ایک سچا اوریادگار واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) آج کل جمہوریت پسندوں میں میاں نواز شریف کے بیانیے کا بڑا غلغلہ ہے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ جہاں تک اس بیانیے کا تعلق ہے میں خود اس کا کافی حد تک قائل اور مقلد ہوں۔ لیکن اب اس بیانیے کے باعث اگر کوئی میاں نواز شریف کو مجاہد ملت، جانبازوں کے

دستے کے سالار، جمہوریت کے قافلے کے قائد اور ملک کی آخری امید قرار دے کر ان کی بہادری، جانبازی اور دلیری کے جھنڈے بلند کرنے لگ جائے تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے۔ نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ 12اکتوبر 1999ء کا واقعہ ہے جب میاں نواز شریف نے بطور وزیراعظم جنرل پرویز مشرف کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کیا اور حکم دیا کہ اسے پی ٹی وی پر فوراً چلایا جائے۔ تب یوسف بیگ مرزا پی ٹی وی کے ایم ڈی تھے۔ اب پی ٹی وی نے دو تین بار یہ خبر چلا دی کہ جنرل پرویز مشرف کو برطرف کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ جنرل ضیاالدین بٹ کو نیا آرمی چیف مقرر کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم ہائوس کی اس خبر کے دو تین بار نشر ہونے سے تسلی نہیں ہو رہی تھی اور وہاں سے اصرار تھاکہ یہ خبر بار بار اور مسلسل نشر کی جاتی رہے۔ اسی اثنا میں آرمی کے دستے پی ٹی وی کی عمارت میں داخل ہو گئے اور انہوں نے وہاں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اسی دوران وزیراعظم ہائوس سے حسین نواز کا بار بار یوسف بیگ مرزا کو فون آ رہا تھاکہ آپ لوگوں نے جنرل پرویز مشرف کی برطرفی اور ضیاالدین بٹ کی تعیناتی کی خبر چلانا کیوں بند کر دی ہے۔ حسین نواز کو بتایا گیا کہ نیوز روم پر آرمی کا کنٹرول ہے۔ حسین نواز شریف نے کہا کہ پھر کیا ہوا؟ آپ ایم ڈی ہیں۔ خبر چلوائیں۔ اس پر

بیگ صاحب نے کہا کہ جناب! ان کے پاس ہتھیار ہیں اور وہ کسی کو قریب نہیں آنے دے رہے۔ اس پر حسین نواز نے ایک تاریخی فقرہ کہا: بیگ صاحب! یہ قربانی کا وقت ہے۔ آپ ان سے لڑ جائیں، کیا ہوا اگر وہ آپ کو شوٹ کر دیں گے، آپ اعلیٰ رتبے پر فائز ہو جائیں گے۔ دوسروں کو قربانی کے رتبے پر فائز ہونے کا درس دینے والے خود لندن میں ان فلیٹوں میں مزے کر رہے ہیں جو ان کی ملکیت ہی نہیں تھے اور قوم کو اپنے بیانیے پر قربان ہونے کی تلقین کی جا رہی ہے۔قوم کو بیانیے پر جان دینے کی ترغیب سے یاد آیا کہ میاں نواز شریف کے بیانیے سے تو شہباز شریف کو اتفاق نہیں ہے‘ یعنی پارٹی کے رہبر اور قائد کے بیانیے سے پارٹی کے صدر کو اتفاق نہیں۔ کیا مزے کی بات ہے۔ شہباز شریف اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف کے تابع فرمان بھی ہیں اور حکم کے غلام بھی۔ ان سے محبت کرتے ہیں اور بے پناہ احترام بھی۔ ان کی خاطر کئی بار اقتدار کی آفرز کو ٹھوکر بھی مار چکے ہیں اور ان کی سیاسی میراث کے آج کل امین بھی ہیں‘ یعنی مسلم لیگ ن کے صدر بھی ہیں‘ لیکن اپنی تمام تر فرمانبرداری اور احترام کے باوجود ان کے بیانیے سے ایک سو اسی ڈگری کا موقف رکھتے ہیں۔ اسی دوران شہباز شریف صاحب کی گرفتاری کا معاملہ بھی بڑا مزیدار ہے۔ انہوں نے اپنی درخواست ضمانت واپس لے لی تھی‘ جس کے

نتیجے میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ درخواست ضمانت واپس لینے سے مراد یہ ہے کہ مجھے اب باہر رہنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں اور اب میں برضا و رغبت اور بلا جبر و کراہ اپنی مرضی سے ج قید میں جانے کا خواہشمند ہوں‘ لہٰذا مجھے میری مرضی سے حوالۂ زنداں کر دیا جائے۔ یہی میاں شہباز شریف نے کیا ہے۔ میاں نواز شریف کے بیانیے کی مخالفت بھی نہیں اور حمایت سے بھی صاف بچ گئے ہیں۔ جلسوں کی سیریز سے چھٹی مل گئی اور بیانیے کے جھنجھٹ سے بھی آزاد ہو گئے۔ اب راوی چین لکھتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا میاں شہباز شریف واقعتاً اپنے قائد اور رہبر کی مرضی کے خلاف اپنی صوابدید کو استعمال کرتے ہوئے مفاہمت کی سیاست کرتے رہے ہیں؟ میرے خیال میں ایسا ممکن ہی نہیں کہ وہ مسلسل اپنی پارٹی کے قائد اور رہبر کے بیانیے سے بغاوت کریں اور ان کی پارٹی کی صدارت کی مسند بھی سنبھالے رکھیں۔ وہ بھائی کے بیانیے کے مخالف ہیں اور ان کی سیاسی میراث کے وارث اور امین بھی ہیں۔ ایک طرف ان کی جدل پر تلی ہوئی بھتیجی ہیں اور دوسری طرف مفاہمت کے علمبردار چچا ہیں۔ عوام احمق ہیں اور انہیں اس بیانیے پر قربانی کے لیے اکسایا جا رہا ہے۔ میں سیاسیات کا معمولی سا طالب علم ہوں۔ میرے ایک طرف میاں نواز شریف کا بیانیہ ہے اور دوسری طرف میاں شہباز شریف کا حیرانیہ ہے۔ عام آدمی کی طرح میں بھی بڑا کنفیوژ ہوں کہ کدھر جائوں؟ ایک طرف چار عشروں سے اقتدار کے مزے لوٹنے والے گھر کے اندر دو بھائیوں میں اس بیانیے پر اتفاق نہیں ہو رہا اور یہ چلے ہیں پوری قوم کو اپنے بیانیے کے نام پر بیوقوف بنانے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *