ایک صحافی کےسوال پر نامور عالم دین نے کیا حیران کن بات کہہ دی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) مولانا وحید الدین خان سے کسی نے پوچھا کہ حضرت یہ ثانیہ مرزا نیکر پہن کر ٹینس کھیلتی ہے تو بطور مسلمان عورت کیااُن کے لیے یہ لباس موزوں ہے ؟ مولانا نے جواب دیا کہ جب ثانیہ مرزا اُن سے اپنے لباس کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کے بارے میں پوچھیں گی

نامور کالم نگار یاسر پیرزادہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ تو وہ انہیں بتا دیں گے ،آپ ثانیہ مرزا کے لباس کے بارے میں فکر مند نہ ہوں۔کچھ باتیں طے شدہ ہیں مگر دہرانے میں کوئی حرج نہیں ۔ مثلا ًہر شخص کو اِس بات کی آزادی ہے کہ وہ اپنی رائے کا برملا اظہار کرے ، اسی آزادی کے تحت اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں ورزش کرتی ہوئی لڑکی یا کسی اشتہار میں رقص کرتی ہوئی عورت ہمارے مذہب اور اقدار کی عکاسی نہیں کرتی تو یہ رائے رکھنا اُس کا حق ہے بالکل اُسی طرح جیسے یہ متضاد رائے رکھنا کسی دوسرے شخص کا حق ہے کہ عورتوں کو اپنی مرضی کا لباس پہننے کی آزادی ہونی چاہیے ۔یہ بحث مگرعریانی کی نہیں شخصی آزادی کی ہے۔ جو آئین ہمیں اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے وہی آئین ہمیں شخصی آزادی بھی دیتا ہے۔ جھگڑا تب شروع ہوتا ہے جب کوئی فرد از خود شخصی آزادی کا دائرہ کار طے کرنے بیٹھ جائے اور دوسروں کو بتانا شروع کردے کہ اُس کی آزادی کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے ۔جدید معاشروں نے شخصی آزادی کی حدود کا تعین یہ کہہ کر کیا کہ ہر شخص اپنی ذات کی حد تک آزاد ہے بشرطیکہ اُس کی آزادی سے دوسروں کی آزادی سلب نہ ہو اورلوگوں کو کوئی گزند نہ پہنچے ۔ہمارے ہاں شخصی آزادی والا معاملہ اتنا سیدھا نہیں ۔یہاں قدامت پسند طبقے کا اِس بات پر پختہ ایمان ہے کہ ایک عورت کا

چست لباس میں سر عام پھرنا شخصی آزادی کے زمرے میں نہیں آتا، یہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، ہماری اقدار کے منافی ہے اور امر باالمعروف و نہی عن المنکر کے تحت بطور مسلمان ہمارا فرض ہے کہ اِس برائی کو ’ہر طریقے سے ‘روکیں۔اسی استدلال کے تحت جب ثانیہ مرزا نیکر پہن کر ٹینس کھیلنا شروع کرتی ہے یاکوئی اداکارہ شیمپو کے اشتہار میں پانی کے ٹب میں بیٹھی نظر آتی ہے توہمارے جذبات برانگیختہ ہو جاتے ہیں او ر پھر کہیں کوئی مردِ ناہنجار کسی کمسن بچی پر ظلم کرکے اُسےکھیتوں میں پھینک دیتا ہے ۔کیا یہ دلیل درست ہے ؟بائیس کروڑ آبادی کے اِس ملک میں کم از کم بیس کروڑ مسلمان تو ہوں گے ، اِن بیس کروڑ مسلمانوں میں نصف کے قریب عورتیں ہیں ، اگر یہ دس کروڑ مسلمان عورتیں آج تک اپنا بھلا براہی نہیں سمجھ پائیں اور ایک اسلامی ملک میں رہتے ہوئے انہیں اب تک یہ ہی پتا نہیں چل سکا کہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے انہیں کس قسم کے کپڑے پہننے چاہئیں ، ہماری اقدار کیا ہیں ، عریانی کسے کہتے ہیں ، عورت کا وقار کیا ہوتا ہے ،اس کی حدود کیا ہیں۔۔۔ تو اِس بات کی کیا ضمانت ہے کہ دس کروڑ مسلمان مرد وں پر یہ تمام تصورات واضح ہو چکے ہیں اور یہ دس کروڑ مرد صراط مستقیم پر ہیں؟جب ہم یہ دلیل دیتے ہیں کہ ایک عورت کا لباس جذبات کو برانگیختہ کرتا ہے۔اس سے معاشرے میں بے حیائی پھیلتی ہے جو باقی برائیوں کا

سبب بنتی ہے تو ہم دراصل شخصی آزادی کے تصور کورد کر رہے ہوتے ہیں اور اِس ضمن میں مذہب کو ڈھال بناتے ہیں جبکہ بیس کروڑ مسلمانوں کے اِس معاشرے میں یہ بات طے کرنا کہ کون سی بات امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے زمرے میں آتی ہے کسی فرد واحد کا نہیں بلکہ عوام کی منتخب پارلیمان کا کام ہے ۔اگر بیس کروڑ لوگ اپنے اپنے طور پر یہ طے کرنے لگ جائیںکہ برائی کیا ہے ۔عریانی کیا ہے ، کس عورت کا لباس غلط ہے اور کس کا شرعی اور پھر ایک دوسرے پر اپنی مرضی مسلط کریں تو لا محالہ اِس کا نتیجہ فساد فی الارض کی صورت میں نکلے گا ۔ویسے یہ عورتوں کے لباس والی دلیل بھی خوب ہے ، ایک طرف تو ہم مغرب کے لتے لیتے ہیں کہ وہاں عریانی اپنے عروج پر ہے ، برہنہ ساحل ہیں ، نائٹ کلب ہیں ، جذبات برانگیختہ کرنے کاپورا سامان ہے ، پھر کیا وجہ ہے کہ وہی ممالک عورتوں کے لیے سب سے محفوظ سمجھے جاتے ہیں!آنجہانی جنرل ضیا الحق کی حکومت میں کوئی بے حیائی نہیں تھی ، اسلامی سزائیں نافذ تھیں، اِس کے باوجود عورتوں سے ظلم کے واقعات میں کبھی کوئی کمی نہیں آئی ، الٹا جس عورت کے ساتھ ظلم ہوتا اسے بھی اسی جرم میں قید میں ڈال دیا جاتا کہ کم از کم اُس نے تو اعتراف ‘ کر لیا ہے ۔شخصی آزادی کا تصور بھی اب مسلمہ ہے ، ہمیں پسند ہو یا نہ ہو، اچھا لگے یا برے ،

جلد یا بدیر ہمیں اِس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہر مرد اور عورت اپنی مرضی کی زندگی گزارنے میں آزاد ہے، دنیا نے یہ جان لیاہے کہ مردوں کی طرح عورتیں بھی انسان ہیں ، ہر کام کرنے میں مختار ہیں اور مردوں کو اُن کی آزادی پر قدغن لگانے کا کوئی اختیار نہیں ۔ جن معاشروں نے یہ ماڈل اپنا رکھاہے وہاں عورت خودکو محفوظ سمجھتی ہے اور جن معاشروں نے جنرل ضیا والا ماڈل اپنایا ہوا ہے وہاں عورتیں ہجرت کرکے جانے کو تیار نہیں ۔اِس کا یہ قطعاً مطلب نہیں کہ مغربی ماڈل مثالی ہے ، وہاں شخصی آزادی کے اِس تصور کے منفی اثرات بھی سامنے آئے ہیں ، ہم لوگ دراصل انہی اثرات سے خوفزدہ ہیں ، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے بچے بچیاں مغربی رنگ میں رنگ جائیں، ہمارا یہ خوف بے بنیاد نہیں ہے ۔ اُن معاشروں میں جہاں بچیوں کے اسکولوں میں نویں جماعت سے مانع حمل کے بارے میں سمجھایا جاتا ہو تاکہ وہ کسی ’نا گہانی ‘ مشکل میں نہ پڑ جائیں ،وہاں پر رائج شخصی آزادی کے تصورات کو اپناتے ہوئے خوف تو محسوس ہوگا۔ اگر ہم اُس سمت میں نہیں جانا چاہتے تو پھر ہمیں معاشرے میں رائج گھٹن کو ختم کرکے اپنے بچوں کی تربیت ان خطوط پر کرنی ہوگی جن کی مدد سے وہ بڑے ہو کر عورتوں کو احترام کی نظر سے دیکھیں اورانہیں فقط جسمانی تسکین کا سامان نہ سمجھیں، پھر ہمیں ٹینس کھیلتی ہوئی عورت، بسکٹ کھاتی ہوئی خاتون اور ورزش کرتی ہوئی لڑکی بے حیا نہیں لگے گی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *