ایک دلچسپ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک)ڈیجٹیل زمانہ ہے، دنیا ایک چھوٹے سے گاؤں میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔۔ پہلے سعودی عرب ، لندن یا امریکا رہنے والوں کو خط لکھتے تھے تو دوتین ماہ بعد جواب ملتا تھا،تشنگی پھر بھی رہتی تھی، پھر ٹرنک کال کے ذریعے بات کرنا ممکن ہوسکا، اب تو جب دل چاہے سیکنڈوں میں جہاں چاہے کال کرو،

نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یا وڈیو کال پر لائیو دیکھ لو۔۔نوجوانوں میں سیلفی کا بڑا کریز ہے۔۔ یہ واحد ایسا کام ہے جو آپ اپنے چھوٹے بھائی کو نہیں کہہ سکتے۔۔نظریہ ارتقا کے لحاظ سے سیلفی لینے والی لڑکیوں کی اگلی نسلوں کا منہ چونچ کی طرح اور ایک ہاتھ لمبا ہو گا۔۔خواتین کے لئے مشہور ہے کہ اپنی عمر چھپاتی ہیں۔۔ایک دوست بتانے لگا۔۔ایک بار افریقہ کے جنگل میں مجھے اور میری بیوی کو آدم خور قبائلیوں نے گھیر لیا۔ ان کے سردار نے مجھے دیکھ کر کہا کہ وہ چالیس سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو نہیں کھاتا۔۔دوسرے دوست نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا۔اچھا پھر؟؟ پہلے دوست نے کہا۔۔ پھر کیا یہ زندگی میں پہلا موقع تھا جب میری بیوی نے اپنی عمر کے بارے میں سچ بولا۔۔خواتین بہت جلدی تشویش میں مبتلا ہوجاتی ہیں، یہ ایسی عادت ہے جسے کوئی ختم نہیں کرسکتا۔۔ایک خاتون نے کہا۔۔ ڈاکٹر صاحب! کیا میری بیماری اس قدر پیچیدہ ہے کہ آپ کچھ بھی بتانے سے قاصر ہیں ؟ڈاکٹر نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔۔ نہیں محترمہ! دراصل یہ بیماری اْس چیپٹر سے ہے جو میں نے پیپرز کی تیاری کرتے ہوئے چوائس میں چھوڑ دیا تھا۔پچھلے کچھ دنوںمیں ڈالر لڑکھڑانے لگا اور روپے کی قدر میں اضافہ ہونے لگا، جس پر باباجی نے کسی ماہرمعاشیات کی طرح ہمیں سمجھاتے ہوئے کہا۔۔ڈالر کی قیمت اس وقت تک نیچے نہیں آسکتی جب تک پنجاب والے پیسے کو ’’پے ہے‘‘کہنا نہیں چھوڑیں گے۔۔ہم نے باباجی کی معلومات کو چیلنج کرتے ہوئے سوال کیا۔۔ باباجی بتائیں وہ کون سا مہینہ ہے جس میں آپ سب سے کم گناہ کرتے ہیں۔۔باباجی نے بڑی سادگی سے جواب دیا۔۔ پتر یہ سوال شاید ویلنٹائنز ڈے کی دریافت سے پہلے کا ہے۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے رشتہ دار ہمیشہ آپ سے خوش رہیں تو آپ ہمیشہ پریشان رہا کریں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Sharing is caring!

Comments are closed.