ایک رکشہ ڈرائیور کی بیٹی مس انڈیا کے مقابلے میں کیسے پہنچی ؟

نئی دہلی (ویب ڈیسک) انڈین ریاست حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی مانسہ وارانسی نے انڈیا کے مقابلہ حُسن ’فیمینہ مس انڈیا 2020‘ کا ٹائٹل اپنے نام کیا ہے۔ چند روز پہلے ممبئی میں اس مقابلہ حسن کے فائنل کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں مس انڈیا 2020 کے تاج کو 23 سالہ مانسہ وارانسی کے سر پر

سجایا گیا تھا۔جبکہ اس مقابلہ حُسن میں اترپردیش کی مانیا سنگھ اور ہریانہ کی مانیکا شیئوکنڈ بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر رہی ہیں۔ ان تینوں فاتحین کے ناموں کا پہلا حرف ’م‘ ہے۔ان کے ناموں کے پہلے حرف ہی کی طرح اِن تینوں میں بھی بہت سی خصوصیات مشترک ہیں اور مس انڈیا کے خطاب تک پہنچنے کا راستہ ان تینوں کے لیے بالکل آسان نہیں تھا۔تاہم انڈیا میں اس مقابلہ حسن کی فاتح مانسہ وارانسی سے زیادہ بات مانیا سنگھ پر ہو رہی ہے اور اس کی وجہ ان کا خاندانی پسِ منظر ہے۔مانیا سنگھ کا کہنا ہے کہ ’آپ اپنی لڑائی خود لڑتے ہیں۔۔۔ آپ مایوس کیوں ہوتے ہیں۔۔۔ آپ اپنے وجود کے لیے بھی وقت تلاش کرنا چاہتے ہیں۔‘کل تک اترپردیش کے دیوریا ضلع کی مانیا سنگھ کو کوئی نہیں جانتا تھا، لیکن آج سب ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مانیا کے والد اوم پرکاش سنگھ ممبئی میں آٹو رکشہ چلاتے ہیں اور ان کی والدہ منورما دیوی ممبئی میں درزی کی دکان چلاتی ہیں۔مانیا کا بچپن مشکلات میں گزرا۔ اپنے والدین کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے مانیا کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کی سوچ الگ الگ ہے۔ ملک میں کچھ ایسی ریاستیں ہیں جہاں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکیاں زیادہ کچھ نہیں کر سکتی ہیں۔‘وہ کہتی ہیں ’میں ایسے لوگوں کو کہوں گی کہ آپ کہیں سے بھی ہیں، چاہے آپ کے پاس کپڑے ہوں یا نہیں یا آپ کیسے نظر آتے ہیں، چاہے آپ کے پاس پیسہ ہے یا نہیں ،

لیکن جب آپ اپنے تصور سے بڑے خواب دیکھتے ہیں تو آپ آسمان کو چھو سکتے ہیں۔ لہذا جب تک آپ خواب نہیں دیکھتے، آپ کو اپنی اہمیت کا پتہ نہیں چل سکے گا۔‘مانیا سنگھ نے بچپن سے ہی مالی تنگ دستی دیکھی ہے۔ انھوں نے متعدد بار کئی راتیں فاقہ کشی میں گزاری ہیں۔ وہ پیسے بچانے کے لیے کئی کلومیٹر پیدل چلی ہیں۔مانیا کے پاس جو بھی کپڑے تھے، وہ خود ہی سیے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ ان کی تعلیم کی فیس ادا کرنے کے لیے ان کے والدہ اور والد کو زیورات گروی رکھوانا پڑے۔ انھوں نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ ایک کال سینٹر میں بھی کام کیا ہے۔ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے مانیا کہتی ہیں کہ ’ہر ایک کی زندگی میں ایک اہم موڑ آ جاتا ہے جب ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ بکھر گیا ہے۔ میں نے بھی سوچا تھا کہ آگے کیا ہو گا؟‘وہ کہتی ہیں ’میں ہمیشہ مانتی ہوں کہ خواتین میں ایک خاص طاقت ہے۔ لہذا جب بھی میں اپنے والدین کی طرف دیکھتی ہوں تو میں سوچتی ہوں کہ اگر میں ان کی جگہ ہوتی تو تو یہ احساس ہوتا کہ ہمارا کوئی بڑا بیٹا نہیں ہے۔ اسی وجہ سے میں نے یہ کردار ادا کیا۔ بڑی بیٹی کا کردار، میں لڑکا نہیں ہو سکتا تھی لیکن میں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ انھیں بڑے بیٹے کی ضرورت نہیں ہے، اگر میری محنت 20 فیصد ہے تو ان کی لگن 80 فیصد ہے۔ انھوں نے میرے لیے جس طرح کی قربانی دی وہ میرے لیے بہت اہم ہے۔‘

مقابلہ حسن کے متعلق اکثر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ امیروں کے لیے ہے۔ جن کے پاس پیسہ نہیں ہے، ان کے لیے اس مقابلے میں حصہ لینا بہت مشکل ہے، لہذا اس مقابلے کو اپنی منزل بنانا کتنا مشکل تھا؟اس سوال پر مانیا کا کہنا ہے کہ ’جب ہمارے پاس بیک اپ ہوتا ہے تو ذہن میں آتا ہے کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو ہمارے پاس ایک اور آپشن ہے، لیکن میں نے ہمیشہ سوچا تھا کہ میرے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ میں نے سوچا کہ اگر میں گر گئی تو میں اٹھ کھڑی ہوں گی۔ اور اگر میں دوبارہ گر گئی تو میں دوبارہ اٹھ کھڑی ہوں گی۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’ناکامی میری ساتھی رہی ہے۔ مجھ پر ہمیشہ دروازے بند کر دیے گئے تھے۔ لوگ مجھے کہتے تھے کہ آپ مس انڈیا کی طرح نہیں لگتیں، آپ کبھی بھی مس انڈیا کے مقام تک نہیں پہنچ پائیں گی۔ لیکن یہ سب میں نے وقت اور مختلف حالات سے سیکھا ہے۔ اور اس کے بارے میں لوگ کیا کہیں گے یہ اہم نہیں ہے۔ یہ اہم ہے کہ میں جانتی ہوں کہ میں کیا چاہتی ہوں اور کیا کرنے کے قابل ہوں۔ یہ میرے لیے مشکل کام ہو گا نہ کہ لوگوں کے لیے اسی لیے یہ ضروری ہے کہ ہم خود پر یقین کریں۔‘مانیا سنگھ مس انڈیا نہیں بن سکیں لیکن وہ یقینی طور پر لوگوں کے دلوں تک پہنچ گئیں ہیں۔23 سالہ مانسہ وارانسی کی مس انڈیا بننے کی اپنی ہی ایک کہانی ہے۔ مانسہ کا کہنا ہے کہ ’سال 2020 کسی کے لیے اچھا ثابت نہیں

ہوا۔‘کورونا وبا سے پہلے وہ کئی برسوں سے فیمینا مس انڈیا میں حصہ لینے کی تیاری کر رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مس انڈیا کے بارے میں سوچنے سے پہلے میں کمپیوٹر سائنس انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہی تھی اور پھر میں نے ایک مالیاتی سافٹ ویئر فرم میں پکس تجزیہ کار کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا۔ میں نے کام سے طویل وقفہ لیا اور پھر تمام وقت اس مقابلے کے لیے سخت محنت کی۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’کووڈ کی وبا کے دوران میں نے سوچا کہ میں نے اتنی محنت کی ہے پتہ نہیں اب مقابلہ ہو گا یا نہیں؟ لیکن چند دن بعد ایسی خبریں آئیں کہ مقابلہ حسن کے لیے درخواستیں عملی طور پر دی جا سکتی ہیں۔ یہ میرا پہلا تجربہ تھا، اس وقت سب کچھ ورچوئل تھا اور میک اپ سے لے کر سب کام خود کرنا پڑتے تھے، ہم سب ملٹی ٹاسکر بن گئے تھے۔ جب میں پہلی پندرہ امیدواروں میں پہنچی تو مجھے مقابلے کے لیے شہر سے باہر سفر کرنا پڑا۔ یہ بھی خود میں ایک مختلف تجربہ تھا۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’میرا کنبہ میری والدہ، میری چھوٹی بہن اور میری دادی پر مشتمل ہے۔ والدہ اور بہن مقابلہ حسن میں جانے کے لیے راضی ہو گئی تھیں لیکن مجھے اپنی دادی کو راضی کرنے میں وقت لگا۔ جب ان کی اجازت ملی تو ان تینوں نے مجھے آگے بڑھنے کا موقع دیا اور ورچوئل مقابلے میں بھی میرا ساتھ دیا۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’آج میں جو کچھ ہوں ان کی وجہ سے ہوں۔ اب میں خود کو مس ورلڈ کے مقابلہ حسن کے لیے تیار کر رہی ہوں۔ میں پریانکا چوپڑا سے بہت متاثر ہوں اور میں ان کی طرح اپنی شناخت بنانے کے لیے سخت محنت کرنا چاہتی ہوں۔‘

Comments are closed.