ایک سچا اور آنکھوں دیکھا واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار فضل حسین اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ایک صاحب گورنر ہائوس کے قریب باغ جناح میں پریشان بیٹھے تھے۔ ساتھی ہی نئے ماڈل کی مرسڈیز گاڑی کھڑی تھی۔ اسی دوران ایک چھوٹی گاڑی میں کوئی صاحب آئے۔ انکے قریب اجازت لے کر بیٹھ گئے۔

انہوں نے انکے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھتے ہوئے وجہ پوچھی تو ان صاحب کا کہنا تھا ، میں اس شہر کا امیر آدمی ہوں جو اسکی بڑی گاڑی سے بھی ظاہر ہوتا تھا۔ تو پریشانی کیا ہے صاحب! نئے آنیوالے نے دریافت کیا۔ امیر شخص نے بتایا کہ بیمار ہوں چیک اپ کرایا تو پتہ چلا سرطان میں مبتلا ہوں ۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے دو ماہ زیادہ سے زیادہ زندہ رہ سکتا ہوں۔ یہ کہتے ہوئے اسکی آواز بھرا گئی۔ آنکھوں میں پانی بھر آیا اور آخری فقرہ بڑی مشکل سے ادا ہوا۔ میں موت نہیں چاہتا۔ نووارد نے اسے تسلی دی اور ساتھ بیٹھ گیا۔ آپ موت کے منہ میں جاتا ہوا خود کو محسوس کر رہے ہیں۔ یہ دو الفاظ پڑھ لیا کریں۔ ’’یا اللہ یا سلام‘‘ بڑے صاحب نے ان الفاظ کو اپنا لیا ، وظیفہ بنا لیا۔ دو ماہ گزرے ، تیسرا مہینہ بھی آیا اور گزر گیا۔ یہ صاحب پھر ہسپتال گئے۔ ٹیسٹ کرائے تو مرض (سرطان ) کا نام بھی نہیں تھا۔ انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ان الفاظ کے ورد کو زندگی کا جزو لازم بنا لیا۔مسعود جمال صاحب اس واقعہ کو خصوصی طور پر چاغی کے لوگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ایٹمی تجربے کے بعد گردو نواح کے لوگوں میں سرطان کے اثرات نمودار ہو رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے اس معاملے پر کچھ لوگ طنز و تضحیک شروع کردیں ۔ ان کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے۔ یہ الفاظ یقیناً خیر کا باعث تو ہو سکتے ہیں۔ ان سے کسی منفی پہلو کے سامنے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ الفاظ کا یقیناًاثر ہوتا ہے۔ برسبیل تذکرہ : جاپان ہی میں ایک بڑے برتن میں چند قطرے آب زم زم کے ڈالے گئے تو سارے پانی میں آب زم زم کی خصوصیت پیدا ہو چکی تھی۔ یہ واحد پانی ہے جس میں غدائیت بھی تحقیق کے ذریعے ثابت ہو چکی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *