ایک روز اکٹھے گاڑی میں جاتے ہوئے ایسا کیا واقعہ پیش آیا کہ کپتان جی نے صافی صاحب کو سرراہ گاڑی سے اتار دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر ملکی صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی کو پاکستان تحریک انصاف اوروزیر اعظم عمران خان کے سب سے بڑے ناقدین میں سے ایک سمجھا جا تا ہے۔ وہ اکثر حکومتی ارکان کے بیانات اور حکومتی اقدامات پرکڑی تنقید کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکن

اور مداح انھیں لفافہ صحافی اوربکائو صحافی جیسے القابات سے بھی نوازتے ہیں۔لیکن اختلافات کے اس سلسلےکی تاریخ زیادہ پرانی نہیں۔ ایک زمانہ تھا جب سلیم صافی عمران خان کے بہت بڑے مداح اور تحریک انصاف کے حمایتی تھے۔ سلیم صافی نے عمران خان سے کئی ملاقاتیں بھی کیں۔ 2014کے تحریک انصاف کے دھرنے تک سلیم صافی پی ٹی آئی اور عمران خان کے قدردانوں میں سے ایک تھے۔ اسی دھرنے کے دوران ایک بار عمران خان بنی گالہ میں اپنی رہائشگاہ سے گاڑی پر دھرنے کےمقام ڈی چوک تک جا رہے تھے۔ راستے میں انھوںنے گاڑی میں سوار دیگر افراد کو سلیم صافی کو بھی پک کرنےکی ہدایت کی۔سلیم صافی عمران خان کی گاڑی میں سوارہو کر ان سے باتیں کرتے ہوئے جارہے تھے کہ اچانک عمران خان کسی بات پر طیش میں آگئے اوران کی سلیم صافی سے تلخ کلامی ہوگئی۔ جس کے بعد انھوںنے گاڑی روکنے اور سلیم صافی کو فوری طور پر اتر جانے کا کہہ دیا۔ اس کے بعد سے آج تک سلیم صافی کی عمران خان اور تحریک انصاف سے بالکل بھی نہیں بنتی۔

Comments are closed.