ایک خوبصورت تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) ہدایتکار حسن عسکری لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔مجھے یاد ہے کہ کیفی کو بہت شوق تھا کہ وہ سلطان راہی کی جگہ لے لیں۔ سلطان راہی کی جگہ لینے کی مصطفی قریشی، کیفی، اقبال حسن، اعجاز درانی وغیرہ سب نے کوشش کی تھی، مگر قسمت کی دیوی سلطان راہی پر ہی مہربان رہی۔ ناصر ادیب نے کہا

کہ سلطان راہی اور ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز کا ایک بھرپور کمبی نیشن تھا۔ ان دو آرٹسٹوں کی یہ لازوال خوبیاں تھیں کہ جب نور جہاں گاتی تھیں تو لگتا تھا کہ پوری اسکرین سے آواز آ رہی ہے۔ دوسرا جب سلطان راہی بولتے تھے تو لگتا تھا کہ پوری اسکرین بول رہی ہے۔ سلطان راہی جب اسکرین پر ڈائیلاگ بولتا تھا تو دوسرے اداکار کھڑے ہونے کے باوجود نظر نہیں آتے تھے۔ وہ پنجاب کے کلچر اور مزاج کا بھرپور عکاس تھا۔ پنجاب کی مٹی کے گبھرو جوان کا بھرپور تصور سلطان راہی تھے۔ سلطان راہی کا بطور ہیرو امیج بہت اسٹرانگ تھا، وہ پبلک کے دل و دماغ میں رچ بس گئے تھے۔ یوسف خاں کی فلم ’’چالان‘‘ میں غنڈے اس کی بہن کو اٹھا کر لے جاتے ہیں، یوسف خاں وہاں پہنچتا ہے اور بند دروازے کو ٹکریں مارتا ہے۔ وہ نہیں کھلتا، اسی دوران سینما میں بیٹھے ایک نوجوان نے کہا کہ ’’ایتھے سلطان راہی ہندا تے دروزہ پہلی واری ہی کھل جانا سی‘‘ حالانکہ دروازہ تو ڈائریکٹر نے کھلوانا تھا سین کی ڈیمانڈ ہی ایسی تھی۔ سلطان راہی پاکستان فلم انڈسٹری میں کام ضرور کرتے تھے لیکن ان کے کام کو ہمسایہ ملک میں بھی پسند کیا جاتا تھا۔ ناصر ادیب نے ایک واقعہ سنایا کہ مجھے بھارتی اداکار دھرمیندر نے ممبئی سے فون کیا، جس کا مجھے پہلے تو یقین نہ آیا، پھر پتہ چلا کہ وہ دھرمیندر ہی تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ ناصر ادیب صاحب میں نے 4 مرتبہ مولا جٹ بنائی ہے،3 مرتبہ پنجابی میں،

ایک مرتبہ ہندی میں مگر چاروں ناکام ہو گئی ہیں، اس کی کیا وجہ ہے۔ آپ مہربانی کر کے بھارت تشریف لائیں۔ اس نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اتنی سپر ہٹ فلم فیل کیوں ہو رہی ہے۔ میں بچوں سمیت ممبئی چلا گیا۔ وہاں ملاقات ہوئی، دھرمیندر بہت خوش ہوا۔ مجھے کہنے لگا کہ میری شوٹنگ ہے تو آپ میرے ساتھ ہی چلیں۔ اس وقت فلم ’’بٹوارہ‘‘ کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہاں شمی کپور بیٹھے تھے۔ دھرمیندر نے میرا تعارف کرایا اور کہا کہ دادا یہ ناصر ادیب ہیں، جنہوں نے ’’مولا جٹ‘‘ لکھی تو وہ میرا ہاتھ پکڑ کر کافی دیر تک دیکھتے رہے اور کہا کہ دھرم جی ان کا یہ تعارف نہیں کہ انہوں نے ’’مولا جٹ‘‘ لکھی، ان کا اصل تعارف یہ ہے کہ انہوں نے ’’میلہ‘‘ لکھی۔ میں ان کی بات سن کر چونک گیا کہ انہوں نے یہ بات کیوں کی۔ پھر شمی کپور نے کہا کہ ’’میلہ‘‘ وہ فلم ہے کہ جب میں نے کوئی مشکل سین کرنا ہوتا ہے تو ’’میلہ‘‘ فلم دیکھتا ہوں۔ سلطان راہی کے ڈائیلاگ سنتا ہوں اور پھر شوٹنگ کرتا ہوں۔ ’’میلہ‘‘ حقیقی معنوں میں ایک کلاسک فلم ہے۔ حقیقت میں یہ ایک طرح سے مجھے، حسن عسکری اور سلطان راہی کو ٹربیوٹ تھا۔ اس دورے کے دوران ہم ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے تو میں نے دھرمیندر کو مخاطب کر کے کہا کہ دھرم جی، سلطان راہی صاحب…!ابھی میں نے یہ بات ہی کی تھی کہ دھرمیندر نے کہا کہ ٹھہریں… پھر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور دونوں ہاتھ باندھ کر بولا کہ اب بتائیں۔

میں نے کہا کہ دھرم جی، سلطان راہی نے آپ کو سلام بولا ہے۔ دھرمیندر نے مجھے کہا کہ ناصر ادیب آپ رائٹر ہیں، میری طرف سے ان کو کچھ بھی بول دیں، وہ بڑا مہان اداکار ہے… وہ دیوتا ہے اور میںدیوتا کی کیا تعریف کروں۔ اسی دوران وہاں شمی کپور نے مجھ سے کہا کہ سلطان راہی میں ایک ایسی خوبی ہے جو دنیا میں کسی بھی اداکار میں نہیں ہے… میں سوچ میں پڑ گیا کہ کون سی خوبی ہے جو صرف سلطان راہی میں ہے۔ میں نے کہا کہ سلطان راہی کی خوبی یہ ہے کہ اگر وہ 24 گھنٹے بھی شوٹنگ کرے تو تھکتا نہیں… ایسا لگتا ہے کہ جیسے ابھی آیا ہے… تو وہ کہنے لگے کہ یہ خوبی تو بہت سے لوگوں میں ہے۔ میں چپ ہو گیا اور کہا کہ سوری اس کے علاوہ کوئی اور خوبی میرے علم میں نہیں ہے… تو شمی کپور بولے کہ ناصر ادیب صاحب، سلطان راہی کی کوئی بھی فلم اٹھا کر دیکھ لیں، وہ دنیا کا واحد ایکٹر ہے جو جتنا بھی لمبا سین ہو، ڈائیلاگ ہو، وہ مسلسل بولتا ہے اور آنکھ نہیں جھپکتا، جبکہ دنیا کا ہر آرٹسٹ ایک فقرے کے بعد آنکھ جھپک لیتا ہے۔ خیر میں نے ان کی اس بات کی تصدیق کے لئے ’’ڈاکو راج‘‘ فلم دیکھی تو بات بالکل درست نکلی۔ سلطان راہی کی آنکھ شیر کی آنکھ تھی۔ یہ بات میں نے سلطان راہی سے کہی تو وہ بھی خوش ہوا کہ بھارتی فنکار ان کے کام کو بہت باریکی سے دیکھتے ہیں۔ دھرمیندر نے مجھے کہا کہ جب بھی کوئی لندن جاتا ہے تو مجھ سے کہتا ہے کہ آپ کے لئے کیا لائوں تو میں ان سے کہتا ہوں کہ میرے لئے وہ فلم لے آنا جس میں سلطان راہی ہو اور ڈائیلاگ ناصر ادیب نے لکھے ہوں۔ (ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.