ایک دلچسپ اور معنی خیز تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آنے والے سال میں بھی کچھ نہیں بدلنے والا۔۔ اپنے آس پاس اگر تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو پہلے خود کو بدلنا ہوگا، کیونکہ عمرانیات (سوشیالوجی) کا بنیادی سبق ہی یہ ہے کہ معاشرہ افراد سے بنتا ہے،

لوگ سدھریں گے تو معاشرہ خودبخود سدھرجائے گا۔۔ باباجی کہتے ہیں آنے والے سال میں ’’ککھ‘‘ تبدیلی نہیں آنے والی۔۔ مرد کبھی خود کو نہیں بدلے گا، وہ شادی سے پہلے بھی شادی کرنا چاہتے ہیں اور شادی کے بعد بھی شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔ آنے والے سال بھی خواتین کی شاپنگ تین حصوں پر ہی مشتمل رہے گی۔۔ پہلی دفعہ پسند کرنے جاتی ہیں، دوسری دفعہ خریدنے اور تیسری دفعہ خریدی ہوئی چیز واپس کرنے ۔۔اگلے سال بھی ہر مسجد میں ایسا باباضرور پایا جائے گا جو بچوں کو خاموش کرانے کے لئے بچوں سے زیادہ شور کرتا رہے گا۔۔باباجی کا مزید کہنا ہے کہ ،اگر اگلے سال بھی کوئی آپ کی خاموشی کو نہیں سمجھتا توآپ بکواس کر کے سمجھا دیں۔۔ دس میں سے نو ڈاکٹر سینسوڈائن تجویز کرتے ہیںآنے والے سال بھی ایسا ہی رہے گا،سمجھ نہیں آتی کہ آخر یہ دسویں کو کیا تکلیف ہے۔۔ ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ ۔۔ وہ مجھے پسند آنے ہی والی تھی کہ اس نے منہ سے چیونگم نکالی پھر بریانی کھائی کوک پی اور پھر وہی چیونگم منہ میں ڈال کرچبانے لگی،یعنی کہ بیس سواکیس میں بھی ہمارے پیارے دوست کو شریک سفر کی تلاش رہے گی۔۔ہمارے معاشرے میں تو اب تک مردوں کی شریک سفر خواتین ہی ہوتی ہیں اور آئندہ سال یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔۔ہمارے کسی زندہ دل دوست نے ہمیں واٹس ایپ کیا کہ۔۔ بیویوں کی تعداد کا اس کے ناموں کے حروف کی تعداد سے ہی اشارہ ملتا ہے۔ بیگم میں چار حروف۔۔ ب،ی،گ،م۔۔ بیوی میں چار حروف، ب،ی،و،ی۔۔ زوجہ میں چار حروف۔۔ ز ،و ، ج ،ہ۔۔ پشتو میں بیگم کو ’’ناوی‘‘ کہتے ہیں ناوی میں بھی چار حروف۔۔ن،ا،و،ی۔۔ نساء(عربی) میں چار حروف ن،س،ا،ء۔۔ بڈھی(پنجابی) میں چار حروف۔۔ ب،ڈ،ھ،ی۔۔ وائف (انگریزی) میں چار حروف و،ا،ء،ف۔۔ حتیٰ کہ ان سب ناموں سے بننے والی دلہن میں بھی چار حروف د،ل،ہ،ن۔۔ ان سب  ناموں کے حروف کی تعداد سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ بیویاں چار ہی ہوں۔۔ ہماری دعا ہے کہ اس نئے سال میں اللہ تعالی سب مسلمانوں کو چارچار شادیاں کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں۔۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *