ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) چند روز قبل لاہور میں ایک نام نہاد ’فورس‘ کی بنیاد رکھے جانے کی تقریب کے دوران کارندوں کے ایک ٹولے کی طرف سے لگائے گئے خطرناک نعروں اور ان پر خاتون کی معنی خیز خاموشی مجھے وزیرستان میں گزرے ماہ و سال میں لے گئی۔ساڑھے تین سال اَوروں کی طرح

میرے بھی دل وجان پر گزرے تھے۔پاک فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈئر فیصل مسعود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ لہو رنگ وردیوں کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، اپنے ہاتھو ں سے چھوا ہے۔ سال2001ء میں افغانستان پر امریکی اٹیک کے بعدہر رنگ و نسل کے وارئیرز ہمارے قبائلی علاقوں میں امڈتے چلے آ رہے تھے۔ بظاہر باریش ،پرہیز گار نظر آتے اور قرآن کی طویل رقت آمیز تلاوت کرتے۔ چنانچہ حراست میں لئے جانے کے باوجود ہمارے جوان ان سے احترام کے ساتھ پیش آتے۔ سابق وزیر اعظم اور ان کی ہمہ وقت حالتِ طیش میں رہنے والی صاحبزادی کی اداروں کے خلاف معاندانہ مہم جاری ہے۔ تاہم قومی اداروں کو سرِ عام دشنام طرازی کا نشانہ بنائے جانے پر خود پارٹی کے اندر سنجیدہ افراد اب نفرت انگیزی سے اکتا ئے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ پنجاب کے ہر قبرستان میں وطن پر جان قربان کرنے والے محوِ استراحت اوراس کے شہروں ، قریوں، محلوں اور گلیوں کے اندرآباد ہر تیسرے گھر میں ایک خاکی پوش بستا ہے۔ صوبے کے صدر مقام میں shaheed اور غازیوں کے پاک پیرہن کے خلاف لگائے جانے والے ناپاک نعرے سن کراس کے باسی ملک کے کونے کونے میں آباددیگر پاکستانیوں سے کم رنجیدہ نہیں۔مجھ جیسے لاکھوں از کارِ رفتہ سپاہیوں کے جسم و جاں پر لگے گھاؤ ایک بار پھر تازہ ہو گئے ہیں۔تاہم ہم جیسوں کو یہ بھی یقین ہے کہ نفرت میں غرق مفاد پرست ٹولہ بالآخر خاک ہی چاٹے گا۔دیکھنا یہ ہے کہ قومی سیاسی جماعتوں میں موجود سنجیدہ سیاسی عناصر ، قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دینے والے ٹولے کو اپنا کند ھا کب تک فراہم کرسکتے ہیں۔بی بی سی کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں بلاول بھٹو نے کھلے الفاظ میں خود کو نا م نہاد’جمہوری ‘ بیانئے سے الگ کیا ہے۔ میرے لئے دشنام طرازی ، ، اور نفرت کی سڑانڈ سے متعفن سیاسی ماحول میں یہ تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ امید کی جانی چاہیئے کہ پیپلز پارٹی اپنے چئیرمین کے تازہ ترین بیان کو اپنی قیادت کے خلاف زیر سماعت مقدمات کو رکوانے اور سیاسی سودے بازی کے لئے استعمال نہیں کرے گی۔ ہمیں معلوم ہے کہ خود پیپلز پارٹی کے اندر بھی کچھ افراد موجودہ حکومت کو ہر صورت گھر بھیجنے کو آمادہ ہیں۔ تاہم اس کے لئے اداروں کی تضحیک، توڑ پھوڑ اور قومی سلامتی کو دائو پر لگانا ہر گز دانشمندی کا راستہ نہیں۔ انکے لئے یہی پیغام ہے کہ جھوٹ اور دشنام طرازی کے ذریعے انتشار تو برپا کیا جا سکتا ہے، کسی اعلی وارفع مقصد کا حصول ممکن نہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *