسان کو بتا رہے ہیں کہ وہ فرق جو ہمارے ہاں معمولی ہے وہ ہم نے اس لیے رکھا ہے تا کہ تم ”تَعَارَفُوْا‘‘ اپنی اپنی پہچان کے قابل رہو۔ پہچان کے بغیر زندگی کا نظام چلنا نا ممکن ہو جاتا۔ نادرا جیسے ادارے بن نہ پاتے‘ مگر اس میں تمہیں جو اعضا کی منتقلی میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ اسے علم اور جدید ترین علمی ٹیکنالوجی سے دور کرو۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *