ایک صحافی کے ساتھ ملاقات میں جہانگیر ترین کی پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی نوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔چند ہفتے قبل ایک دعوت میں جہانگیر ترین کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کا موقع ملا تو لگا کہ ان کا دل اب تک پی ٹی آئی میں اٹکا ہوا ہے۔ شوگر کنگ کو اپنے اور گھر والوں کے خلاف مقدمات کے حوالے

سے مکمل طور پر بے فکر پایا۔ہاں مگر جب وہ اپنے اور اپنے گروپ کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو چہرے سے غیر یقینی جھلکنا شروع ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے وزیر اعظم عمران خان اور ان کے درمیان سب معاملات بالکل ٹھیک،بلکہ خوشگوار تھے، مگر کان بھرنے والے چند افراد کے ٹولے نے غلط فہمیاں پیدا کیں۔ ایک حقیقت پسند سیاستدان کی طرح وہ اعتراف کرتے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو خصوصا پنجاب میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا (اگرچہ یہ تب ہی ممکن ہے جب تمام سیاسی جماعتوں کو آزادی کے ساتھ الیکشن لڑنے کے لئے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں)۔ ایک بڑے صنعت کار کے طور پر ان کی باتوں سے ہرگز ایسا نہیں لگا کہ مستقبل قریب میں ملکی معیشت بہتر ہونے کا کوئی امکان ہے۔جہانگیر ترین کی اس وقت بھی اولین ترجیح یہی لگتی ہے کہ پی ٹی آئی والے پرانے اور سہانے دن واپس لوٹ آئیں۔ ان کا اب بھی یہی خیال ہے اگر عمران خان کے ساتھ فاصلے مٹ جائیں تو دونوں مل کر نہ صرف حکومت کو بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں،بلکہ پارٹی کو بھی بہت مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ وہ پی ٹی آئی کی موجودہ تنظیم کے حوالے سے عدم اطمینان کا اظہار کرتے رہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک الگ دھڑا بنانے کے باوجود وہ خود کو ابھی تک پی ٹی آئی کا حصہ ہی تصور کرتے ہیں۔ دوسری جانب ان کی پارٹی کے کئی وزرا سرعام کہہ رہے ہیں

کہ ترین صاحب پارٹی میں اب کہیں نہیں۔اسی نشست میں ایک موقع پر یہ سوال بھی زیر بحث آیا کہ کیا قبل از وقت عام انتخابات ممکن ہیں؟ وہاں موجود ایک وزیر نے جو وزیراعظم سے تازہ تازہ ملاقات کرکے آئے تھے، دلچسپ تبصرہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کو پروٹوکول کی علت لگ چکی ہے، وہ آخری دن آخری منٹ بلکہ آخری سیکنڈ تک یہ انجوائے منٹ کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔جہانگیر ترین گروپ پنجاب حکومت کے حوالے سے سنگین تشویش کا اظہار ہی نہیں کرتا، بلکہ بدعنوانی کے الزامات بھی لگاتا ہے۔ ان کی رائے ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت جاتے ہی نہ صرف بعض اہم وفاقی عہدیدار اور افسر بلکہ پنجاب کے اعلیٰ حکام بھی گرفتار ہوکرقید خانوں میں جائیں گے۔ جہانگیر ترین کو اس امر میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ ان کے گروپ کے ارکان کی تعداد موجودہ گنتی سے کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے۔ صرف ارکان اسمبلی ہی نہیں،بلکہ بعض وزرا بھی بھرے بیٹھے ہیں۔ان میں سے بعض کپتان کی پالیسیوں اور کارکردگی کے بارے میں اپنی ناپسند گی کا اظہار عوام کے سامنے کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ بظاہر مسئلہ یہی ہے کہ کسی کو اگلی منزل کا اندازہ نہیں۔خود جہانگیر ترین بھی تحریک انصاف سے ہٹ کر سوچتے ہیں تو تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں۔ہوسکتا ہے کہ ایک تو ان کو اپنے محدودات کا علم ہو اور دوسرے یہ کہ آگے کوئی اچھی آفر بھی موجود نہ ہو۔ اسی نشست کے دوران ایک موقع پر جہانگیر ترین نے کہا کہ

جنوبی پنجاب کے اہم سیاستدان پیپلز پارٹی میں شمولیت کے لئے بالکل تیار بیٹھے ہیں۔ انہوں نے نام لئے بغیر کہا کہ ایک بڑے سیاستدان چند روز میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوجائیں گے۔ کھانے اور غیر رسمی گفتگو کی یہ نشست آصف زرداری کے حالیہ ناکام دورہ لاہور سے قبل ہوئی تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ ترین نے جس بڑی سیاسی شخصیت کی پی پی میں شمولیت کی بات کی تھی وہ سردار ذوالفقار کھوسہ تھے۔جو سیاسی اور جماعتی طور پر مکمل فارغ ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی میں شامل نہیں ہوئے۔ کھوسہ ہی نہیں آصف زرداری کے اس دورہ لاہور کے دوران سابق وزیر اعلیٰ منظور وٹو نے ملاقات کرنے کے باوجود معذرت کرلی۔ مقامی سطح کے ایک سیاستدان اعجاز ڈیال نے بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا۔ زیر عتاب مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے بھی اس گروپ کی راہیں کشادہ نہیں۔ اس وقت اس بات کی تصدیق بھی ہوگئی۔ دیکھنا تو یہ ہے کہ ترین گروپ آگے کیا کرتا ہے۔ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنی منتقم مزاجی کے سبب اگلے عام انتخابات میں اس گروپ کے کسی ممبر کو ٹکٹ نہیں دیں گے۔سینئر سیاستدان اسحاق خاکوانی نے شرکا کو بتایا کہ کسی ایک پارٹی کو دوسری بار پانچ سال کے منتخب کرنے کی کوئی مثال موجود نہیں۔ان کی یہ بات بالکل درست ہے۔ کے پی کے میں صوبائی حکومتوں کے حوالے سے بھی یہی ریکارڈ تھا جسے پی ٹی آئی نے توڑ دیا۔ جہاں تک وفاقی حکومت کی بات ہے تو یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں

کہ مخالفین انتخابی عمل کے بعد قائم کی جانے والی اس حکومت کو غیر جمہوری اور ہائبرڈ قرار دیتے ہیں۔اس بات کو سچ مان لیا جائے تو ایسی حکومتوں کو دس سال مل ہی جاتے ہیں۔ ق لیگ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پارٹی ہوسکتی تھی مگر حالات پلٹا کھا گئے۔بینظیر بھٹو کی موت ، ججز بحالی تحریک اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جنرل مشرف پاک فوج کی کمانڈ چھوڑ چکے تھے۔2008ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ(ق)کو جتوانے کی تمام تیاریاں مکمل تھیں۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ترجیحات اپنے سابق باس سے مختلف تھیں۔ پولنگ ڈے سے چند روز قبل خفیہ ایجنسیوں سے انتخابی عمل میں کسی صورت مداخلت نہ کرنے کے احکامات ملے۔ عمل درآمد ہوتے ہی مشرف اور مسلم لیگ (ق) ہمیشہ کے لئے فارغ ہوگئے۔ سو ممکن ہے کہ ق لیگ کے ذریعے جو تجربہ کامیاب نہ بنایا جاسکا، اسے پی ٹی آئی کے ذریعے پھر سے آزمانے کی کوشش کی جائے۔ بہر حال اپنی رائے دینے کے بعد اسحاق خاکوانی نے کہا ہم سب کو مل کر کوشش کرنی چاہئے کہ سیاست اور انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کو روکا جائے۔پی ٹی آئی بنانے سے لے کر کے پی کے کی پہلی حکومت چلانے تک جہانگیر ترین نے مرکزی کردار ادا کیا۔ وزیراعظم عمران کے اردگرد موجود وزراء، غیر منتخب مشیروں اور سرکاری افسروں کا ٹولہ جہانگیر ترین کو ایک حد سے زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ خود وزیراعظم عمران خان کی پوزیشن بھی یہی ہے۔ جہانگیر ترین نے جانے انجانے میں جن کو ناراض کیا ہے۔ان کو منانے تک کوئی بڑا رول نہیں مل سکتا۔بہرحال اتنا ضرور ہے اگر کسی موقع پر موجودہ حکومت کے لئے حقیقی خطرات پیدا ہوئے تو جہانگیر ترین اور ان کا گروپ واقعی اہمیت اختیار کر جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *