ایک معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) گندم ،گاہنے، والے ،پھلے، تو اب بالکل ہی مفقود ہو گئے ہیں۔ ہوش سنبھالا تو خواتین کو ہاتھ سے چلانے والی چکی سے گندم پیستے بھی دیکھا۔ ایک بیلنا کپاس سے روٹی اور بنولے الگ کرنیوالا بھی ہوا کرتا تھا۔ سویاں بنانے والی مشین’ گھوڑی اب نظر نہیں آتی۔

نامور کالم نگار فضل حسین اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ چرخہ کھڈیاں بھی قصہ پارینہ ٹھہریں۔ چرخہ نہ دیکھنے والے روٹی کی پونی اور دھاگے کی ’’اَٹی‘‘ سے بھی ناواقف ہونگے دمکڑہ اور تکلا بھی چرخے کے پارٹس ہیں۔ بڑیاں بنانے کا رواج بھی ختم ہو گیا۔گندم پیسنے اور چاول چھڑنے کی مشینیں خال خال تھیں۔خواتین گھروں میں جہاں چھوٹی سی چکی پر آٹا پیستیں وہیں چاول چھڑنے کے لئے لکڑی کا’چٹھو‘ ہوتا جس میں ایک کلو تک مونجی ڈال کر لکڑی کے چار پانچ فٹ کے موٹے ڈنڈے ’’مولھے‘‘ سے ایک’ ڈَ نگ’ کے چاول چھڑ لیے جاتے۔ چٹھو کا کام زمین میں چھوٹاسا سوراخ نکال کر بھی لیا جاتا ۔ چٹھو اوکھلی اورموہلا موکھلی کہلاتا ہےکبھی گندم اور چاول کی فی ایکڑ پیداوار دس بارہ من ہوتی اب جدید ذرائع ، بیج ، کھادوں اور ادویات کے استعمال سے یہی پیداوار پچاس ساٹھ من تک ہو جاتی ہے۔ بھارت میں 80 سے 90 من ہے۔ ہمارے ہاں باغات لگانے کا رحجان کم کم ہے۔پیپلز پارٹی کے آخری دور میں سی این جی سیکٹر نے بڑا عروج پایا۔ جس کا ایک پمپ تھا اس نے دس بنا لیے۔ اس سیکٹر کا زوال اسی دور میں سپریم کورٹ کی طرف نوٹس لینے ، قیمتیں کم کرنے سے شروع ہو گیا ، مسلم لیگ ن کی حکومت کے

دوران سی این جی سیکٹر پستیوں کی گہرائی میں چلا گیا۔ اب اگر کہیں سی این جی پمپ ہے تولُٹی دِلّی کی تصویر بنا ہوا ہے۔آج شوگر سیکٹر اور حکومت کے مابین یدھ نظر آ رہا ہے۔ حکومت ناکام ٹھہری تو چینی ساشوں، پڑیوں میں فروخت ہوا کریگی۔ حکومت نے اس سیکٹر کے اجارہ داروں کی بڑی بے ضابطگیاں پکڑی ہیں۔ یہ لوگ حکومت کے خلاف بلاامتیاز وہ حکومت میں ہیں، اپوزیشن میں یا غیر سیاسی ، سب یک جہت ہو گئے ہیں۔اگر حکومت کامیاب ہوتی ہے تو شوگر سیکٹر کی حالت بھی ماضی کی محصول چونگیوں ، جی ٹی ایس اور سی این جی سیکٹر جیسی ہو سکتی ہے۔ شوگر ملیں سی این جی سٹیشن ،کھراس، کنویں اور بیلنے کی طرح ہزار کوس پر کہیں نظر آیا کریں گی۔ شوگر ملز عوام کو سستی یا لاگت کے مطابق چینی دینے کو تیار نہیں۔ باہر سے سستی درآمد ہو سکتی ہے ،وہ بھی نہیں آنے دیتے ۔ چینی برآمدکر کے آج بھی نجی سیکٹر70 روپے میں فروخت کر سکتا ہے۔ عوام دوست ملز والے سو روپے کلو تک لے جانے کے لیے سرگرداں ہیں۔ کاشتکاروں نے گنے کی کاشت کم کر دی ہے۔ حکومت جہاں چینی کی درآمد کے لیے کوئی پالیسی لانا چاہتی ہے۔ اگر کاشتکاروں کو چینی خود بنانے کی حوصلہ افزائی کرے تو چینی کے بحران کا مستقل حل نکل سکتا ہے۔آج چینی 80نوے جبکہ گُڑ شکر ڈیڑھ سو روپے کلو ہے۔ گنے کی متبادل فصلوں کا کسانوں کو ابھی سے تعین کر لینا چاہئے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *