ایک دلگداز واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) شازیہ (مینا) بتاتی ہیں کہ ’ماں اپنی زندگی کے آخری ساڑھے چار سال شدید بیمار رہیں۔ اس عرصہ کے دوران انھیں امریکہ اور برطانیہ کے جدید ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ انھیں یقین تھا کہ وہ دوبارہ تندرست ہو جائیں گی اور پھر سے گائیں گی۔’انھوں نے انتقال سے چند ماہ قبل لاہور

سے اپنے درزی ظفر کو بلایا اور لگ بھگ 60 نئے جوڑے سلوائے کہ وہ تندرست ہو کر پھر سے ایک نئی زندگی کا آغاز کریں گی۔‘شازیہ نے ٹشو سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ’ماں واقعی نورجہاں تھی، اپنوں اور ساری دنیا کے لیے وہ نور ثابت ہوئیں۔۔۔ملکہ ترنم نور جہاں مرحومہ کی صاحبزادی حنا بتاتی ہیں کہ جب اُن کی والدہ انڈیا کے دورے پر تھیں تو انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ملاقات کے دوران انھیں گانے کی فرمائش کر دی جس پر نورجہاں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’آج میں آپ کی مہمان ہوں، میں آپ کو گانا اس وقت سُناؤں گی جب آپ ہماری مہمان ہوں گی۔‘بے نظیر بھٹو دور میں راجیو گاندھی پاکستان کے دورے پر آئے تو تب نور جہاں سے دوبارہ گانے کی فرمائش کی گئی۔ اس وقت نورجہاں نے کہا کہ ’آپ کی والدہ اندرا گاندھی کو میں نے گانا نہیں سنایا تھا آج آپ ہمارے مہمان ہیں میں آپ کو ایک نہیں دو گانے سُناؤں گی۔‘اس کے بعد نور جہاں نے فیض کی نظم ’مجھ سے پہلی سی محبت‘ اور ایک گیت ’آواز دے کہاں ہے‘ سُنایا۔مینا نے بتایا کہ ’جنرل ضیا الحق ملک کے صدر تھے اور اُن کی بیوی شفیقہ ضیا نور جہاں کی مداح تھیں۔ جب ایوان صدر سے نورجہاں رخصت ہونے لگیں تو جنرل ضیا نے نورجہاں سے کہا میڈم میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں۔۔۔ اس پر نورجہاں نے جواب دیا آپ مجھے کیا دے سکتے ہیں، آپ تو خود اس کے محتاج ہیں جو ساری کائنات کو دیتا ہے۔‘ٹینا نے بتایا کہ جب ماں بہت بیمارتھیں تو جنرل پرویز مشرف ان سے ملاقات کرنے کراچی آئے۔ جنرل مشرف نے بتایا کہ ’جن مواقع پر آپ ملک کے سپاہیوں کے لیے ملی ترانے گاتی رہیں وہ ترانے سن کر ہم نے لڑائیاں لڑی ہیں۔ یہ سنتے ہوئے نورجہاں نے جنرل مشرف سے کہاکہ خدا نہ کرے پھر کبھی وہ وقت ہو لیکن اگر ایسا ہوا تو آپ مجھے دوبارہ ’میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں‘ گاتے سُنیں گے۔‘‘

Comments are closed.