ایک دلچسپ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کچھ ماہ قبل وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا ایک بڑا دلچسپ وڈیو کلپ سامنے آیا جس میں وہ وزیر اعظم کے ”احساس پروگرام“ کے تحت ایک خاتون کو امدادی چیک دیتے ہوئے

ان سے پوچھ رہی ہیں ”آپ کے بچے کتنے ہیں؟ وہ خاتون بولی”میرے آٹھ بچے ہیں“ اس پر معاون خصوصی برائے اطلاعات یا ”غیر مصدقہ اطلاعات“ فردوس عاشق اعوان کی رگ ظرافت پھڑکی، جو کہ اکثر پھڑکتی رہتی ہے ۔ انہوں نے اس خاتون سے پوچھا ”اچھا یہ بتاﺅ آپ کے میاں اس کے علاوہ کیا کرتے ہیں؟ …. اس سوال پر وہ خاتون خود بھی مسکرا کر رہ گئی۔ ممکن ہے اس نے فردوس عاشق اعوان کے بھاری پن سے خوف کھا کر صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا ہو، ورنہ وہ کہہ سکتی تھی ”میڈم جی میرے میاں اس کے علاوہ کچھ نہیں کرتے، لیکن آپ اگر انہیں کوئی کام دینا چاہتی ہیں میں انہیں آپ کے پاس بھجوا دیتی ہوں“…. کچھ اسی طرح کا ایک واقعہ میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔ میں نے ایک جاننے والے سے پوچھا ”آپ کتنے بہن بھائی ہیں؟۔ وہ بولا” مجھے ملا کر کل بارہ تیرہ ہیں“…. میں نے پوچھا یہ ”آپ کے ابو کیا کرتے ہیں؟“….وہ کہنے لگا ”بتایا تو ہے ہم بارہ تیرہ بہن بھائی ہیں“…. اس کے کہنے کا مطلب تھا ابو بس یہی کرتے ہیں، اس کے علاوہ اور کچھ کرنے کا انہیں موقع یا وقت ہی نہیں ملتا…. ویسے میں سوچ رہا تھا شکر ہے میرا یہ جاننے والا کسی بڑے عہدے پر فائز نہیں تھا، وہ وزیر اعظم ہوتا تو ”بارہ تیرہ بہن بھائی“ کہنے کے بجائے ممکن ہے یہ کہہ دیتا ”ہم بارہ” ساڑھے بارہ“ بہن بھائی ہیں“….ایک صاحب سے میں نے پوچھا ”کتنے بچے ہیں خیر سے آپ کے ؟“ وہ بولا ”اوپر والے کی مہربانی سے چودہ بچے ہیں“…. میں نے کہا”

یہ آپ کے اوپر رہتا کون ہے جو مسلسل مہربانی کئے جا رہا ہے ؟“…. ایک بار بہت سالوں سے ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار لڑکی لڑکے سے میں نے پوچھا” اب آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے؟۔ وہ بولے”ہم اصل میں بچے پیدا نہیں کرنا چاہتے“ شاید ہمارے محترم وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے بھی اسی لئے شادی نہیں کی اس کے بعد بچے پیدا کرنے پڑ جاتے ہیں جو ان کے لئے تقریباً اتنا ہی ناممکن عمل ہے جتنا سچ بولنا ہے ۔ وہ جھوٹ بول رہے ہوں صاف پتہ چل جاتا ہے جھوٹ بول رہے ہیں، سچ بول رہے ہوں پھر بھی صاف پتہ چل جاتا ہے جھوٹ بول رہے ہیں۔ بہتر ہے وہ بولا ہی نہ کریں۔ تا کہ ملکی مسائل کا کوئی حل نکل سکے۔ یہ ”پروفیسر“ ہونے کا معاملہ بھی بڑا دلچسپ ہے ۔ ایک پروفیسر صاحب کا کہیں رشتہ طے ہونے لگا لڑکی والوں کو بتایا گیا ”منڈا پروفیسر اے“…. وہ بولے“ اوہ تے ٹھیک اے پر منڈا کردا کی اے؟؟؟…. ایسے ہی ایک پروفیسر صاحب کی شادی ہوئی۔ ان کی پہلی رات بس ایسے ہی گزر گئی۔ اگلے روز وہ اپنے سسرال گئے۔ کھانا وغیرہ کھا کر فارغ ہوئے باہر لان میں آ کر بیٹھ گئے۔ وہاں بے شمار مرغے ایک مرغی کے ساتھ پھر رہے تھے۔ انہوں نے بڑی حیرانی سے ساتھ بیٹھی بیگم سے پوچھا ”میں نے ہمیشہ بے شمار مرغیوں کے ساتھ ایک مرغا تو دیکھا ہے ، پر بے شمار مرغوں کے ساتھ ایک مرغی پہلی بار دیکھ رہا ہوں“…. بیگم بولی ”ان میں مرغا ایک ہی ہے باقی ”پروفیسر“ ہیں“….اس پر نئے نویلے شوہر کچھ ناراض سے ہو گئے۔ کہنے لگے ”تم نے پروفیسر کیوں کہا؟“…. تم بلاول بھٹو زرداری بھی کہہ سکتی تھی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.