ایک سنجیدہ اور معتبر صحافی کا تبصرہ جسکی آپ بھی تائید کریں گے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد عامر خاکوانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرکٹ کا سیزن ہے اور طویل عرصے بعد پاکستانی قوم نے اپنی کرکٹ ٹیم کی شاندار فتوحات دیکھی ہیں۔ ہم جیسے کرکٹ شائقین تو خوش ہیںہی، مگر وہ بچے جو سارا دن پب جی، وغیرہ میں الجھے رہتے ہیں،

اب وہ بھی رضوان، بابر، آصف علی، شعیب ملک کے چھکوں کے منتظر رہتے ہیں۔ پہلی بار پاکستان میچ ہارے بغیر سیمی فائنل میں پہنچا ہے۔ ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے ہر ایک کو یہی خطرہ تھا کہ انڈیا کے ساتھ میچ تو خطرناک ہو گا ہی ، نیوزی لینڈ بلکہ افغانستان سے جیتنا بھی کہیں محال نہ ہوجائے۔ تب شائد ہی کسی نے تجزیہ کیا ہوگا کہ پاکستان تمام میچز آرام سے جیت کر ٹاپ ٹیم کی حیثیت سے سیمی فائنل میں پہنچ جائے گا۔ یہ کرشمہ مگر ہوچکا ہے۔ 92 کا ایک مقبول پروگرام ہے۔جمعہ، ہفتہ، اتوار رات دس بجے یہ شو لگتا ہے اور ممتاز صحافی، فسوں ساز کالم نگار جناب ہارون الرشید اس شو کے روح رواںاور مرکزی شخصیت ہیں،جبکہ اینکر ، کالم نگار ثروت ولیم اس کی میزبان ہیں۔ ہارون الرشید صاحب نے ازراہ تلطف ورلڈکپ میچز کے حوالے سے گفتگو کے لئے خاکسار کو بھی دو تین پروگراموں میں شامل کیا۔ ہارون الرشید صاحب کی خوبی ہے کہ وہ جزئیات میں جاتے اور کسی بھی ایشو کی بنیادی چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اتوار کی رات اپنے پروگرام میں انہوں نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ آخر پاکستان کی موجودہ ٹیم میں اتنی پختگی، ٹھیرائو اور بردباری کیسے آ گئی جبکہ کرکٹ سے متعلقہ تمام عوامی حلقوں میں بے پناہ ہیجان پایا جاتا ہے۔دوسرا سوال ان کا یہ تھا کہ ماضی کی ناکامیوں کے دوران اچانک ہماری ٹیم ایک فاتح ٹیم میں کیسے تبدیل ہوگئی ؟پروگرام میں تو چند منٹ کی گفتگو ہوسکتی ہے، یہ سوال

مگرتفصیلی تجزیے کے متقاضی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ ٹیم اور مینجمنٹ بڑے تحمل، دانش مندی اور انکسار کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ ان خیرہ کن کامیابیوں نے ان میں ہیجان پیدا نہیں کیا اور وہ سکون سے قدم بہ قدم آگے کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کی دو تین وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک تو ٹیم کا کپتان لوئر مڈل کلاس اخلاقیات لے کر چلنے والا ہے۔ انڈیا سے میچ جیتنے کے بعدا س کی ٹیم سے خطاب کی ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں اس نے فاتحانہ گرائونڈ کا چکر لگانے کے بجائے کھلاڑیوں کو اللہ کا شکر ادا کرنے اور درود پاک پڑھنے کی تلقین کی۔ مزے کی بات ہے کہ بابر اعظم کا رویہ اپنے شوخے، چھچھورے کزن عمر اکمل کے بالکل برعکس ہے۔والد کی تربیت ہے یا اس کا اپنا مزاج کہ اس میں نوجوانی سے متانت اور سنجیدگی غالب ہے۔ بابر کو کپتانی اپنی غیر معمولی کارکردگی اورتینوں فارمیٹ (ٹیسٹ، ون ڈے، ٹی ٹوئنٹی)میں پرفارم کرنے پر ملی ہے، اس کے لئے اسے سازشوں یا گروپنگ کا سہارا نہیں لینا پڑا۔ اسی لئے اس میں اعتماد دیدنی ہے۔ بعض دوسرے کپتانوں کے برعکس بابر نے ٹیم میں حفیظ ، شعیب ملک جیسے سینئر کھلاڑیوں کی شمولیت کی حمایت کی اور اپنے ذاتی دوستوں کو شامل کرانے کے لئے زور نہیں لگایا۔ ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ شاہد آفریدی یا بعض سابق سپرسٹار کھلاڑیوں کے برعکس بابر اعظم کے میڈیا میں ذاتی تعلقات نہیں۔ یہ سپورٹس رپورٹروں اور ٹی وی اینکرز

سے تعلق بنانے اور لابنگ کی طرف نہیں آیا۔یہ ٹرینڈ پوری ٹیم میں جھلک رہا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ڈریسنگ روم کی کہانیاں باہر نہیں آ رہیں اور ٹیم متحد ہے۔ کچھ کریڈٹ کوچنگ ٹیم کو بھی دینا چاہیے۔ ثقلین مشتاق ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں۔ ثقلین عالمی شہرت یافتہ سپنر ہیں،’’ دوسرا‘‘ جیسی حیران کن ورائٹی کے خالق۔ انہیں کوچنگ کا بھی خاصا تجربہ ہے، انگلینڈ کے علاوہ ویسٹ انڈیز اور بعض دوسری ٹیموں کی کوچنگ وہ کر چکے ہیں۔ ثقلین کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بھی میڈیا سے دور رہتے اور اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ مذہبی ہونے کے ساتھ ثقلین میں سنجیدگی اور تصادم سے گریز کا رجحان غالب ہے۔ ثقلین کی کوچنگ اور ٹھنڈے دل ودماغ کے اثرات ٹیم پر بھی نظر ا ٓرہے ہیں۔ ایک فیکٹر غیر ملکی کوچز کا بھی ہے۔ نامور آسٹریلین بلے باز میتھیو ہیڈن ٹیم کے بیٹنگ کوچ ہیں، ہیڈن نے اپنے کیریر میں بہت محنت کر کے ترقی کی اورنام بنایا۔ وہ بھی کام سے کام رکھنے والے کوچ ہیں۔ جنوبی افریقہ کے فلینڈر ٹیم کے بائولنگ کوچ ہیں، ایک جینٹل مین ، جو لڑنے جھگڑنے کے بجائے ہمیشہ اپنی بائولنگ پر فوکس کرتا رہا۔ ان سب کی مجموعی کوشش کا نتیجہ ٹیم میں یکسوئی، اتحاد اور میچورٹی کی صورت میںنظر آ رہا ہے۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ پاکستانی ٹیم ایک وننگ کمبی نیشن میں کیسے تبدیل ہوگئی؟ اس کا جواب آسان نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے پچھلے دو برسوںمیں

پوری کوشش کی کہ مختلف تجربات سے بیڑا غرق کیا جائے اور ایک ناپختہ، ناتجربہ کار ٹیم کو ورلڈ کپ کے لئے منتخب کیا جائے۔ اسے قدرت کی مہربانی سمجھیں یا حسن اتفاق کہ کسی نہ کسی طرح اچھی بیلنس ٹیم بن گئی ۔ مصباح الحق کو دو سال ملے اور وہ قومی ٹیم کے طاقتور ترین ہیڈ کوچ پلس چیف سلیکٹر رہے۔ انہوں نے بعض جرات مندانہ فیصلے کئے اور کئی نئے کھلاڑیوں کو موقعہ بھی دیا، مگر مصباح بھی اپنے بعض تعصبات کا شکار رہے اوران سے اوپر نہ اٹھ سکے۔ مصباح کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے بابر اعظم اور محمد رضوان کے اوپننگ کمبی نیشن کو آزمایا اور انہیں اعتماد دیا۔ اسی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی کی یہ کامیاب ترین اوپننگ جوڑی اس ورلڈ کپ میں غیر معمولی پرفارم کر رہی ہے۔ رضوان پر بہت سے لوگ تنقید کرتے رہے کہ یہ بنیادی طور پر اوپنر نہیں اور اسے نہ کھلایا جائے۔ رضوان کو کھلایا جاتا رہا اور اس کیلنڈر ائیر میں اس نے سب سے زیادہ رنز بنا ڈالے ، ففٹیوں کا ریکارڈ الگ ہے۔ مصباح الحق کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے شعیب ملک جیسے تجربہ کار مڈل آرڈر بلے باز کوبے رحمی سے نظرانداز کیا اور ضرورت کے باوجود ٹیم میں شامل نہیں کیا۔ یہ غیر منطقی اور غلط فیصلہ تھا۔مصباح، وقار اور پھر محمد وسیم سب یہ کہتے رہے کہ شعیب ملک ٹیم کے ورلڈ کپ پلان کا حصہ نہیں ہے۔ آخر کیوں ؟ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ

بھارت میں ہونا تھا، تب بھی شعیب ملک کو ٹیم میں ہونا چاہیے تھا کیونکہ سپن بائولنگ کو ملک سے اچھا کھیلنے والا پاکستان میں نہیں، امارات میں تو اسے لازمی کھلانا چاہیے ۔ شعیب ملک کو ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیلنے کا بہت تجربہ ہے، اس کی فٹ نیس شاندار اور فیلڈنگ مثالی ہے۔ ایسے تجربہ کار کھلاڑی کو ٹیم سے باہر کیسے رکھا جا سکتا ہے؟ورلڈ کپ بھیجنے سے پہلے ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئیں اور اس کی بڑی وجہ میڈیا، سوشل میڈیا اور سابق کرکٹرز کا دبائو تھا۔ بدقسمتی سے ان تین تبدیلیوں کے باوجود ملک کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ یہ تو اتفاق سے صہیب مقصود ان فٹ ہوگئے تو مجبوراشعیب ملک کو شامل کرنا پڑا۔ شعیب ملک کی ورلڈ کپ میں کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ وہ میچ وننگ پلیئر ہیں اور انہوں نے دو تین میچوں میں یہ ثابت کیا۔ بھارت کے خلاف ان کی باری ہی نہیں آئی، ورنہ وہ بھارتی سپنر کو عمدگی سے کھیلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ شعیب ملک کی کارکردگی دیکھتے ہوئے قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر کو ندامت سے استعفا دینے پر غور کرنا چاہیے۔ چیف سلیکٹر محمد وسیم نے ماضی میں بعض اچھے فیصلے کئے اور ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرنے والے سپنر نعمان ، زاہد محمود، ساجد خان ، سعود شکیل وغیرہ کو مواقع فراہم کئے۔ تاہم وہ کئی بار دبائو اور مصلحت اندیشی کا شکار رہے۔ اعظم خان کو ٹیم میں شامل کرنے کی کوئی تک نہیں تھی ۔ اعظم میں بڑے شاٹس کھیلنے کی صلاحیت ہے،

مگر اس کا بڑھا ہوا وزن اور فٹنیس اسے ابھی انتخاب کا لائق نہیں بناتی۔ وہ ڈیڑھ دو برس بعد اپنی فٹ نیس بہتر کر کے ٹیم میں آ سکتا ہے۔ اسی طرح پی ایس ایل میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے اور سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے شاہ نواز ڈاھانی کو ٹی ٹوئنٹی کے بجائے ٹیسٹ ٹیم میں شامل کرنے کی کیاوجہ تھی ؟ یہ ہر اعتبار سے غلط فیصلہ تھا۔ ڈھاانی کو ٹی ٹوئنٹی میں شامل کیا جاتا تاکہ وہ پرفارم کر کے ورلڈ کپ کے لئے آپشن بن سکتا۔اسے فرسٹ کلاس کرکٹ کے تجربہ کے بغیر ٹیسٹ کیسے کھلایا جا سکتا تھا؟ اسی طرح کی کئی غلطیاں ہماری مینجمنٹ سے ہوئی، پھر عین ورلڈ کپ سے پہلے ریگولر کوچزمصباح، وقاریونس ٹیم چھوڑ کر چلے گئے۔ اس سے بڑھ کر غیر ذمہ داری کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ان بحرانوں سے ٹیم نے دبنے کے بجائے پرفارم کرنے اور اپنے آپ کو منوانے کا فیصلہ کیا۔ کنڈیشن ان کے حق میں تھیں، امارات کی پچوں کا انہیں تجربہ رہا، سپنرز نے اچھی بائولنگ کرائی، ٹیم کے کمزور لنک حارث رئوف نے سب کو حیران کر دیا، اوپنرز نے بہت عمدہ کارکردگی دکھائی، آصف علی نے کمال کر دکھایا، حفیظ بھی فارم میں آ گئے اور ملک نے بھی خود کو منوایا۔ یوں مجموعی طور پر ٹیم کمبی نیشن ایسا بن گیا کہ فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ اللہ نے چاہا تو یہی ٹیم سیمی فائنل اور فائنل جیت کر قوم کو خوشی سے نہال کر دے گی۔

Comments are closed.