ایک مشہور بزنس ٹائیکون نے لاہور کے ایک پولیس افسر کو اپنی سوسائٹی میں فارم ہاؤس کن چکروں میں بنوا کر دیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے کئی ماتحت و افسر کروڑوں کے اثاثوں کے مالک سی آئی اے کی پوسٹنگ کے دوران بن گئے ،ان کے اثاثوں کا پتا کروا لیں اور ان کے والدین کے اثاثوں کا بھی ۔۔۔جن کو قید میں ہونا چاہئے وہ دوسروں کی تفتیش کر رہے ہیں ،

نامور کالم نگا شیخ حماد اسلم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کسی ایماندار اور افسر سے انکوائری کروا لیں اکثر جرائم پیشہ عناصر کے پارٹنر نکلیں گے۔ ماضی میں بدعنوانی پر کمپرومائز ہوتا رہا ہے ۔ اصل میں کمپرومائز وہ کرتے ہیں جو خود کسی نہ کسی طرح کا حصہ ہوتے ہیں ۔ محترم سی سی پی او صاحب لوگ ہر چیز کو سمجھتے ہیں ۔بوڑھے چچا حوالدار نے بڑی راز داری سے بتایا کہ بڑے افسروں کی بدعنوانی کے بڑے طریقے ہیں ۔سرکاری بلڈنگوں ،پولیس لائنز ،تھانوں ، سرکاری رہائش گاہوں اور اپنے آرائش دفاتر کی محکمانہ مشینری وغیرہ کی خریدمن پسند ٹھیکیداروں کے ذریعے کر کے لوٹ مار بھی کر لیتے ہیں ،اپنی ایمانداری کا ڈھنڈورا بھی پیٹتے رہتے ہیں ،حال ہی میں تبدیل ہونے والے ایک افسر نے مشہور زمانہ پراپرٹی ٹائیکون کے منہ بولے بیٹے کے ذریعے اڑھائی ایکڑ کا فارم ہاﺅس اس کے ٹاو¿ن میں حاصل کیا ۔جولاہور کی لمبا عرصہ خدمت کرنے کے صلہ میں دیا گیا ہے ۔برائی کی جڑ بڑے افسرہیں جن کو آج تک نتھ نہیں ڈالی گئی ،لوگوں نے آپ سے امیدیں لگا لی ہیں ۔بدنام زمانہ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی انہی افسران کی خواہشات اور مالی ضروریات کے لئے ایک سے دوسرے تھانے میں بار بار تعینات کئے جاتے ہیں ۔جناب عالیٰ !صفائی کیجئے لیکن یاد رہے ،صفائی اوپر سے نیچے کی طرف ہو ،ورنہ پولیس محکمہ چند گندی مچھلیوں کی وجہ سے پولیس متبرک کام کو پولیس گردی کا نام دیا جاتا ہے ۔ (ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.