ایک دلچسپ تحریر ملاحظہ کریں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کون کہتا ہے کہ عمران خان سیاست دان نہیں،میں تو یہی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپوزیشن کو وسا وسا کے ٹھوک رہے ہیں،اب اگر فارن فنڈنگ کیس کھل کر سامنے آیا تو کسی کے پلّے ککھ نہیں رہے گا۔

میری پھر بھی درخواست ہے کہ چودھری برادران مارکہ”اسپغول تے کج نا پھول“والا فارمولہ استعمال کر لیا جائے،اب آپ ہی بتائیں جب ہمارے سیاّں پان کھائیں گے تو ریشم کے کرتے پر لال لال پیک تو پڑے گی۔ڈاکٹر سنتا سنگھ سرباندھے جا رہا تھا،بنتا نے پوچھا،تو بولا یار بیمار ہوں ڈاکٹر کے جا رہا ہوں،بنتا بولا تم تو خود ڈاکٹر ہو،سنتا سنگھ بولا میری فیس زیادہ ہے کسی سستے ڈاکٹر نوں دکھاواں گا۔ مسزسنتا سنگھ نے اپنے بیٹے سے پوچھا،بتا? میری مٹھی میں کیا ہے؟۔معصوم لٹل بنتا سنگھ بولا تہاڈی مٹھی وچ ابّا جی نے۔تو میرے بھّیا یہ حکومتیں،اس کے فیصلے ہمیشہ غیر ملکی آقا?ں کی مٹھی میں رہے۔جو دْوروں،دْوروں اکھیاں مارتے ہیں ہمارے نار پٹولے ورگے لیڈریہاں سے وارے قربان ہو جاتے ہیں۔معین قریشی سے شوکت عزیز تک ہماری اوقات دکھانے اور بتانے کے لئے کافی ہیں ”تسی بادشاہ لوک او“جو سیاسی پاٹے خانوں کی جیبیں پھرول رہے ہو۔کبھی مذہب کے نام پر ”دے جا سخیا“کہنے والے”لارنس آف عریبیہ“کی منجھیوں تھلے ڈانگ پھیر کے دیکھیں، ویسے اگر آپ دودھ کا دودھ کرنا چاہیں گے تو پہلے کہے دیتا ہوں صرف پانی ہی پانی ملے گا۔اس لئے وزیر اعظم اور الیکشن کمیشن قوم کومعافی دے دیں تو ہی اچھا ہے۔سو میرے بجلی کے بلوں،مہنگائی،بے روز گاری کے ہاتھوں تھا ں تھاں ‘پٹوسیاں ‘ مارنے والے شناختی کارڈ ہولڈرو،دڑ وٹ کے بیٹھے رہو،۔تالیاں مارو ساڈے تے چولہوں میں گیس نہیں نکلتی اور ان کے غیر ملکی اکا?نٹس سے اربوں ڈالر نکل رہے ہیں۔ سنتا سنگھ گم گئے ان کی بیگم رپٹ کرانے تھانے پہنچیں اور حلیہ لکھوایا،سنتا جی چھ فٹ قد،گورے چٹّے،ہرنی ورگی اکھ،گلاب جیسے ہونٹ،چوڑا سینہ،ان کی سہیلی بولیں،باجی سنتا تو بہت بد صورت،ٹھگنا اور رج کے کوجا ہے،مسز سنتا بولیں  ماضی میں جو غلطی ہونی تھی ہو گئی ہن تے کوئی چنگا شوہر لبھنا چاہیے۔یہ مسز سنتا ہی سوچ سکتی ہیں ہم تو وہ قوم ہیں جو ایساسوچنے کی عیاشی بھی نہیں کر سکتے۔اس لئے ہمیشہ بونے،ٹھگنے،کوجے ہماری قسمت میں رہتے ہیں۔ہمارے گوہر ایوب سہی کہتے ہیں نواز شریف اور ق لیگ کے وزیروں کی غلط حکمت ِعملیوں کے سبب قوم کومہنگی بجلی کا سامنا ہے۔کوئی ہمارے گوہر ِنایاب سے پوچھے ان حکومتوں میں آپ کیا سِٹّے بیچتے تھے،یا اپنی وزارت چھوڑ کر لوٹا تھام کر چلّے پر نکلے ہوئے تھے۔بہر حال جو بھی ہے ہمیں اپنے گوہرِ نایاب کی بات پر یقین کرنا ہے کیونکہ اب وہ نواز شریف،چودھری شجاعت کے بعد عمران خان کے وزیر بجلی ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.